الإثنين, 30 أيلول/سبتمبر 2013 20:56

ماہنامہ : اُردو آپریشن (جھارکھنڈ) MONTHLY URDU OPERATION

Rate this item
(0 votes)


   بسم اللہ الرحمن الرحیم 


    عالمی پرواز کی ایک نئی اُڑان


    بین الاقوامی اُردو ادب کا اُردوپورٹل

فکشن 


کا


نیا

 
آسمان


ماہنامہ اُردو آپریشن (جھارکھنڈ)


شمارہ ۱ اکتوبر 2013ء

* سرپرست ڈاکٹراسلم جمشیدپوری


* مدیر خصوصی رضوان واسطی
* مدیر اعزازی جہانگیر محمد
* مدیرہ نغمہ نازمکتومیؔ 
* ترتیب مہتاب عالم پرویزؔ 


* زیرِاہتمام ’’ عالمی پرواز .کوم ‘‘
www.aalamiparwaz.com
عنوان البريد الإلكتروني هذا محمي من روبوتات السبام. يجب عليك تفعيل الجافاسكربت لرؤيته.     عنوان البريد الإلكتروني هذا محمي من روبوتات السبام. يجب عليك تفعيل الجافاسكربت لرؤيته.

 

شہرِآہن جمشید پور کے منفرد و معروف افسانہ نگار مہتاب عالم پرویزؔ کا افسانہ  بازگشت  قارئین کی نذر ہے..............

 

معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کا افسانہ " شہید ساز " قارئین کی نذر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔


معروف افسانہ نگار ابرار مجیب کا افسانہ ’’ اُبال ‘‘ قارئین کی نذر ہے........


ایک تحریک


اُردو آپریشن

 
افسانوں اور ناولوں کا آئینہ


اردو آپریشن میں ہر ماہ تین افسانے شائع ہوں گے۔ 
ہر افسانے کا آپریشن ماہرین کے ساتھ ساتھ قارئین بھی کریں گے۔ 
ہر سال دس بہترین افسانوں کو ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ 
آپریشن کے نکات
۱۔افسانے کا عنوان خراب ، اچھا ، نیا، بہت خوب 
۲۔افسانے کا موضوع خراب ، اچھا ، نیا، بہت خوب 
۳۔ افسانے کا بیان نیا ہے ، پرانا ہے، بالکل الگ ہے۔
۴۔افسانے کی زبان بہت خوب ہے۔ماحول کے مطابق ہے، بہت خراب ہے۔
۵۔کیا اس سے پہلے بھی آپ نے ایسا افسانہ پڑھا ہے۔دونوں میں فرق واضح کریں۔ ۶۔افسانے کی پانچ خوبیاں 
۷۔افسانے کی تین خرابیاں 
۸۔کوئی خاص بات(مثبت یا منفی ) جس نے آپ کو بہت متاثر کیا ہو۔


قارئین سے گذارش ہے کہ وہ کہانی پڑھ کر ’’ اُردو وآپریشن ‘‘ کے درج بالانکات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اپنے طور پر آپریشن کریں، کہانی کی خوبی اور خامی کو بے جھجھک لکھیں........

ادارہ

****

                    شہرِآہن جمشید پور کے منفرد و معروف افسانہ نگار مہتاب عالم پرویزؔ کا  افسانہ     بازگشت  قارئین کی نذر ہے..............


   بازگشت

 مہتاب عالم پرویزؔ 
 مکان نمبر ۱۱ کروس روڈ نمبر ۶ ۔ بی 
 آزاد نگر ، مانگو ، جمشید پور ۸۳۲۱۱۰
  جھارکھنڈ انڈیا
 E - mail عنوان البريد الإلكتروني هذا محمي من روبوتات السبام. يجب عليك تفعيل الجافاسكربت لرؤيته. 




                    *وہ شخص عجیب سی زندگی جی رہا ہے......... 
بیا باں کی گر م ہواؤں میں‘ بھٹکنے والے اُن مسافر وں کی طرح ‘ جس کے پاؤں سے لپٹی‘ تپتی رہگذر ‘ راہ گم کردہ منزلیں اور دور سُراب کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہو جیسے....... یاس اور آس کے ڈوبتے اُبھرتے صلیب پہ ٹنگا ہواوہ شخص‘ جس کی آنکھوں میں کبھی خواب ہی خواب تھے آج وہی آنکھیں اب کسی بھی ماحول کو سمجھنے سے قاصر ہیں........
                   وہ دیوار کی آڑ سے اپنی پُشت کو ٹکائے بالکل خاموش ہے۔اور یادوں میں گُمُ ہے......
                   اُس کی آنکھوں کے سامنے اُس کی ڈیڑھ سالہ بیٹی ارپناؔ مسلسل رو رہی تھی لیکن اُس وقت ارپناؔ کے آنسوؤ ں کی قیمت ادا کرنے وا لا شایدکوئی نہیں تھا.......یا پھر یہ آنسو اپنی قیمت پہلے ہی کھوُ چکے تھے۔ 

                   اور......... 
وہ شخص جس کی آنکھو ں میں پریتیؔ کی چتا جل رہی تھی۔جس کی آگ کی لپٹوں میں فساد کا سارا منظر جھُلس رہا تھا........
ہر طرف چیخ و پکار .......آہیں.......دم توڑتی ہوئی سسکیاں......آگ کی لپٹوں میں گھری دُکانیں.......گھر کے ملبے میں دبے ہوئے لوگ.......اور وہیں مجبور و نڈھال‘ بے بس اپنی جواں بیو ی اور ہوس پرستوں کا کھلمُ کھلا کھیل دیکھ رہا تھا.........
                  پریتیؔ اُن ہوس پرستو ں کے آگے اپنی ننگی چھاتیا ں تھامے اپنی عزّت کی بھیک مانگ رہی تھی....

