الأحد, 30 حزيران/يونيو 2013 12:51

خوف کی آہٹ : ڈاکٹر ارشد اقبال Featured

Rate this item
(0 votes)

 ڈاکٹر ارشد اقبال 
 مرادآباد مسلم ڈگری کالج ،کٹگھر،مرادآباد244001 
 خوف کی آہٹ

 بانو ’’چپرچپر‘‘ کی آواز سن کر اٹھ بیٹھی اور بھوک سے پٹخاہوا پیٹ بے جان انگلیوں سے سہلانے لگی ۔
’’ اتنی رات گئے کیا کررہے ہو۔؟‘‘ 
’’نہیں بیگم !۔کم بخت خالی پیٹ نیند نہیں آتی ۔بھوک اور نیند کا گہرا رشتہ ہے۔‘‘
’’ہاں !ٹھیک کہتے ہو ۔میں گھنٹوں سے بھوک کی آگ میں جھلس رہی ہوں ۔‘‘
’’ہاں بیگم کچھ تو ہے۔‘‘
’’ مجھے اٹھا لیتے ۔لیکن ہنڈیا تو زید نے چاٹ لی تھی ۔تمہارے ہاتھ کون سی نعمت آگئی ۔‘‘
’’کچھ نہیں تھوڑے شکر کے دانے لیے ہیں ۔‘‘
’’افوہ ! میں نے سوچا تھا ۔صبح اٹھ کر زید کو شکر کے دانوں سے بہلادوں گی ۔‘‘
بانونے خاموشی اختیار کر لی مگر نیند سے بوجھل آنکھوں اور مایوس چہرہ کی سطح پر فکر نمایاں ہوگئی۔اختر نے ہاتھ کا نوالہ ڈلیا میں چھوڑ دیا ۔
’’لوبیگم! یہ کٹوری رکھ دو ۔اتنی شکر چھوڑدی ہے کہ دو پیالی چائے بن جائے گی ۔تھوڑی تھوڑی تقسیم کردینا ۔زندہ رہنے کے لئے کافی ہے۔آٹاتو ابھی ہفتہ عشرہ چل جائے گا نا۔‘‘
’’جی!چل جائے گا ۔مگر جب سے تمہاری نوکری چھوٹی ہے ۔زندگی جاگنے اور بھوکا رہنے کے فارمولے پر تقسیم ہوگئی ہے ۔‘‘
’’ تم ٹھیک کہتی ہوبیگم۔مگر افسوس صرف اس بات کا ہے ۔میں نے محنت مزدوری کرکے پوسٹ گریجویٹ کیا ۔پروفیشنل ڈگری حاصل کی ۔عارضی تقرری پر چار سال اسٹوڈنٹ پر خوب محنت کے باوجود مجھے ہٹادیا گیا۔آخر کیوں ۔؟‘‘ خالی گلاس رکھتے ہوئے اختر کا چہرہ تمتما گیا اور آنکھیں جلنے لگیں ۔‘‘
’’ تم نے معلوم نہیں کیا پرنسپل سے ۔؟وہ آپ کی محنت پر پانی کیوں پھیر رہاہے؟۔‘‘
’’معلوم کیا تھا بیگم !اس نے جواب دیا کہ مینجمنٹ کا فیصلہ ہے ۔کیوں کہ اسٹوڈینٹ آرٹ سائڈ سے پڑھنا نہیں چاہتے ۔اور چاہتے بھی ہیں تو ان کی دلچسپی دوسرے سبجیکٹ میں ہوتی ہے۔‘‘
’’یا اللہ ۔۔‘‘ بانو نے گہرا سانس کھینچا۔
’’مجھے لگتا ہے پرنسپل صاحب کی بات کسی حد تک صحیح ہے ۔کالج کا دوست بھی کہہ رہا تھا کہ میرا سبجیکٹ آج کے ترقیاتی دور میں بہت کمزور ہوچکاہے۔‘‘ 
’’ میں توشروع ہی سے کہہ رہی ہوں ۔تم نے اس پیشے میں ایک کمزور سبجیکٹ چنا ہے ۔آج سائنس اور ٹیکنالوجی کا زمانہ ہے ‘ہر کسی کو اپنے کیرئیر کی فکر ہے ۔تمہیں بہت پیار تھا اپنے سبجیکٹ سے ۔اسی کنزرویٹیو سوچ نے ہم سب کی روٹیاں چھین لی ۔پانچ مہینے کی فیس جمع نہ ہونے کی وجہ سے زید کا نام اسکول سے کاٹ دیا گیا ۔صبح شام پیٹ بھرنے کی فکر ہے ۔میں تو سوچ سوچ کے آدھی مر چکی ہوں ہوں ‘‘
