السبت, 09 أيار 2015 19:47

غزل : یامین چودھری

Rate this item
(0 votes)

غزل

یامین چودھری

 

گِلے شکوے مِٹاکر دیکھتے ہیں

 ذرا نزدیک آکر دیکھتے ہیں  

گھُٹن ہونے لگی اب تو صحن میں

 یہ دیواریں ہٹا کر دیکھتے ہیں  

تلاشیں بے غرض دنیا کہیں پر  

چلو بچپن میں جا کر دیکھتے ہیں  

نئی نسلوں کے خوابوں کی زمین کو

 سیاست سے بچا کر دیکھتے ہیں

 وہ خونریزوں کے شیشے کے گھروں پر

 کوئی پتّھر اُٹھا کر دیکھتے ہیں  

کِسی معصوم کی معصومیت کو

 درِندوں سے بچا کر دیکھتے ہیں

 وفاؤں کا اُنہیں ہے پاس کِتنا  

نظر اُن سے ملا کر دیکھتے ہیں  

اُجاڑی ہے جو بستی نفرتوں نے

 اُسے پِھر سے بسا کر دیکھتے ہیں

 تمہارے گیت میں اشعار اپنے

 ملا کر گنگنا کر دیکھتے ہیں

 

Read 2559 times

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.

Latest Article

Contact Us

RAJ MAHAL, H. No. 11
CROSS ROAD No. 6/B
AZAD NAGAR, MANGO
JAMSHEDPUR- 832110
JHARKHAND, EAST SINGHBHUM, INDIA
E-mail : mahtabalampervez@gmail.com

Aalamiparwaz.com

Aalamiparwaz.com is the first urdu web magazine launched from Jamshedpur, Jharkhand. Users can submit their articles, mazameen, afsane by sending the Inpage file to this email id mahtabalampervez@gmail.com, aslamjamshedpuri@gmail.com