الأحد, 01 أيلول/سبتمبر 2013 19:49

سپنوں کا محل : عابد علی خاں Featured

Rate this item
(0 votes)

 عابد علی خاں 
 سپنوں کا محل

                       پارو نے جب سے ہوش سنبھالا خود کو کچرے کے ڈھیر پر ہی پایا تھا۔ وہ دِن بھر اپنی بڑی بہنوں کے ساتھ شہر کی سڑکوں اور گلیوں میں ننگے پاؤں گھوم پھر کرکاغذ ، گتّا،خالی بوتلیں، لوہے اور پلاسٹک کے ٹکڑے اور جو بھی اُسے مل جاتا وہ اپنے چھوٹے سے بورے میں بھر لیتی۔ شام ہونے تک جو کچھ بھی ہاتھ آجاتا اُسے کسی کباڑیئے کی دُکان پر فروخت کردیا جاتا۔ 
اِسی جدّو جہد میں اُس کا بچپن اُس کے ہاتھوں سے چھوٹ گیا ۔جیسے ہی اُس نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا ۔ اُس کے بابانے اُس کی شادی بھیکو نام کے ایک شخص سے کردی۔جو عمر میں اُس سے کافی بڑا تھا۔ بھیکو ریلوے لائن کے ساتھ ایک جھونپڑپٹّی میں رہتا تھا۔ 
شادی کے بعد اُسے کچرے کے ڈھیروں میں سے کچھ ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں تھی ۔ اب وہ کئی اچھے گھروں میں صاف صفائی کا کام کرنے لگی تھی ۔ اُس کا شوہر بھیکو کسی فیکٹری میں کام کرتا تھاوہ کام پر کم ،زیادہ تر گھر پر ہی پڑا رہتا ۔ 
پارو جس بستی میں بیاہ کر آئی تھی یہاں لوگوں کی زندگی جانوروں سے بھی بدتر تھی ۔ جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر اور کیچڑ کے گڈھے تھے ۔ جھونپڑیوں کے اِرد گرد بہت سی غیر قانونی فیکٹریاں اور کارخانے آباد تھے ۔ جہاں بے شمار نقلی چیزیں تیار ہوتی تھیں ۔ ان فیکٹریوں اور کارخانوں سے خطرناک جان لیوا دُھواں اور گیسیں نکلتی تھیں ۔ مگر اِس علاقے کے لوگ اِن ہواؤں میں سانس لینے کے عادی ہوچکے تھے ۔ 
یہاں پلنے والے مچھروں سے تو اُن لوگوں کی دوستی ہوگئی تھی ۔ مچھروں کے کاٹنے سے اُن پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا ۔ شاید اِسی لیے وہ بڑے مزے کی زندگی گزارتے نظر آتے تھے ۔ 
پارو کی جھونپڑی ریلوے لائن کے بالکل ساتھ تھی۔ یہاں ہر دو منٹ کے بعد ایک لوکل ٹرین گزرتی تھی ۔جس کا بے ہنگم شور اُسے کاٹنے کو دوڑتا ۔شادی کے بعد پہلے پہل تو اُس کے لیے یہاں گزارا ہوا ایک ایک منٹ بھاری تھا،وہ اُکتا جاتی تھی ، بے چینی اور بے بسی کی حد تک۔ کبھی تواُسے محسوس ہوتا ٹرینوں کا یہ شورو غل ایک دِن اُسے نگل جائے گا۔ پھر وہ دھیرے دھیرے اِن سب چیزوں کی عادی ہوتی گئی ۔
دِن بھر کام کرنے کے بعد پارو جب گھر لوٹتی تواُسے گھر کے سبھی کام بھی کرنے ہوتے تھے۔اُس کا شوہر بھیکو اُس سے ایک ایک پیسے کا حساب لیتا ۔پارو جو کچھ بھی کما کر لاتی اُس کی ہتھیلی پر رکھ دیتی۔ 
بھیکو رات کو بستی کے کئی آوارہ بدمعاش لڑکوں کے ساتھ تاش کھیلتا اور پھر دیر رات گئے شراب کے نشے میں دُھت گھر میں داخل ہوتا۔ کھانا مانگتا اور پارو سے جھگڑا کرتا۔ 
پارو کو اُس کی ان حرکتوں پر بالکل بھی غُصّہ نہیں آتا تھا کیونکہ یہ معمول اُس بستی کے سبھی مردوں کا تھا۔ اِس لیے وہاں کی عورتیں اپنے شوہروں کے ایسے ناز نخرے اُٹھانے کی عادی ہوچکی تھیں ۔ 
اِسی طرح دیکھتے ہی دیکھتے کئی سال گزر گئے ۔ اِس عرصہ میں اُن کے کوئی اولاد بھی نہ ہوئی ۔ مگر اب اُن کی مالی حالت پہلے سے کافی بہتر ہو چکی تھی ۔ اب پاروکو شہر کی کئی اچھی کوٹھیوں میں جھاڑو پوچھاکا کام مل گیا تھا۔ وہاں سے اُسے اچھے پیسے مل جاتے تھے ۔ 
پارو کی آمدنی میں اضافہ دیکھ کر بھیکو نے کام کرنا بالکل چھوڑ دیا تھا۔ وہ دِن بھر جھونپڑی میں آرام کرتا رہتا ۔ رات کودیر تک اپنے ساتھیوں کے ساتھ جوا کھیلتا ۔ 
اُس نے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ پارو کہاں کام کرتی ہے اور اُس کی تنخواہ کتنی ہے۔ اُسے تو صرف روپیوں سے مطلب تھا۔ پارو نے بھی اُسے زیادہ حساب دینا بند کردیا تھا ۔ وہ ہرروز اُس کے ہاتھ پر اتنے روپے دھر دیتی جس سے اُس کا دِن مزے سے کٹ جاتا۔ 