’’لیکن بیگم !انسان اپنے نصیب کے سامنے بے بس ہوجاتاہے۔‘‘
’’تم اسی پبلک اسکول جاکر بات کیوں نہیں کرتے ‘جہاں پہلے پڑھا چکے ہو۔‘‘
’’دو دن پہلے زید کو ساتھ لے کر گیا تھا بیگم۔لیکن ڈائریکٹر صاحب نے بتایا فی الحال اسکو ل میں اسٹاف پلس چل رہاہے ۔نئے تعلیمی سال کے دو مہینے باقی ہیں ۔آپ نئے سیشن میں دیکھ لینا ۔‘‘ 
’’مگر آپنے اپنے بارے میں کچھ بتایا نہیں ۔طویل عرصہ سے بے روز گار ہو۔پائی پائی سے ترس گئے ہو ۔بچہ کا نام اسکول سے کاٹ دیا گیا ۔گھر میں راشن نہیں ہے ۔شاید ان کو رحم آجاتا ۔فی الحال دوسری جگہ پر فٹ کردیتے ۔تم نے کچھ تو کہا ہوتا ۔‘‘ اختر ،بانو کا چہرہ بغور دیکھنے لگا۔
’’ افوہ بیگم ! کیسی باتیں کرتی ہو ۔تم نے جوکچھ کہا ‘وہ میں پہلے ہی سے طے کرکے ڈائریکٹر صاحب سے ملا تھا اور بڑی عاجزی و انکساری سے سارے حالات بیان کیے تھے مگر انھوں نے صاف کہہ دیا ۔میرے سبجیکٹ میں اسٹاف پلس سر پلس چل رہاہے ۔جبکہ وہاں بھی وہی سوچ ہے ۔میراسبجیکٹ اسٹوڈینٹ پڑھنا نہیں چاہتے ۔‘‘
’’اس کے علاوہ دوسری بات نہیں ہوئی ۔؟‘‘ بانو کی آنکھوں میں خجالت جھانکنے لگی ۔
’’ نہیں بیگم !دوسری بات کیا کرتا ؟۔دراصل میری غیرت مجھے روک لیتی ہے ۔‘‘
’’ لیکن اس طرح تو ہم تل تل مرجائیں گے ۔تم نے بھائیوں کو بھی دیکھ لیا ۔کس طرح تماشائی بن گئے ۔‘‘ بانو جھنجلاگئی ۔
’’افوہ بیگم!کوئی تماشائی بنے یا ہم پر ہنسے ۔اس کی فکر کرنا بالکل چھوڑدو۔یہ زندگی کے تجربات ہیں ۔‘‘
’’پھر کیا ہوا؟۔‘‘ بانو آہستہ سے منمنائی ۔
’’جب میں ڈائریکٹر صاحب سے ،مصافحہ کرکے چلنے لگا تو انھوں نے انتہائی خاموشی کے ساتھ سوسوکے پانچ نوٹ زید کی مٹھی میں دبادئیے ۔میں من ہی من انکار کرتارہا ۔غیرت مجھے جھنجوڑتی رہی ۔مگر مجھے معلوم تھا۔کنستر میں ایک آدھ روٹی کا آٹا بچاہے ۔شکر نہیں تھی ۔دال مرچ مصالحے ‘سبھی کچھ ختم ہوچکاہے ۔واپسی میں انہیں روپوں سے آٹااور باقی سامان تھوڑاتھوڑا لے آیا تھا ۔‘‘
’’ قسمت نے ہمیں کہاں لاکر کھڑا کیا ہے ۔میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا ۔بساط بھر بھی پیسہ نہیں ہے ۔‘‘بانو کی آنکھیں بھیگ گئیں ‘اختر کا چہرہ ‘مزید مرجھا گیا۔
رات اپنا سفر طے کرچکی تھی اور دور سے آتی ہوئی اذان کی آواز سن کر اختر نے بستر چھوڑدیا ‘بانو کا جسم نیند کے دباؤ میں تھا مگر ذہن فکر اور الجھنوں کے الارم سے بیدار تھا ۔