پھر یہ آنسو اپنی قے قیمت قیمت پہلے ہی کھو چکے تھے۔  اور......... وہ شخص جس کی آنکھو ں میں پریتیؔ کی چتا جل رہی تھی۔جس کی آگ کی لپٹوں میں فساد کا سارا منظر جھُلس رہا ہر طرف چیخ و پکار .......آہیں.......دم توڑتی ہوئی سسکیاں......آگ کی لپٹوں میں گھری دُکانیں.......گھر کے ملبے میں دبے ہوئے لوگ.......اور وہیں مجبور و نڈھال‘ بے بس اپنی جواں بیو ی اور ہوس پرستوں کا کھلمُ کھلا کھیل دیکھ رہا تھا.....
                 جب اُس شخص کی آنکھوں نے اُن ہوس پرستوں کی شریانوں سے نکلتی ہوئی آگ کی لپلپاتی ہوئی زُبان کو دیکھا تو احتجاج کیا.......
                 لیکن .......
                 آوازیں دم توڑنے لگیں......
                 وہ سوچنے لگا کہ شاید آج پھر ایک اور پریتیؔ کو ننگا کیا جائے گا......اور تب ہی بے رحم وقت کے رگ و جاں میں دوڑتے گرم لہو کی آگ سرد ہو گی ............. 
                 آخر کب تک یہ بیٹیاں اسی طرح ننگی کی جائیں گی.....اور کب اس بے رحم وقت کا خاتمہ ہو گا.......
                 پھر ایسا ہی ہوا.......
               پریتیؔ ننگی کر دی گئی‘ اور بے رحم وقت نے بار باراپنی شریانوں کی آگ کو پریتی ؔ کے ٹھنڈے وجود میں سرایت کر دیا۔جس کی لپٹو ں میں پریتیؔ کا سارا وجود جھُلس کر رہ گیا......اور وہ وہیں ڈھیر ہو گئی......
                 وہ رات اُس کی زندگی میں ایک کالی رات بن کر آئی اور پل بھر میں اُس کی خوبصورت سی دنیا نذر آتش ہو گئی......
                 اوروہ پتھر کی مورت بنا دیکھتا رہا......اور قہقہوں کی بارش کے ساتھ سبھی لوٹ گئے.......
                 وہ شخص خود بھی اس آ گ میں جل جانا چاہتا تھا‘ لیکن معصوم ارپناؔ کی چیخوں نے اُسے زندگی کا احساس دلایا‘کہ زندگی بڑی انمول شے ہے.....اُس نے ایک پل اُسے دیکھا اور اپنے سینے سے بھینچ لیا‘ پھر پاگلوں کی طرح بے تحاشا اُسے چومنے لگا........
                جب آگ کی لپٹوں نے اُس کے وجود کو متاشر کیا تو وہ فرار کی راہیں ڈھونڈنے لگا.....اس لئے نہیں کہ اُسے آگ سے جل جانے کا خطرہ لاحق ہو‘ بلکہ اس وقت ارپناؔ ایک سوال بن گئی تھی......
                وہ بھاگنے لگا.......بھاگتے‘بھاگتے اس کے پاؤں شل ہوگئے‘ لیکن وہ پھر بھی بھاگتا رہا...
                باہر ایک شور تھا .......
                ہر طرف دھواں........ دھواں منظر...........گھر سے نکلتی ہوئی آ گ کی لپٹیں........چیخیں ..... ...سسکیاں .........آہیں........ اور دم تو ڑتی ہوئی زندگی.......اور اُس کے وجود سے چپکی معصوم ارپناؔ جو مسلسل روئے جا رہی تھی.......اور وہ شخص مسلسل بھاگ رہا تھا........اُس کی نگاہیں دور بہت دورکوئی ٹھکانہ تلاش کر رہی تھیں‘کوئی محفوظ سی جگہ جہاں وہ اپنی معصوم سی ارپناؔ کو چھپا سکے۔وہ معصوم ارپناؔ کواپنے سینے سے بھینچے بھاگ رہا تھا...... ہانپتا‘ کانپتا‘گرتا ‘ پڑتا.........اور پیچھے قد موں کی اُبھر تی ہوئی آوازیں لگا تار اُس کا پیچھا کر رہی تھیں ۔ ہرطرف زندہ گوشت کے جلنے کی بو بکھری ہوئی تھی۔ جس کے تعفن نے اُس کے اعصاب کو شل کر دیا تھا۔
               وہ بھاگتا رہا......... بھاگتے بھاگتے وہ شہر سے کچھ دور نکل آیا.........ہر طرف گھنگھور تاریکی تھی جو بوند بوند اُس کے نس نس میں اُترنے لگی تھی۔ویران اور اندھیرے کھڈ میں ارپنا ؔ کو اپنے سینے سے لگا ئے اُ سے چپُ کرانے کی مسلسل کوشش کر رہا تھا........
              چاروں طرف فضا میں ایک پُر اسرار آواز کی باز گشت آوارگی میں مبتلا تھی.........
              دفعتا دھماکے کی آواز ہوئی اور بے شمار پرندے آکاش کی وسعتوں میں پھیل گئے پھر سارا آکاش سرُخ ہو گیا۔جیسے ساری کائنات آگ کی لپٹوں میں سسک رہی ہو۔اُس نے ارپناؔ کو اور بھی کس کر اپنے سینے سے لگا لیا جیسے وہ اُسے ساری کائنات سے چھپا لینا چاہتا ہو۔پھروہ اُسے بے تحاشا چومنے لگا۔ بے تحا شا چومنے کے اس عمل میں اُس کی آنکھیں بھی پُر نم ہو گئیں۔ 
              وہ سوچنے لگا کہ یہ کیسی آگ ہے .....؟
              کیا آج ساری دنیا راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو جائے گی۔؟
              کیا گیتا کے اشلوک اب درد کی کہانیاں بیان کریں گے۔؟
              کیا بائبیل کی مقد س کتاب کے سارے الفاظ حرف حرف مٹا دئیے جائیں گے......
