الأحد, 30 حزيران/يونيو 2013 13:08

سترھواں حملہ : قمر قدیر ارم Featured

Rate this item
(0 votes)

 قمر قدیر ارم
 مہاراجہ ہریش چند ر پی جی کالج ، مرادآباد 244001 
 سترھواں حملہ 

 بینک میں برانچ مینجر کی پوسٹ کے لئے تحریری امتحان وہ پاس کر چکا تھا ۔ اور یہ تو اس سے پہلے بھی ہوا تھا ۔وہ جس ملازمت کے لئے بھی امتحان دیتا تما م مراحل سے کامیابی کے ساتھ گذر جاتا بس مسئلہ انٹرویو میں آکر اٹک جاتا ۔بلکہ اس کی تمام محنتو ں پر پانی پھر جاتا ۔
اس کی شناخت ‘اس کی کامیابی کی راہیں روک کر کھڑی ہوجاتی۔ پہلے پہل تو یوں ہوا کہ تحریری امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد جب وہ انٹرویو میں فیل کردیا گیا اس نے بھی روسی لوک کتھاؤ ں کے ہیروکی طرح یہ طے کرلیا کہ ‘۱۷ جوڑی جوتے گھسے گا اور محمود غزنوی کی طرح سترہ بار کمرکسے گا لیکن چار پانچ انٹرویو ہی دے کر اس کی کمر ٹوٹ گئی ۔نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ گھر کا اثاثہ ختم ہونے لگا ۔اور جب انٹرویودینے کی دھن نے اس کو کنگال کردیا تو اس نے قوم کے سرمایہ داروں تک اپنی آواز پہنچائی ۔اہل خیر حضرات سے مدد چاہی (لاکھوں روپے کی ہر سال زکواۃ ادا کرتے تھے )تاکہ وہ انٹرویومیں بیٹھنے کے لئے وسائل مہیاکرسکے ۔لیکن اسے یہ دیکھ کر سخت مایوسی ہوئی کہ ہر جگہ نمائشی فلاح نے ‘نام و نمود کی خواہشوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے ۔زکواۃکے روپوں میں اس جیسے حاجت مند کا کوئی نہ تھا ۔کہیں سے اسے جواب ملا ‘ یہ رقم تو دارالعلوم کی امانت ہے ۔کسی نے کہا کہ وہ مدرسے کو دینے کا وعدہ کرچکے ہیں ‘کسی نے عذرپیش کیا کہ مسجد کے مناروں پر رنگ و روغن کے لئے وقف ہے۔اس نے زکواۃکے اس ناقص نظام کے خلاف احتجاج کرنا چاہا تو اس کو ہر جگہ سے ملعون کیا گیا ۔قوم کے غصے اور طعنوں کا سامنا کرنا پڑا ۔مسجدیں اللہ کا گھر اور مدرسے مسلم معاشرے کی پہچان کہے گئے ۔تھک کر وہ اکثر سوچتا ‘کیا اس کی قوم کو کسی ڈاکٹر ‘انجینئر یا آفیسر کی ضرورت نہیں ہے ؟سائنس داں اور ٹیکنیشن کی ضرورت نہیں ہے؟ آخر وہ ان ٹھیکیدار وں سے کیسے نپٹے ۔جنھوں نے مذہب کو مسجد کے مناروں تک محدود کررکھا ہے ۔جو اس میں ہر دور میں در آنے والے ترقی کے تازہ ہوا کے جھونکوں کے لئے کھولی گئی ‘کھڑکیاں زبردستی بند رکھنے کے درپے ہیں ۔۔اسلام تو پوری کائنات کے لئے عین فطرت کے مطابق مذہب ہے ۔لیکن فطرت کے خلاف چلنے والے ان ذہنوں کا وہ کیا کرے ۔کیسے موجودہ صورت حال کے پیش نظر نئی حکمت عملی کی ضرورت کا احساس کرائے ۔؟ یہ محض اپنی ذاتی برتری کے لئے اسلام کی افاقیت کو فرقوں میں بانٹ کریہ مذہب کے ٹھیکیدارکون سا اسلام اور شرعی فرض ادا کررہے ہیں۔ ؟
اس کا تھکا ہوا بیزار ‘الجھالجھاذہن اس قوم پر بھی لعنت بھیجتا جو مذہب کی آڑ لے کر اپنی سیاست چمکانے والوں سے خوف زدہ ہوکر رہ گئی ہے۔وہ اکیلے تو اور کچھ بھی نہیں کرسکتا تھا سوائے لعنت ملامت کے ۔
اسی دوران اسے ایک انٹرویو کاکال لیٹر موصول ہوا۔ اس نے اپنے لکھنے پڑھنے کی میز کرسی اونے پونے داموں میں فروخت کرڈالی ۔مرادآباد سے لکھنو آنے جانے کا کرایہ جیسے تیسے مہیا کیا ‘اپنے پھٹے ہوئے جوتوں میں اَزسرنو پیوندکاری کرائی ‘قمیص کا پھٹاہوا کالرنکلوایا اور پرانے کپڑوں کے ڈھیرسے ایک نسبتاً بہتر پینٹ خرید لی ۔
انٹرویو کے کمرے میں داخل ہوکر ایک لمحہ کے لئے وہ ٹھٹھکا تھا ۔لیکن ان مراحل سے تو وہ پہلے بھی گذرچکا تھا ۔بیضاوی میز کے گرد سجے انجانے چہروں کی غیر جذباتی یک رنگی اس کے لئے نئی نہ تھی ۔
’’ آپ کا نام ‘‘ ؟ ہمیشہ کی طرح انٹرویو کا آغاز اسی سوال سے ہوا ۔
’’ ظہور حسین ‘‘ 
کیا مطلب اس کا ہے ؟‘‘ 
’’جی ؟‘‘ 
’’ تمہارے نام کا مطلب کیا ہے ۔؟‘‘ 
’’جی ۔حسین کا ظاہر ہونا ۔جلوۂ حسین ۔‘‘ 
’’ کیا آپ نماز پڑھتے ہیں ۔۔۔؟‘‘ 
’’جی ہاں ‘‘ 
چوبیس گھنٹوں میں کتنی نمازیں ہوتی ہیں ۔؟‘‘ 
’’پانچ ۔‘‘ 
’’نام بتائیے ۔‘‘ 
’’ فجر،ظہر،عصر،مغرب،عشاء ۔‘‘ 
’’ پہلی نماز کون سی ہوتی ہے۔؟‘‘
’’فجر کی ۔‘‘
’’کس وقت ۔؟‘‘ 
’’سورج نکلنے سے پہلے ۔‘‘
’’اور دوسری ۔‘‘ 
’’ظہر ‘‘ 
’’وقت۔؟‘‘ 
’’بارہ بجے کے بعد سے تین بجے تک ‘‘ 
’’اچھا یہ بتائیے ۔قرآن پڑھا ہے آپ نے ۔؟‘‘ 
’’جی ہاں ۔‘‘
’’اس کا کوئی بھاگ سنائیے ۔‘‘ 
’’ قُل ھُوَ اللّہُ اَحَد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔کُفُواًاَحَدْ۔‘‘