’’ اب بیگم سونے کا وقت نہیں ہے ۔اُٹھ بیٹھو ۔اذان کی آواز آرہی ہے ۔ خدا کے حضور میں حاضری کا وقت ہے ۔وہی ہماری مشکل آسان کرنے والا ہے۔‘‘
’’تم کیسی باتیں کرتے ہو؟۔کیا میں دعا نہیں مانگتی ؟۔عبادت گزار نہیں ہوں ؟۔تم ہمیشہ پیر پھیلاکر سوتے ہواورمیری راتیں وظیفے پڑھنے میں گذرجاتی ہیں ۔امّی نے کئی عمل بتائے تھے ۔سو وہ بھی مکمل کرلیے مگر!۔‘‘ بانوچڑچڑانے لگی۔
’’لگتا ہے بیگم !کچھ زیادہ ہی مایوس ہونے لگیں۔زندگی سے مایوسی ‘انسان کے فیصلے کمزور کردیتی ہے اور زیادہ سوچنا بھی !ذرا دن نکل آئے ۔آج میں اس فیکٹری میں جاؤں گا جس میں کبھی مزدور بن کر کام کیا تھا ۔فیکٹری مالک مجھے دیکھ کر یقیناًخوش ہوگا ۔جب اسے یہ معلوم ہوگا کہ میں نے محنت مزدوری کرکے تعلیم حاصل کی ہے اور اور اسکول میں لیکچرر رہ چکا ہوں ۔مجھے پورا یقین ہے ۔فیکٹری میں کلرک کی ملازمت ضرور مل جائے گی ۔‘‘اختر کی بات سن کر ‘بانو کی آنکھوں میں بے جان خوشی جھانکنے لگی ۔
دھوپ پھیلنے کے بعد اختر فیکٹری جانے کے لئے تیار ہوگیا ۔تبھی زید دوڑا ہوا آیا ۔
’’پپا!میں بھی چلوں گا ‘آپ کے ساتھ ۔‘‘
’’ نہیں بیٹا ! میں بہت بڑے آدمی سے ملنے جارہاہوں ۔ملازمت کی بات کرنے ۔‘‘
’’ نہیں پپا!میں بھی چلوں گا ۔‘‘
’’ ضد نہیں کرتے بیٹا!اگر ملازمت مل گئی تو اسکول چلنا ۔اپنے ایڈمیشن کے لئے ۔‘‘
’’ نہ پپا! میں تو چلوں گا ۔‘‘ زید بلکنے لگا ‘شاید وہ بھی پڑھائی رکنے سے گھر میں پڑے پڑے اُکتاگیا تھا۔
’’ لے جاؤ ! چلتے وقت بچوں کا رونا ‘نحوس ہوتاہے ۔ویسے بھی گھر میں سارا دن جھاڑو کی سینکوں سے کھیلتا ہے ۔مجھ سے دیکھا نہیں جاتا اندر ہی اندر گھٹتی رہتی ہوں ۔‘‘بانو دوڑکر زید کے قریب آئی اور اسے گود میں بھر کر کلیجے سے لگالیا ۔
’’اسکول ڈریس میں کتنا خوبصورت لگتا تھا میرا بچہ ۔وللہ اعلم کس کی نظرکھاگئی ‘اس کی پڑھائی کو ۔‘‘اختر خاموش رہا اور بانو نے زید کو فوراً تیار کردیا ‘بیٹے کی انگلی پکڑکر اختر روزگار کی تلاش میں گھر سے نکل گیا لیکن دوپہر تک واپس نہ آنے کی وجہ سے ‘بانو بے چین ہوگئی ‘معاشی حالات خراب ہونے کے سبب ‘اس کے ذہن پر دباؤ بڑھنے لگا لیکن شام ڈھلنے سے قبل اختر بے جان قدموں سے گھر میں داخل ہوا تو گویا بانو کی ساری دولت لوٹ آئی ۔
’’اُفوہ ! کہاں گئے تھے ؟۔من میں عجیب خیال آنے سے میری آدھی موت ہوچکی تھی ۔‘‘ گوکہ اختر کا چہرہ مرجھایاہوا تھا لیکن زید کی آنکھوں سے غیر معمولی خوشی جھانک رہی تھی ۔