              اچانک ایک معصوم اور نازک ہاتھ کا لمس اُس نے اپنے کندھوں پہ محسوس کیا‘ یہ کوئی اور نہیں اُس کی معصوم ارپناؔ تھی جو روتے روتے اب سو چکی تھی.......
              بے اختیار اُس کے ہونٹوں سے نکلا ارپناؔ میری اپنی ارپناؔ اب میں تمہارے بغیر کیسے جی سکوں گا یا تو میرے بن یہ جلتی ‘ سُلگتی راتیں کیسے کاٹ سکے گی.......
              چیخ و پُکار......آہیں......اوردم تو ڑتی ہوئی آوازوں کاسلسلہ اب بھی جاری تھا......
              ا ور و ہ ایک اندھیرے ویران کھڈ میں معصوم ارپناؔ کو اپنے سینے سے لگائے سبکتا رہا......او ر سوچتا رہا سوچتے سوچتے اُس کی آنکھیں بھر آئیں اور دل آنسوؤں کے سیلاب میں ڈوبا ایک جزیرہ بن گیا..... 
ہائے.......یہ کیسی اجیرن سی زندگی ہے ۔شاید انسانیت زوال کے دہانے پر کھڑی ہے۔یا انسان نے حیوانیت ،درندگی اوربر بریت کے نقش پا کو ڈھونڈ لیا ہے۔
اُف یہ رات ہے یا ماتمی لباس میں میرے ہی ارماں۔؟
              یہ رات اُس کی بہت بے چینی میں گذری......کسی طرح آخر صبح ہو گئی.....اور گئی رات کی اس تاریکی میں اُس کا سب کچھ ختم ہو کر رہ گیا بس تھی تو اُس کی معصو م ارپناؔ جس کی آنکھیں اب بھی رو رہی تھیں.......جو شدید بخُار میں مبتلاء تھی.......
             فساد پر بہت جلد قابو پا لیا گیا تھا ۔سیاسی پارٹیوں نے جگہ بہ جگہ کیمپ لگا رکھے تھے۔ شہر کے ہر چھوٹے اور بڑے اسپتال میں فساد سے متاثر ہونے والے لوگوں کا جمگھٹ لگا ہوا تھا........
پولیس والو ں کی گشت جاری تھی.......
            لوگ باگ اپنے اپنے دلوں میں ایک عجیب سا خوف لئے ہوئے ایک دوسرے کو گھور رہے تھے.....جیسے ہر چہرہ ایک دوسرے سے خوف زدہ ہو۔پر وہی چہرہ مدد کا متمنی بھی تھا۔اور معصوم سی ارپناؔ کو دودھ کی بوند بوند نے رونے کا سلیقہ سکھا دیا تھا۔وہ اپنی خواہشات کا اظہار رو کر ہی کر رہی تھی.......
        معصوم ارپناؔ کے رونے کی آوازیں جب اسپتال کے ماحول میں گونجیں تو نادرہ ؔ کی دودھ بھری چھاتی میں درد ہونے لگا ۔چھاتی سے دودھ رسنے کی وجہ سے نادرہ ؔ کے بلاوز بھیگ گئے تھے۔
معصوم ارپناؔ کو مسلسل روتا دیکھ کر آخر نادرہؔ کا دل بھی رو پڑا۔نہ جانے کن جذبوں کی تسکین کی خاطر اُس نے ارپناؔ کو اپنے دودھ بھری چھاتی سے لگا لیا۔ارپناؔ اُس کی دودھ بھری چھاتی میں اپنا منھ لگائے بے تحاشا دودھ پی رہی تھی۔اُس وقت اُس عورت کی آنکھیں اشکبار ہو گئیں آنسووءں کی نمی اُس کے غم زدہ اور مر جھائے ہوئے چہرے کو بھگوتی رہیں........اور اُداسیوں میں مزیداضافہ ہوتا رہا۔
           یہ عورت کوئی اور نہیں اُس شخص کے پڑوس کی نادرہؔ تھی جو ان دنوں اسپتال میں زیر علاج تھی....اُس نے روتے ہوئے اُس شخص کو بتایا کہ گذشتہ شب میرے شوہر اور میرے معصو م بچے بھی فساد کی نذر ہوگئے۔اس وقت نادرہ اپنی چھاتی میں عجیب سا درد محسوس کر رہی تھی۔رات بھر دودھ رسنے کی وجہ سے ا’س کے بلاوز بھیگے ہوئے تھے اور آنکھیں تھیں کہ مسلسل روئے جا رہی تھیں۔ایسے میں ارپنا ؔ کو دودھ پلا کروہ نہ جانے کن جذبوں کی تکمیل کر رہی تھی۔
            اُسے روتا دیکھ کر اُس شخص کی آنکھیں بھی پُر نم ہو گئیں۔لیکن اس نمی کے اندر پریتیؔ کی چتا کی چنگاریاں بھی موجزن تھیں۔اُس شخص کی آنکھوں سے گرم گرم آنسوؤں کے قطرے ایسے اُمڈ رہے تھے جیسے اس کا وجود‘ وجود نہ ہوبلکہ ایک جوار بھاٹا ہوجو پھٹ کر کسی دہانے کی شکل میں اس کی آنکھوں کے ذریعے آنسوؤں میں تحلیل ہو رہا ہو۔
            اس شخص کے دماغ کے اندر توڑ پھوڑ کا عمل جاری تھا۔اور باہر مکمل سکوت چھایا ہوا تھا۔اس شخص کی آنکھوں سے اُمڈتے ہوئے گرم گرم آنسوؤں کا احساس پریتی ؔ کی یادیں اور ارپناؔ کی معصو میت اُسے زندگی کا احساس دلا رہی تھیں............
            وقت کے زخموں پرنادرہؔ کی ممتا بھری لوریاں مرہم بن کر وقتا فوقتا اُن زخموں کو مندمل کرتی رہیں ..................اور اُس کے دودھ بھری چھاتیوں کامیٹھا رس پی کر ارپناؔ سیراب ہوتی رہی۔شایدوہ دونوں ایک دوسرے کے لئے زندگی کا جواز بن گئے ہوں۔
             اور ادھر وہ شخص پاگلوں کی طرح مارا مارا پھرتارہا۔
             وہ شخص جس کی آنکھوں میں کبھی خواب ہی خواب تھے آج وہ شخص مر کز کی تلاش میں دائروں کا چکر لگا رہا تھا۔ 
             بیاباں کی گرم ہواؤں میں بھٹکنے والے ان مسافروں کی طرح جن کے پاؤں سے لپٹی تپتی رہگذرراہ گم کردہ منزلیں،اور دور سُراب کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہوجیسے۔ 