اب پارونے اپنے شوہرسے چھپا کرکچھ روپے بھی جوڑناشروع کردیئے تھے۔ وہ سوچتی تھی جب اُس کے پاس بہت سے روپے ہوجائیں گے ۔ وہ اِس گندی بستی سے نکل کر ایک اچھا سا مکان خریدلے گی اور آرام سے اپنی زندگی بسر کرے گی۔
دوسری طرف بھیکو کو بھی بھنک لگ چکی تھی کہ پاروچوری سے کچھ روپے بچا کر جھونپڑی میں کہیں چھپا دیتی ہے ۔ اُس نے پارو کے کام پر جانے کے بعد جھونپڑی کی تلاشی لینی شروع کردی تھی ۔ 
پھر ایک دِن اُسے وہ لفافہ مِل گیا جس میں ایک نوٹوں سے بھرا پرس اور کچھ قیمتی چیزیں رکھی تھیں۔یہ سب دیکھ کر وہ حیران تھا ۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ پارو کے پاس اتنے روپے کہاں سے آئے ۔ 
مگر اُسے یہ جاننے میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔بھیکو نے اُس لفافے کو اچھی طرح چیک کرنے کے بعد اُسی جگہ رکھ دیا۔ تاکہ پارو کو کوئی شک نہ ہو۔ پارو کے گھر لوٹنے پر بھیکو نے اُس سے کوئی سوال نہیں کیا۔ 
اُس دِن کے بعد بھیکو کے مزاج میں کافی بدلاؤ آگیاتھا۔ اب اُس نے پارو کے ساتھ لڑنا جھگڑنا بالکل چھوڑ دیا تھا۔ پارو بھی اپنے شوہر کے اِس رویئے سے بہت حیران تھی اور خوش بھی ۔ کئی بار پارو کو محسوس ہوتا کہ شاید اب بھیکو پہلے سے سدھر گیا ہے ۔ 
لیکن ایک روز اُس کا یہ وہم بھی ٹوٹ گیا جب رات گئے بھیکو شراب کے نشے میں دھت گھر میں داخل ہوا ۔ وہ شراب کے نشے میں اپنے کئی دوستوں کو گالیاں دے رہا تھا۔ پارو کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا ۔ اُس نے ایسی حالت میں بھیکو سے کچھ پوچھنا بھی ٹھیک نہیں سمجھا ۔لیکن اُسے اِس بات کا اندازہ تو ہوگیا تھا کہ ضرور کسی دوست کے ساتھ جھگڑا ہوا ہے ۔ 
وہ رات بھر بہت سی باتیں سوچتی رہی ۔ صبح ہوتے ہی اُس نے جب دیکھا بھیکو کافی دن چڑھے تک گہری نیند میں سویا ہے، تو اُسے بھیکو کی اِس بات پر بڑا غُصّہ آیا ۔ اُس کا جی چاہا کہ بھیکو کو بستر سے نکال کر کھڑا کر دیے اور پوچھے رات بھر وہ کہاں تھا اور اب دوبارہ اُس نے شراب کیوں پی ہے ۔ 
ابھی وہ انہیں خیالوں میں گم تھی کہ اُس کے کانوں میں بہت سے لوگوں کے چیخنے، چلانے کی آوازیں سُنائی دیں ۔ پارو نے جلدی سے باہر نکل کر دیکھا۔ جہاں کئی جھونپڑیوں پر لوگوں کا ازدھام جمع تھا ۔ ہر طرف عجب پُر اسرار گمبھیر سنّاٹا طاری تھا۔ کچھ گھروں سے لوگوں کے رونے ، چیخنے اور چلّانے کی آوازیں آرہی تھیں ۔ 
پارو کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا۔ اُس نے پاس سے گزرتے ہوئے کچھ لڑکوں سے پوچھا تو پتا چلا کہ رات گئے زہریلی شراب پینے سے بہت سے لوگوں کی موت ہوگئی ۔ 
یہ الفاظ سنتے ہی پارو کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی ۔ اُسے فوراً بھیکو کا خیال آیا ۔ وہ یکلخت پیچھے مُڑی اور بھیکو کے پلنگ کی طرف دوڑی ۔ 
وہاں بھیکو کی لاش پڑی تھی اور اُس کی جیب سے پارو کا وہی پرس باہر نکل رہا تھا جس میں پارو نے بہت سے روپے اُس سے چھپا کر جمع کئے تھے۔
پارو کے ذہن میں ایک دھماکہ ہوا ، اُس کے سپنوں کا محل ٹوٹ کر پاش پاش ہوگیااور وہ بھیکو کی لاش سے لپٹ کر بین کرنے لگی۔
***



Abid Ali Khan 
Sadewala, Maler, Malerkotla (Punjab)
E-mail : عنوان البريد الإلكتروني هذا محمي من روبوتات السبام. يجب عليك تفعيل الجافاسكربت لرؤيته.
Mobile : 098781-98938

Read 2400 times

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.

Latest Article

Contact Us

RAJ MAHAL, H. No. 11
CROSS ROAD No. 6/B
AZAD NAGAR, MANGO
JAMSHEDPUR- 832110
JHARKHAND, EAST SINGHBHUM, INDIA
E-mail : mahtabalampervez@gmail.com

Aalamiparwaz.com

Aalamiparwaz.com is the first urdu web magazine launched from Jamshedpur, Jharkhand. Users can submit their articles, mazameen, afsane by sending the Inpage file to this email id mahtabalampervez@gmail.com, aslamjamshedpuri@gmail.com