’’ کچھ نہیں ہوا بیگم !بس جھک مار کر آگیا ۔صبح سے اب تک فیکٹری مالک کے انتظار میں گذر گئے ۔کھڑے کھڑے ٹانگے لڑکھڑاگئیں کمبخت چوکیدار نے فیکٹری میں داخل ہونے نہیں دیا اور نمعلوم کیوں مجھے گھورے جارہاتھا ۔‘‘اختر کی بات سن کر بانو ‘زید کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس خوشی کی وجہ تلاش کرنے لگی جو زید کی آنکھوں میں نظر آرہی تھی ۔پھر اختر کا چہرہ بھی بے جان مسکراہٹ کے ساتھ کھلنے لگا۔
’’ارے بھئی !فیکٹری کے باہر پورا نادوست مل گیا تھا ۔جب اسے بتایا کہ میں لمبے عرصہ سے بے روزگار ہوں ۔بچہ پڑھائی سے بیٹھ گیا ‘گھر میں کچھ نہیں ہے ۔کسی کو اپنے حالات سناکر ملازمت مانگتا ہوں تولوگ میرے صاف ستھرے کپڑوں کو دیکھ کر یقین نہیں کرتے ‘اس لیے کہ میری باتیں من گڑھت و جھوٹی معلوم ہوتی ہیں ۔کسی کو میری آنکھوں میں چھپی غیرت نظر نہیں آتی ۔مایوس چہرہ پر ‘بے روزگاری کے رنگ دکھائی نہیں دیتے ۔‘‘اختر نے سر کو خفیف سا جھٹکا دے کر خاموشی اختیار کرلی پھر گھر میں کچھ دیر کے لئے سنّاٹا چھا گیا ۔
’’ تم نے دوست سے کہاہوتا ۔وہ اپنے اثر رسوخ سے کہیں لگوادے ۔‘‘
’’ ہاں بیگم ! کہہ دیا ہے ۔مگر وہ بہت افسوس کررہاتھا ۔زیدکا سن کر تو اس نے ماتھاپیٹ لیااور گود میں بھر کر بہت پیار کرنے لگا ‘مگر معلوم نہیں کب ؟۔اس نے زید کی جیب میں روپے رکھ دیے اور کان میں کہہ دیا ۔عید کے کپڑے لے لینا۔‘‘
’’نہیں !بالکل نہیں ۔عید کے ابھی بہت دن ہیں۔ایک ہفتہ سے پریشان ہورہی ہوں ۔’صرف ‘چٹکی بھر نہیں ہے۔میلے کپڑوں کا ڈھیر لگ گیا۔ہنڈیا کے لیے گھی ‘تیل ختم ہوچکا۔آٹادووقت کا رہ گیاہے ۔‘‘
’’اُفوہ بیگم! تم نے اتنا سامان بتادیا ۔جبکہ روپے صرف تین سو ہیں ۔‘‘بانو کے چہرہ پر یک دم اداسی چھاگئی ۔
’’ ٹھیک ہے ۔فی الحال مختصر لے آؤ ۔کیا تم فیکٹری مالک سے گھر پر نہیں مل سکتے ؟۔‘‘شاید بانو اس دوران کچھ سوچ کر بولی ۔
’’ ہاں بیگم!میں یہی سوچ رہاتھا ۔کل صبح گھر پر ملنے کی کوشش کرتا ہوں ۔لیکن ڈر ہے وہاں بھی چوکیدار سے واسطہ نہ پڑے اور وہ مجھے ٹرخادے ۔عموماً بنگلے کے گیٹ پر مسلسل تعیناتی سے چوکیدار کا مزاج ‘بورڈنگ اسکول کی وارڈن جیسا کھردرا ہوجاتاہے۔‘‘
’’ تم اسے مجبوری بتانا ۔شاید رحم آجائے اور ملاقات کرادے ۔‘‘ بانو خاموش ہوگئی اور کچھ سوچنے لگی ۔دریں اثناء اس کی نظر کئی مرتبہ اختر کے چہرہ پر رُکی اور ہٹ گئی ۔وہ کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اس احساس سے خاموش تھی کہ اس کا شوہر ایک غیرت مند شخص ہے مگر اختر‘بانو کی یہ کیفیت بخوبی محسوس کررہاتھا۔
’’بیگم !تم کچھ کہہ رہی تھیں ؟۔‘‘