             یاس اور آس کے ڈوبتے اُبھرتے صلیب پہ ٹنگا ہوا وہ شخص جس نے اپنی زندگی کے۱۷ سال اُن المناک حادثوں کے بعد یوں ہی کاٹ لئے تھے اچانک ارپناؔ کو دیکھ کر وہ تھم جاتا تھاجیسے دائروں کا سفر مکمل ہو گیا ہو۔ وہ شخص جب بھی ارپناؔ کو دیکھتا اُس کی آنکھیں سلگ اُٹھتیں،گھور گھور کر ارپناؔ کے سارے خدوخال کو دیکھتا اور دیکھتا ہی رہتا۔ 
             ارپناؔ سہم سی جاتی۔پر نادرہؔ اس کے اس ڈر کو یہ کہہ کر ختم کر دیتی کہ تم اُن کی ہی بیٹی ہو زیباؔ ..........
             اور یہ بات ایک زندہ حقیقت بھی تھی..........
             لیکن ...........نہ جانے کیوں اُس شخص کی آنکھیں زیباؔ کو کسی اور ہی خوف کا احساس دلایا کرتی تھیں..........
             زیباؔ اب یہ محسوس کرنے لگی تھی کہ اُس شخص کی آنکھیں بارہا میرا تعاقب کیا کرتی ہیں........... اکثر راتوں کو زیباؔ کی نیندیں اُچٹ جایا کرتیں۔اور وہ ایک چیخ کے ساتھ اُٹھ جاتی۔
             ایسے وقت میں نادرہؔ اُسے اپنے سینے سے لگا لیتی اور اُسے اپنی موجودگی کا احساس دلاتی۔
             نادرہؔ ، ارپناؔ کو زیباؔ کہہ کر پکارا کرتی تھی۔ اُس نے اپنی چھاتیوں سے ایک ایک بوند پلا کر ہی تو سیراب کیا تھا۔اور آج بھی اُسے اپنے سینے سے لگا کر کہتی زیباؔ بیٹے اس طرح نہیں ڈرا کرتے میں تو تمہارے پاس ہی ہوں۔
             لیکن ...........ماں............دیکھ باپو کی آنکھیں کتنی سلگ رہی ہیں............
             میں تم سے کتنی بار کہہ چکی ہوں۔وہ تمہارا باپو ہے۔اور بھلا کوئی اپنے باپو سے بھی ڈرتا ہے۔اس طرح نہیں ڈرا کرتے بیٹے.............
             اور ............ادھر وہ شخص اب ویرانوں کی بجائے آس پاس کی تنگ گلیوں میں،اور سڑکوں میں پھرنے لگا تھا............
           اب زیادہ تر اُس کی راتیں نادرہ ؔ کی ہی گلیوں میں گذرنے لگی تھیں...............
             ان ہی گلیوں سے اُس کی ڈھیر ساری یادیں وابستہ تھیں.................
             گذشتہ اُ س کی بے خواب سی کئی راتیں کسی کے انتظار کی طرح کٹ رہی تھیں...........آنکھیں لگتیں اور کھل جاتیں.......جیسے خواب بنتے بنتے بکھر گئے ہوں...........اُسے کئی دنوں سے یہ محسوس ہو رہا تھاجیسے اُس کی کوئی چیز کہیں کھو گئی ہو۔ جس کی کمی کا احساس ایک خلاء کی طرح اُس کے اندر.........بہت اندر تک پھیل گیا تھا..........اُس کی آنکھیں سلگ رہی تھیں۔جیسے وہ مسلسل کئی راتوں سے جاگ رہا ہو 
نادرہ ؔ بھی محسوس کرنے لگی تھی کہ ان سترہ سالوں میں وہ شخص اب کچھ تبدیل ہوتا جا رہا ہے........اُس کی ویراں ویراں سی آنکھیں شاید کسی کو تلاش کرتی ہیں........زیبا ؔ کے چہرے کو دیکھ کر وہ اپنے اندر کیا محسوس کیا کرتا ہے۔ جس کی گہرائی تک پہنچ پانا نادرہؔ کے لئے بھی مشکل ہوتا محسوس ہو رہا تھا۔
          ادھر زیبا ؔ بھی اپنے اندر خوف کا ایک طوفان لئے بیٹھی تھی۔وہ بارہا نادرہؔ سے اُس شخص کی گھورتی اورسلگتی ہوئی آنکھوں کا ذکر کیا کرتی......
اور نادرہؔ اُ س کے اس خوف کو اس ڈر کو باپ اور بیٹی کے رشتوں کا احترام کہہ کر ختم کر دیتی.........
باتیں ہوئیں اور ختم ہو گئیں..................
            لیکن اُ س شخص کی بڑھتی ہوئی تبدیلیوں نے سب سے پہلے اُس کی سوچ کو متاثر کیا تھا ۔ زیبا ؔ کا چہرہ اسے پریتیؔ کی یاد دلایا کرتا تھا ۔ اور وہ اضطرابی کیفیت سے دوچار ہو جاتا ۔ زیبا ؔ کو دیکھ کر اسے یوں محسوس ہوتا کہ جیسے کوئی گناہ اس سے سرزد ہو جائے گا ۔ 
            پر ایک بات اور تھی جس کا اثر اس کے ذہن پر اُ ن سانحوں سے زیادہ المیہ انگیز تھا ۔ وہ محسوس کرنے لگا تھا کہ نادرہؔ کے مذہبی ماحول کی چھاپ زیبا ؔ کو اثر انداز کر رہی ہے زیبا ؔ کے طور طریقے پریتی ؔ سے بالکل مختلف تھے اس کی یہ تبدیلی اس کے اندر ہی اندر اترنے لگی تھی ۔ 
        نادرہ ؔ کے مذہبی رسم ورواج ..... مذہبی باتیں اور اسلامی پابندیاں ۔ ارپنا ؔ کو زیباؔ کہہ کر پکارا جانا ..... 
دفعتااس کے اندر کا جوار بھاٹا پھٹ پڑا ۔ میں ایسا ہر گزہونے نہیں دوں گا ۔ اور وہ وحشی شخص جس کی آنکھوں میں سترہ سالوں سے پریتیؔ کی چتا کی چنگاریاں موجزن تھیں۔آج پھر سلگ اٹھی تھیں۔
          اور پھریہ رات نادرہ ؔ کی زندگی میں اُن کالی راتوں سے کہیں زیادہ المیہ انگیز ہو گئی۔ 
            وہ اندھیروں میں ڈوبی ہوئی ایک رات تھی.........
دفعتاوہ شخص نادرہ ؔ کے وجود پر چھاتا چلا گیا ۔ رات کے اندھیرے میں جب اُ س شخص کے سانسوں کی رفتار نارمل ہوئی تو زیبا ؔ کی چیخیں رات کی پر اسرار شاہراہوں کو اور بھی پر اسرار کر گئیں ۔ جس کے ساتھ ہی بے شمار پرندے               آکاش کی گھنگھور تاریکیوں میں پھڑ پھڑانے لگے ۔ 
          وہ اپنے مقدس رشتے اور خدا کے خوف کا احساس دلاتی رہی مگر جب زیبا ؔ کی چیخیں اور سسکیاں اس شخص کی سماعت سے ٹکرائیں تو وہ شخص اور بھی و حشی، درندہ ہو اٹھا ۔ 
            پھر دور جیسے کسی بھیڑےئے کے قہقہوں کا شور بلند ہوا۔ قہقہوں کے اس شور میں وہ شخص چلا چلا کر کہہ رہا تھا دیکھو ،دیکھو آخرمیں نے انتقام لے ہی لیا ۔ 