’’ آپ کو تو بڑی جانکاری ہے اپنے مذہب کی ۔؟‘‘ 
’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘ خاموشی 
’’اور ہمیں یقین ہے آپ نمازیں بھی پابندی سے پڑھتے ہوں گے ۔‘‘ 
’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘ خاموشی 
’’جب آپ ظہر کی نماز پڑھنے چلیں گے تو کیش باکس بند کرکے جائیں گے نا ۔؟ایسی حالت میں یہ نوکری کیسے کریں گے آپ ۔‘‘
اس نے ایک نظر جلتی ہوئی نظروں سے اِنٹرویوور کی طرف دیکھا اور اُٹھ کھڑا ہوا۔اُس کا پورا بدن لرز رہاتھا ۔جی چاہتا تھا اِتنی زور سے چیخے کہ یہ کریہہ منظر اس کی ضرب سے پاش پاش ہوجائے ۔بالکل اُس کے دل کی طرح ٹکڑے ٹکڑے ۔
بہ مشکل تمام اس نے صبروضبط سے کام لے کر قدم دروازے کی بڑھادئیے ۔وہ جلد از جلد اس جس بھرے کمرے کی حدود سے باہر چلا جانا چاہتا تھا۔
دروازے تک ہی پہنچاتھا کہ وہی مسلسل سوال کرتی ہوئی آواز عقب سے آکر اس کو جیسے بہرہ گونگا کرگئی۔اس کو محسوس ہواجیسے اس پر آج آخری حملہ ۔۔۔سترھواں حملہ ہواہے ۔جس سے ہمیشہ کے لئے اس کی ہمت کو نیست و نابود کردیا ہے ۔وہ آواز کہہ رہی تھی ۔۔
’’ دیکھا ۔۔۔۔کتنا فرقہ پرست تھا یہ ۔؟‘‘ 

Qamar Qadeer Iram
M.H.P.G College,
Moradabad-244001 (U.P)

Read 2616 times

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.

Latest Article

Contact Us

RAJ MAHAL, H. No. 11
CROSS ROAD No. 6/B
AZAD NAGAR, MANGO
JAMSHEDPUR- 832110
JHARKHAND, EAST SINGHBHUM, INDIA
E-mail : mahtabalampervez@gmail.com

Aalamiparwaz.com

Aalamiparwaz.com is the first urdu web magazine launched from Jamshedpur, Jharkhand. Users can submit their articles, mazameen, afsane by sending the Inpage file to this email id mahtabalampervez@gmail.com, aslamjamshedpuri@gmail.com