’’ہاں !جب تم فیکٹری مالک سے ملنے جاؤ تو زید کو ساتھ لے جانا ۔‘‘گوکہ بانو کی خوابیدہ آنکھوں سے خجالت جھانک رہی تھی مگر کسی نمعلوم قوت نے اسے مجبور کردیاتھا ۔
’’ ٹھیک ہے بیگم!صبح زید کو تیار کردینا ۔‘‘اختر نے نظریں بچاتے ہوئے کہا مگر پاپا کی بات سن کر سینکوں سے کھیلتا ہوازید کھلکھلاکر اختر کے قریب آگیا ۔اس کی آنکھوں میں لالچ کی چمک‘ صاف نظر آرہی تھی ۔ 
’’پپا!میں بھی چلوں گا نا ‘آپ کے ساتھ۔‘‘
’’ہاں بیٹا ضرور چلنا ۔‘‘
’’ دیکھ لینا !انکل مجھے بہت سے روپے دیں گے ۔جب انہیں یہ معلوم ہوگا کہ میں بہت دنوں سے اسکول نہیں گیا ہوں ۔‘‘زید نے لالچ کے معصوم انداز میں کہا مگر اختر کا چہرہ یک دم خشک ہوگیا اور آنکھوں میں ایک عجیب خوف اُترآیا ۔وہ کبھی زید کو دیکھتا اور کبھی گھر کی درودیوار کو ‘وہ اپنے ظاہر و باطن میں غیر معمولی خاموشی محسوسکررہا تھا۔بانو کچن میں ہنڈیا بھون رہی تھی ۔اس نے پلٹ کر اختر کی طرف دیکھا اور غیرت مند شوہر کے وجود میں اٹھ رہا سنّاٹوں کا شور جیسے اسے سنائی دے گیاہو۔
’’تم پریشان کیوں ہوتے ہو؟۔جدوجہد کرتے رہو ۔مجھے امید ہے ‘ملازمت مل جائے گی ۔‘‘
’’نہیں بانو ! یہ بات نہیں ہے ۔تم نے زید کی بات نہیں سنی ؟؟؟۔‘‘
’’میں نے سن لی ہے ۔وہ ابھی بچہ ہے ۔‘‘بانو کے نرم وگداز لہجہ کی تھپکی سے اختر کا من ہلکا ہوگیا ۔وہ اگلے دن اسکولی انداز میں فیکٹری مالک کے گھر پہنچا اور آنکھوں میں ہلکی خوشی لیے دوپہر سے پہلے ہی گھر لوٹ آیا مگر بانواداس ہوگئی ۔
’’کیا ہوا؟لگتا ہے چوکیدار نے ملنے نہیں دیا ۔آپ کے جلدی آنے کی وجہ یہی ہوسکتی ہے۔‘‘
’’ نہیں بیگم! چوکیدار بھلا آدمی تھا۔اس نے میری بات غور سے سنی لیکن بار بار میرے سوٹ کو دیکھے جارہا تھا۔کیوں کہ انسان کا ظاہر حقیقت کو جھوٹا بنا دیتا ہے لیکن جن لوگوں کے دل درد مندوں کی آوازوں سے پگھل جاتے ہیں ‘ان کے ضمیر بھی ہمیشہ بیدار و با خبر رہتے ہیں ۔‘‘
’’افوہ! یہ سب کتابی باتیں ہیں ۔صرف یہ بتاؤ کہ ملازمت ملی یا نہیں ؟۔‘‘ بانو‘زید کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگی ۔جواباً زید بھی ہنسا۔
’’ نہیں بیگم !فیکٹری مالک سے ملاقات تو ہوگئی ۔وہ دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔میری تعریفیں کرنے لگے مگر ملازمت نہیں ملی ۔بوس دو ایک دن میں بزنس ٹورپر جارہے ہیں ۔وہاں سے آکر فیکٹری میں آفس مینجر کی پوسٹ پر رکھنے کا وعدہ کرلیا ہے ۔‘‘
’’مگر تم نے بتایا نہیں ؟۔جیب میں دو پیسے نہیں ہیں ۔زید کا سال خراب ہوگیا ۔گھر کی کیا حالت ہے۔دودھ والا تین مہینے سے تقاضہ کررہا ہے ۔‘‘ بانوکی پیشانی پر یک دم بل پڑگئے ۔