           دور بہت دور سے کہیں گیتا کے اشلوک درد کی کہانیاں بیان کر رہے تھے ۔ شاید بائبیل کی مقدس کتاب کے سارے الفاظ حرف حرف مٹ گئے تھے ۔آکاش پھرپھڑاتے ہوئے پرندوں سے ڈھک چکا تھا ۔ .
تو کیا اب کل کا سورج کبھی طلوع نہیں ہو گا۔؟

()()()()()

مہتاب عالم پرویزؔ 
مکان نمبر ۱۱ کروس روڈ نمبر ۶ ۔ بی 
آزاد نگر ، مانگو ، جمشید پور ۸۳۲۱۱۰
جھارکھنڈ انڈیا
E - mail عنوان البريد الإلكتروني هذا محمي من روبوتات السبام. يجب عليك تفعيل الجافاسكربت لرؤيته. 


****

 فنِ افسانہ نگاری تخلیقی تنقید اور خلاصہ

  جاوید اختر 

                 *اُردو ادب میں افسانہ کی تخلیق اِس کی وجودیت اور اس کی تعریف ابھی تک غیر واضح اور مشکوک ہے افسانہ کی تعریف اور تشریح ہماری پرائمری اسکول کے استادوں اور یونیورسیٹی کے پروفیسر وں اور ڈا کٹروں کے ذریعہ ہوتی آئی ہے اور ہو رہی ہے با لکل نہ مناسب اورمضحکہ خیزہے تعجب اور حیرت انگیز ی بھی کہ بڑے بڑے پروفیسروں بڑے بڑے ادبی ڈاکٹروں ناقدین منٹو ،عصمت ،واجدہ تبسم ،بیدی ، اوراشک کے افسانوں پر موٹی موٹی کتابیں لکھنے والے اتنے سطحی اور معمولی ذہن کے مالک ہیں کہ افسانہ کی تعریف نہیں لکھ پاتے پھر وہ اپنے پست اور قاصر ذہن کا اقرار کیوں نہیں کر لیتے کہ افسانہ نگاری ایک ایسی پیچیدہ اور غیر معمولی صلاحیت کی حامل ہے جس کی تخلیق افسانہ نگار کی غیر معمولی ذہانت اور ادبی الہامی کیفیت کے سبب وجود میں آتی ہے جس کا بیان لفظوں اور جملوں میں کرنا ایک غیر تخلیق کار کیلئے نہ ممکن سے بھی نہ ممکن ہے۔
کاش کے منٹو سے پوچھا ہوتا کہ افسانہ نگاری کیا ہے ۔تو ہمارا افسانوی اُردو ادب اتنا غریب نہ ہوتاوہ ’’کھول دو ‘‘کی افسانوی نشیب و فراز کھول دیتا ’’ بو ‘‘کی طرح پرفیوم اور پسینے کی افسانوی مہک اور خوشبوں کی نفسیات بیان کر دیتا ’’ ٹھنڈاگوشت ‘‘ کی طرح افسانے کا ڈائیگنوسس کردیتا اور ’’ ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘کی طرح سیاسی نفسیات کی عالمی وسعت بتا دیتا۔ اگر سعادت حسن منٹو ابھی تک بہ حیات ہوتے تو ہمارے نقادوں اور ڈاکٹروں کی ادبی صلاحیت پر سوائے ماتم کے اور کچھ نہیں کررہے ہوتے۔
زبان تخلیق کار کی مُحتاج ہوتی ہے اور ایک غیر تخلیق کا ر زبان کا مُحتاج ہوتا ہے ایک ادیب اور شاعر کا علم آسمانوں کی سی لامحدود عالمی وسعت رکھتا ہے لیکن ایک غیر ادیب اور شاعر زبان کی محدود حصار میں قید رہتا ہے کوئی بھی ادب اپنی معیاری تخلیقات سے ہی رِچ ہوتا ہے نہ کہ تنقید سے۔ ویسے اگر سنجیدگی سے خود تنقید کا نفسیاتی جائزہ لیا جائے تو
ایک بات کھل کر واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ تنقید ادب اور خاص کر افسانوی ادب کیلئے اتنی ضروری اور موزوں بھی نہیں اُردو ادب میں تنقید نکتہ چینی کی شکل اختیار کر چکی ہے جس کا خمیازہ خود تنقید نگار اور تنقید بھگت رہی ہے یہی وجہ ہے کہ ایک تنقید نگار کو معیاری تخلیق کی نہ توتمیزرہ گئی ہے اور نہ ہی اُن کے پاس انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کا گہراعلم ہی........ یہی وجہ ہے کہ تنقید نگاری اپنا معیار کھو بیٹھی ہے سعادت حسن منٹو ،عصمت چغتائی، واجدہ تبسم ،بیدی ، اور اشک جیسے افسانہ نگاروں کی معیاری تخلیقات کے میزان پر غیر معیاری اور بونی ثابت ہوئی ہے منٹو پر لاہور کی عدالت میں فحش نگاری کا مقدمہ چلا اور بری ہوئے ہمارے تنقید نگاروں نے انہیں فحش نگار کا خطاب دے ڈالا لیکن افسانہ کی نوعیت اور نفسیات کا جائزہ نہیں لیا کہ سعادت حسن منٹو کی فحش نگاری افسانے کی نوعیت اور نفسیات کے عین مطابق ہے بھی کہ نہیں اُن کے دیگر تخلیقات جیسے بُو، کھول دو، ٹھنڈا گوشت اور کالی شلوار کو بھی فحش نگاری کے زمرے میں رکھا لیکن ان معیاری تخلیقات میں پُوشیدہ انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کا انکشاف کا تخلیقی خلاصہ اور تجزیہ کرنے میں قاصر رہے کیونکہ منٹو کے افسانے کھول دو،ٹھنڈا گوشت، کالی شلوار،بُو اور ٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے افسانے کسی بھی تنقید نگاروں کے تنقیدی صلاحیت کے ساتھ ساتھ اُس کی تخلیقی تنقید نگاری کی بھی صلاحیت کا مطالبہ کرتے ہیں اور کسی افسانے کا نفسیاتی خلاصہ اور تجزیہ ہر نقاد کی تخلیقی تنقید نگاری کی ذہانت اور قابلیت کا امتحان اور میزان ہوتی ہے کیونکہ اردو کے سب سے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے بالا تحریر کردہ افسانوں کی تخلیقی تنقید اُن کا خلاصہ اور تجزیہ ایک پورے ناول جیسی ضخامت کا مطالبہ کرتے ہیں ۔
اُردو ادب میں تخلیقی تنقید کا فقدان رہا ہے انگریزی ادب میں ہمیشہ سے تخلیقی تنقید کی روایت رہی ہے جس کے باعث انگریزی لٹریچر اتنا رچ اور ضخیم ہے۔ انگریزی ادب میں نئے آنے والے فکشن رائٹر اور شاعر بہت جلد اپنی جگہ لٹریچر میں مقّرر کر لیتے ہیں اُ ردو ادب میں خاص کر افسانوی تنقید غیر موضوع اور غیر مناسب ہے تخلیقی تنقید یقینی طور پر مفید اور کارگر ہے ۔ صرف تنقید ادب میں تخریب کاری کا کام کرتی ہے جس میں ذہانت اور قابلیت کا فقدان ہوتا ہے جس میں تنقید نگارکی اپنی غیر تخلیقی رائے کی ہی فراوانی ہوتی ہے کوئی بھی افسانہ نگار افسانوں کی تخلیق ادب کیلئے کرتا ہے نا کہ تنقید نگاروں کیلئے، ادب کی شادمانی خوشحالی اور سر خروئی تخلیقات کی دین ہے ناکہ غیر تخلیقی تنقید کی ۔
پلک جھپکنے کے لمحہ سے بھی کم تر وقت میں انسانی دماغ کے بہت ہی لاغر اور ضعیف گوشے سے تپاک سے یہ سوال اُبھر کر سامنے آسکتا ہے کہ یہ تخلیقی تنقید ہوتی کیا ہے؟ کہاں سے آئی ،اس کا گھر کہا ں ہے۔؟ 
یہ پیدا کہاں ہوئی؟ پروان کہاں چڑھی کتنی نوخیز کتنی جوان ہے یہ ۔تو جناب عالیٰ یہ تمام عالمی ادیبوں اور شاعروں کی دین ہے اِس کی وسعت عالمی ہے یہ ہر ایک تخلیق کار کے ذہن میں ہمیشہ سے جوان اور حسین و جمیل رہی ہے یہ کبھی بوڑھی نہیں ہوتی اس کے ہارمونس ہمیشہ نوخیز رہتے ہیں۔
منٹو کا افسانہ ’’کھول دو‘‘ کا تخلیقی تنقید تجزیہ اور اُس کا خلاصہ تھوڑا سا کچھ یوں ہے ۔سعادت حسن منٹو کی سکینہ کی نفسیات پورے وثوق سے کہتی ہے کہ اُس کے ساتھ زنا کرنے والوں میں ایک یا دو چہرے ایسے ضرور رہے ہونگے جنہیں سکینہ روز انہ دیکھتی چلی آئی تھی اور یہی وجہ رہی ہوگی کہ سکینہ اُن لوگوں کے ہمراہ جانے کیلئے فوراتیار ہو گئی ہو گی یا پھر تھوڑی کشمکش کے بعد نہ چاہتے ہوئے بھی ہمراہ ہو لیا ہو اُنہوں نے سکینہ کو پُورے یقین اور عتماد میں لیا ہوگا ایسے لوگ کافی میٹھی اور مہذب زبان استعمال کرتے ہیں اللہ رسول کا واسطہ ضرور دیا ہوگا ۔ 
’’کہ تو ہمارے ہمراہ چل تیرے رشتے داروں سے تجھے ملا دوں گا تیرے ابّا امّی وغیرہ کو ہم لوگوں نے ہی فلاں کیمپ میں بہ حفاظت پہنچا دیا ہے تو ڈر مت ہماری بہنیں بھی کیمپ میں ہیں ہم لوگ رضا کا ر ہیں ہم بچھڑوں کو ملواتے ہیں شام ہونے سے پہلے ہی ہم تمہیں وہاں پہنچادیں گے تمہارے ابّاجان کہہ رہے تھے کہ بیٹا تم لوگوں کو سکینہ کا پتہ چلے تو یہاں پہنچادینا تمہا رے ابّا جان اور امّی جان ہم لوگوں کو کافی دُعائیں دے رہے تھے کہ خُدا وحد ہ لاشریک تم لوگوں کو سلامت رکھے اور ہر بلا اور مصیبت سے دور رکھے یہ منٹوکے افسانہ ’’کھول دو‘‘ کا کوئی پیرا گراف نہیں ہے یہ میں نے سعادت حسن منٹو کا افسانہ ’’کھول دو‘‘ کا تھوڑا سا تخلیقی خلاصے کی مثال دی ہے ورنہ تفصیلی تجزیہ کیلئے کا فی ضخامت درکار ہے۔
افسانہ ’’ بازگشت ‘‘قابل مطالعہ اور معیاری ہے یقین نہیں ہوتا کہ اِن افسانوں کا خالق چند میلوں کے فاصلے پر رہتا ہے افسانے کا اسلوب اور ٹریٹمینٹ افسانے کی نوعیت کے عین مطابق ہے کیونکہ افسانے کی نوعیت اپنے اسلوب کا تعین خود بخود فطری طور پر کر لیتی ہے۔ افسانوی ادب کے نقطہ نگاہ سے غیر فطری اور غیر موضوع اسلوب کا استعمال افسانہ نگار نے نہیں کیا ہے افسانوں میں اسلوب کی روانی اور تسلسل بر قرار ہے کہیں بھی سلسلہ منقطع ہوتاہوا محسوس نہیں ہوا خاص کر افسانہ ’’ باز گشت ‘‘کافی معیاری افسانوں کی فہرست میں شامل ہُوچکا ہے افسانہ ’’ بازگشت ‘‘کا موضوع کافی بولڈ اور پیچیدہ ہے مہتاب عالم پرویز نے ’’ بازگشت ‘‘ کی تخلیق کر افسانوی ادب میں ہیومن سائیکولوجی اور اُس کی پیچیدہ نشیب و فراز کا انکشاف کیا ہے غیر معمولی ذہانت اور قابلیت کی افسانوی ادب میں مثال قائم کی ہے علم شاہد ہے کہ کوئی بھی افسانہ نگار اپنی چند معیاری تخلیقات کی دین سے ہی ادب میں اونچا اور بڑا مقام حاصل کرتا ہے غیر معیاری افسانوں کا انبار لگاکرکوئی بھی افسانہ نگار ادب میں مقام حاصل نہیں کرسکتا ہے۔