’’ہاں ہاں بیگم ! میں نے سب کچھ کہہ دیا ۔تبھی تو انھوں نے زید کی فیس کے لیے ہزارروپے فوراً دے دیے ۔انہیں زید کاسن کر بہت افسوس ہوا ۔کہہ رہے تھے ۔میرے آنے پر مل لینا۔‘‘
’’لیکن اتنے روپوں میں کیا ہوگا ؟۔چارسوروپے تو دودھ والے کو دینے ہیں ۔باقی روپوں کا تھوڑا تھوڑا سامان آجائے گا ۔اس کے بعد کیا ہوگا ؟۔‘‘بانونے ہاتھ جھٹکتے ہوئے کہا۔
’’ذرا صبرسے کام لو بیگم! نئے سیشن کے چند دن باقی ہیں ۔میں کل ہی اسکول کے ڈائریکٹر صاحب سے ملوں گا ۔وہاں تو سمجھو ملازمت یقینی ہے ۔انھوں نے وعدہ کیا تھا ۔‘‘اختر کی بات سن کر بانو کی آنکھوں کی چمک پل بھر میں لوٹ آئی ۔
’’ہاںیہ موقع ہاتھ سے مت جانے دینا ۔‘‘بانو جھٹپٹاکر بولی۔
’’اور سنوبیگم !صبح جلدی اٹھ کر نئی پینٹ کی کریزدرست کردینا اور ٹائی پڑے پڑے سکڑ گئی ہوگی ۔اسے بھی دیکھ لینا ۔اسکول کیا چھوٹا ٹائی کا استعمال ہی چھوٹ گیا ۔ڈائریکٹر صاحب کے سامنے گیٹ اَپ درست رکھنا پڑتا ہے ‘ورنہ گیٹ آؤٹ کردیتے ہیں ۔بہت اسٹک ہیں وہ ‘‘
بانوساری باتیں خاموشی سے سنتی رہی اور زید کو نہار تی رہی ۔
’’ میں یہ کہہ رہی تھی کہ جب اسکول جاؤ تو زید کو ساتھ لے جانا ۔ہمارا زید اتنا معصوم اور خوبصورت ہے کہ سبھی پیار کرتے ہیں ۔‘‘ بانو نے انتہائی دھیمے لہجہ میں کہا ۔اتنا سن کر زید کی بانچھیں بھی کھل گئیں لیکن اختر کے چہرے کی رونق ختم ہوگئی ۔وہ بہت دیر نہ جانے کیا سوچتا رہا ۔
’’ٹھیک ہے بیگم!تم کہتی ہو تو لے جاؤ گا لیکن میرے نزدیک یہ غیر مناسب ہوگا ۔‘‘ اختر کے جملے بھی اس کے چہرے کی طرح بجھے بجھے سے تھے اور آنکھیں جل رہی تھیں۔
’’آپ تو پریشان ہوگئے ۔میں صرف اس لیے کہہ رہی تھی کہ زید ہر وقت گھر میں رہنے سے اکتا گیا ہے ۔دن بھر سینکوں سے کھیلتا ہے یا کاغذ کے جہاز بناتاہے ۔آپ کے ساتھ جانے سے ذرا من بہل جائے گا ۔‘‘ بانوکی تھپکیوں سے اختر کی بے کیف طبیعت ہلکی ہوگئی لیکن ذہن پر دباؤبنے رہنے سے ‘وہ خاموش رہا اور اگلے دن جلدی اٹھ کر اسکول جانے کے لیے تیار ہوگیا ‘زید پہلے ہی تیار ہوچکا تھا ۔اختر پینٹ کی کریز چیک کرتا ‘زید کو ساتھ لیے بھاری قدموں سے اسکول کی جانب چل دیا لیکن چند ہی گھنٹوں بعد منہ لٹکائے واپس آگیا ۔بانوپریشان ہوگئی مگر زید کی آنکھوں میں وہی غیر معمولی خوشی دیکھ کر ‘اس کی پریشانی تو کم ہوگئی لیکن من بھاری بھاری ہوگیا ۔
’’کیا ہوا۔خاموش کیوں ہو؟ کیا ڈائریکٹر صاحب سے ملاقات نہیں ہوئی ۔‘‘ 
’’کچھ نہیں بیگم !ملاقات تو ہوگئی مگر ڈائریکٹر صاحب نے سوری کہہ دیا ۔‘‘
’’ایسا کیوں !انھوں نے تو وعدہ کیا تھا ‘نئے سیشن میں رکھنے کا ۔تم نے معلوم نہیں کیا ۔‘‘
’’ معلوم کیا تھا مگر ڈائریکٹر صاحب نے بتایا ۔نئے سیشن سے میرا ڈپارٹمنٹ ختم کردیا گیا ہے کیوں کہ طلبا کی دلچسپی نہ کے برابر تھی والدین خود آکر بچوں کے سبجیکٹ بدلوادیتے ہیں ۔اب ہم کیا کریں ۔‘‘اختر نے مایوس کن لہجہ میں کہا ۔
’’کیا اسکول میں دوسری جگہ خالی نہیں تھی ؟۔‘‘
’’ہاں ڈائریکٹر صاحب کہہ رہے تھے۔فی الحال اسکول میں انگریزی ‘جرمنی ‘فرینچ اور رشین زبان پڑھانے والوں کی سخت ضروت ہے اور سنا ہے بیگم ۔غیر ملکی زبانیں پڑھانے والوں کی تنخواہ بھی معقول ہوتی ہے یعنی دس بارہ ہزار ۔‘‘سن کر بانو جیسے اچھل گئی ۔
’’ سچ !پبلک اسکولوں میں اتنی تنخواہ ! کاش تم ان میں سے کوئی ایک جانتے تو دردرکی ٹھوکریں نہ کھانی پڑتیں ۔زید اسکول سے نہ بیٹھتا اب کیا ہوگا ؟لگتا ہے بچہ کا یہ سال بھی خراب ہوجائے گا ۔‘‘
’’نہیں بیگم !ڈائریکٹر صاحب نے ایک ہزار روپے دیے ہیں ۔زید کی نئی ڈریس اور کورس کے لیے اور اسکول میں فری ایڈمیشن ۔‘‘
’’سچ !لیکن گھر کا خرچ کیسے چلے گا ۔‘‘بانو کی آنکھوں میں خوشی اور چہرہ پر اداسی بیک وقت نظر آنے لگی ۔
’’گھبراؤ مت بیگم! سب ٹھیک ہوجائے گا ۔شام کو ایک اور جگہ جاؤں گا ۔مجھے امید ہی نہیں ‘پورا یقین ہے کہ منشی کا کام مل جائے گا ۔‘‘
اختر نے وثوق کے ساتھ کہا ،زید نے یک دم پلٹ کر اختر کی طرف دیکھا اور دوڑ کر گود میں بیٹھ گیا ‘بانو مسکرانے لگی ۔
’’ہاں پیٹ بھرنے کے لیے کچھ تو کرنا ہی پڑے گا ۔‘‘بانوکہتے ہوئے زید کو بغور دیکھنے لگی اور وہ بھی ہونٹوں میں مسکراہٹ دبائے ماں کو نہارنے لگا ۔
’’میں کہہ رہی تھی ۔شام کو اپنے ساتھ زید کو لے جانا ۔‘‘بانو نے بلا جھجکک کہا اور زید خوشی سے اچھل پڑا ۔


Dr. Arshad Iqbal 
4/F14- Kala Piyada,
Dist. Moradabad 244001 (U.P) 
M.No 09412838013

Read 2497 times

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.

Latest Article

Contact Us

RAJ MAHAL, H. No. 11
CROSS ROAD No. 6/B
AZAD NAGAR, MANGO
JAMSHEDPUR- 832110
JHARKHAND, EAST SINGHBHUM, INDIA
E-mail : mahtabalampervez@gmail.com

Aalamiparwaz.com

Aalamiparwaz.com is the first urdu web magazine launched from Jamshedpur, Jharkhand. Users can submit their articles, mazameen, afsane by sending the Inpage file to this email id mahtabalampervez@gmail.com, aslamjamshedpuri@gmail.com