جس طرح اُردو ادب کے سب سے عظیم افسانہ نگار سعادت حسن منٹو نے ٹھنڈا گوشت ،بو ،کالی شلوار ،کھول دواورٹوبہ ٹیک سنگھ جیسے معیاری افسانوں کی تخلیق کر اُردو افسانوی ادب کو آسمانوں جیسی بلندی اور وسعت عطا فرمائی ہے اُسی طرح مہتاب عالم پرویزؔ نے افسانہ ’’ بازگشت ‘‘تخلیق کر ادب کے معیار میں اضافہ کیاہے مہتاب عالم پرویزؔ کا یہ افسانہ ایک ادبی شاہکار ہے یہ ایک تخلیق کار کے ادبی الہامی کیفیت کا حیرت انگیز نتیجہ ہے ورنہ اُردو ادب میں ایسے معیاری افسانوں کا فقدان رہاہے کیونکہ اتنے حساس اور پیچیدہ موضوع کو افسانہ کی شکل دینا خشک چٹّانوں میں ایک نحیف سی ہریالی کے تصّورات کے مترادف ہے افسانے کا مرکزی کردار وہ شخص کا نفسیاتی تجزیہ اور تفصیلی خلاصہ ہی افسانے کی اہمیت اور معیار کی غمازی کرتا ہے افسانہ ’’بازگشت ‘‘ کو نہ تو تنقید نگاروں کی ضرورت ہے اور نہ ہی تنقید کی ۔بعض تخلیقات اتنی ذہین اور معیاری ہوتی ہیں کہ اُن کو کسی کی رائے، کسی کی ادبی علم ،یا پھر کسی کے سہارے کی، ضرورت کی بھی نوبت نہیں آتی۔
’’باز گشت ‘‘ انہیں افسانوں میں سے ایک ہے ۔رٹے رٹائے تنقیدی جملوں ، لفظوں اور پیرا گرافوں کا محتاج نہیں ایک اچھا ادیب اور شاعر کبھی بھی تنقید نگاروں کی طرف نگاہ اُٹھا کر نہیں دیکھتا ،نہ کبھی دیکھنا چاہیے اور نہ ہی کبھی اہمیت دینی چاہئے ۔ 
افسانہ ’’بازگشت ‘‘کا وہ بے نام حسّاس اور اِبنارملشخص فسادات سے پہلے یقینی طور پر اپنی نجی زندگی میں بالکل سیدھا سادہ اور خوش مزاج شخصیت کا مالک تھا دورِ حاضر کے انسانی مکاریوں اور سیاسی قلابازیوں سے ناواقف اُس شخص نے بڑی پیا ری اور بھولی طبیعت پائی تھی ۔ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ آبادی والے محلّے میں اُس کا تین کمروں والا آبائی مکان تھا بغل میں حاجی حکیم الدین کا شاندار چار منزلہ مکان بھی تھا گورنمنٹ آف انڈیا کے انکم ٹیکس کے دفتر میں چپراسی تھے پتہ نہیں اتنی دولت اُن کے پاس کہا سے آئی تھی کہ چار بار حج کر چکے تھے۔ اُن کے دونوں بیٹے سعودی عرب میں پلمبر مزدور تھے۔ حاجی صاحب کی محلّے میں کافی آؤبھگت تھی۔اور یہی وجہ تھی کہ حاجی صاحب تھوڑا سا مغرور بھی ہوگئے تھے ورنہ حج کرنے سے پہلے کافی اخلاق مند اور مخلص شخص تھے۔ جیسے جیسے خُدا نے انہیں رزق سے نوازا وہ بخل کرنے لگے ۔ پہلے کیامجال تھی کہ اُن کے گھر سے کوئی فقیر یا فریادی خالی ہاتھ لوٹ جاتا، سیدھا سادہ وہ شخص حاجی صاحب کو اپنے پتا جی کے سمان عزت واحترام کرتا تھا۔اچھے پڑوسی جو ٹھہرے اُس کے ماں باپ نے اُس حسا س اور اِبنارملشخص کا نام بڑے پیار سے پرکاش داس گپتا رکھا تھا، یہ لوگ اُتر پردیس کے رہنے والے تھے ۔ ذات کے بنیاتھے۔ پرکاش نے بھی اپنے باپ دادا کے پشتینی کاروبار کو ہی گاؤں کی طرح شہر میں آ کر اپنا لیا۔ گھر کے سڑک والے باہری حصے میں ایک دُکان نکالی اور آٹا دال چاول مرچ مصالحے بیچنا شروع کردیا ، دُکان اچھی خاصی چل پڑی تو مسلمانوں کی عورتوں کے گہنے وغیرہ بھی گروی رکھنا اُس کے اچھے کاروبار میں شامل ہوگیا۔ دھیرے دھیرے پرکاش داس گپتا کی دُکان قصبے میں بڑی دُکا ن کہلانے لگی ، پھر اُس نے اپنی دُکان کا نام بھی گپتا اسٹور رکھ دیا تھا ۔ اُس کے زیادہ تر گراہک غریب مسلمان ہی تھے جو روز کمانے کھانے والوں میں شامل تھے۔ بحیثیت مسلمان بھی اُس کے گراہک تھے مگر اُن کی تعداد کم تھی ۔اچھی حیثیت ہوجانے کے باوجود پرکاش داس گپتا کے پیر ہمیشہ زمین پر ہی رہا کرتے تھے۔ اُس کے زیادہ تر دوست مسلمان ہی تھے وہ محلّے کے بڑے بوڑھوں کی کافی عزّت کیا کرتا تھا کیونکہ اُس کا بچپن بھی اِسی محلے میں گذراتھا اور جوانی بھی اِسی محلّے میں پروان چڑھی تھی ماں باپ کی اکلوتی سنتان ہونے کی وجہ سے اُس کی شادی بھی ۱۸ سال کی عمر میں اُس کے با پ نے کرادی تھی یوں تو اپنے شہر سے بھی اچھے اچھے لوگوں کے یہا ں سے رشتے آئے لیکن پرکاش داس گپتا کو اپنے گاؤں کی لڑکی پسند آئی جو واقعی خوبصورتی اور سندرتا کی مثال تھی گوری چٹّی دراز قد ......پریتی........
محلّے کی عمر دراز عورتیں اور کم سن لڑکیاں بھی اُس کی خوبصورتی کی تعریف کیا کرتی تھیں محلّے کے مسلمانوں کے آوارہ اور اوباش قسم کے لڑکوں کی تومت پوچھئے دن بھر اُس کے گھر اور دُکان کے آس پاس چکّر پہ چکّر لگاتے رہتے تھے یہ بات پرکاش داس گپتا کو کھٹکتی بھی تھی گھر اور دُکان فروخت کر ہندوؤں کے محلّے میں جا بسیں لیکن مرتا کیا نا کرتا اُ س کی دُکان جو اِتنی اچھی چل نکلی تھی کہ وہ مجبور تھا اور پھر باپ دادا کے بنائے ہوئے مکان فروخت بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اِسی مکان سے اُس کے بچپن کی تمام یادیں وابستہ تھیں ماں بابو جی کی آتما اسی گھر میں بسی تھی اُن کی بڑی بڑی تصویریں دُکان اور گھر کے ایک بڑے کمرے میں لگا رکھی تھیں جس پرروزانہ وہ تازہ پھولوں کی مالا چڑھایا کرتا تھا لوبان اوراگربتّی کی دھوؤں اور خوشبوؤں سے اُس کی دُکا ن اور اُس کا مکان معطّر رہتا تھا۔ پھرکیسے بیچ دے وہ اس مکا ن کو۔ اپنے پرکھوں کی آتما ؤں کو کیا جواب دے گا ۔گھر کے آنگن میں پرکھوں کے دوارا بنوایا گیا چھوٹا سا مندر بھی تھا جس میں بھگوان شیوکی پوتر مورتی کی استھاپنا اُس کے دادا شیو داس گپتا نے کی تھی لیکن محلّے کے اوباش اور آوارہ لڑکوں کی مشکوک حرکتیں اور اُس کے دُکان و مکان کے ارد گرد اُن کی ہر وقت کی موجودگی ایک کربناک خاموش ٹیس بن کر اُس کے لاشعور سے چپگ گئی تھی۔ خیر شادی کے دوسال بعد ہی بھگوان نے خوبصورت سی پریتی کو ایک خوبصورت بچی پردان کیا۔گھر میں چارو ں طرف خوشیاں پھیل گئیں دوسرے ہی دن پرکاش داس گپتا نے ہندو ؤں اورمسلمانوں کے گھروں میں میٹھائیاں بٹوائیں اور گھر میں پوجا پاٹھ کروایا محلّے کے اوباش اور آوارہ قسم کے لڑکوں کو بھی خاص کر بلوایا کر اُن کے ہاتھوں میں میٹھائیاں دیں اور بڑے ادب اور پیار سے کہا تمہاری بھتیجی پیدا ہوئی ہے میٹھائیاں کھاؤ اور خوشیاں مناؤ۔
حاجی حکیم الدین کے یہاں تو اُس نے پورے ایک کیلو کا پیکیٹ ہی اپنے ہاتھوں سے پہنچایا۔سیدھا سادہ پرکا ش ارپنا کے جنم پر بہت خوش تھالیکن اُسے کیا پتہ تھا کہ چند دنوں بعد ہی یہ شہر یہ محلہ شمسان بن جائے گا۔
خاص کر اُس کی پتنی پریتیؔ کے لئے جس سے وہ والہانہ محبت کرتا تھا رات کے آٹھ بجے تھے وہ حسبِ معمول وہ اپنی دُکان میں گراہکوں کو سامان دینے میں مشغول تھاکہ اچانک محلّے کے ماحول میں چہ میگوئیاں ہونی شروع ہوگئیں اوّل تو اُس نے اس پر دھیان نہیں دیا لیکن تھوڑی دیر بعد جب شور و غل چیخ و پکار اوربھاگ دوڑ کی آواز یں گونجنے لگیں اور اُس کی سماعت سے ٹکرائیں وہ گھبرا اُٹھا ،گراہک بھی دُکان چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے اُس کے حواس گم ہوگئے تھے تھوڑی دیر تک تووہ دُکان کے ترازو کو پکڑ کر بے حس و حرکت کھڑا رہا ................... پھر ہوش آتے ہی پریتی کو زورسے آواز دی کہ باہر نکل ارپنا کولے کر .............فساد پھوٹ پڑا ہے سارے شہر میں ۔
ابھی وہ دُکان کی لائٹ آف کر شٹر گراہی رہا تھا کہ ایک بڑا سا پتھر لٹکے ہوئے ترازو کو توڑتا ہوا دُکان کے اندر جا گرا۔ اور اسی کے ساتھ محلّے میں ’’نعرہ تکبیر ‘‘ اور’’ بجرنگ بلی کی جے‘‘کی آوازیں فضاؤں میں گونجنے لگیں۔
دونوں پتی پتنی ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے تھر تھر کانپ رہے تھے۔اور دونوں کے بیچ معصوم بچی ارپنا چیخیں ما رمار کر رو رہی تھی۔
حاجی صاحب اور حاجی صاحب کی بیوی اپنی چار منزلہ عمارت کی چھت پر موجود تھے ۔ دیکھتے ہی دونوں نے ببک وقت آواز لگائی گپتا بیٹا میرے گھر میں جلدی سے آجاؤ، میں تمہارا محافظ ہوں، جلدی آؤ دیر نہ کرو۔
موت کی دہشت اور خوف سے کانپتے ہوئے دونوں نے اپنی نگاہیں حاجی صاحب کی چار منزلہ عمارت کی چھت کی جانب اُٹھائی ہی تھی کہ محلّے کے آوارہ اور اوباش قسم کے بد تہذیب اور غیر مہذّب نوخیز لڑکوں کی ایک بڑی تعداد نعرے لگا تے ہوئے اُس کی دُکان اور مکان میں داخل ہوگئی ۔ اور لوٹ پاٹ شروع کردیا ،کوئی آٹے کی چھوٹی بڑی بوری لے کر بھاگ رہا ہے ،کوئی تیل کا ڈبّا ،تو کوئی گڑاور چینی کی بوری اُٹھائے بھاگا جا رہا ہے،کوئی گھر کا چھوٹا موٹاسامان ہی لے کر بھاگا جا رہا ہے حد تو تب ہوئی کہ نچلے طبقے کے مسلمان کی عورتیں بھی دُکان اور مکان کے لوٹنے میں شامل ہوگئیں۔
’’باز گشت ‘‘ کا وہ سیدھاسادہ شخص پھٹی پھٹی آنکھوں سے اپنے گھر اور دُکان کو لٹتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔یہ وہ لوگ تھے جنہیں وہ اُدھا ردیا کرتا تھا ۔ کتنے ایسے بھی تھے جنہیں وہ پانچ سواور ہزارروپئے کی مدد آئے دن کیا کرتا رہتا تھا۔ کتنی عورتیں ایسی بھی تھیں جنہیں وہ ما ں اوربھابی کہا کرتا تھا ۔
وہ جو آٹے کی بوری لے کر بھاگ رہا ہے ، محلّے کے کانا صغیر کا لڑکا ہے ، جو کبھی کبھی آٹو رکشہ چلایا کرتا ہے۔وہ لمبا سا لڑکا جو گھر کے فریج کو با ہر نکال رہا ہے۔اُس کا باپ لڑکیوں کی سپلائی کے کیس میں کئی بار جیل جا چُکا ہے۔آئے دن پولیس اُس کے گھر میں چھاپے مارتی رہتی ہے۔وہ جو تیل کا بڑا سا ڈبّالے کر اندھیری گلی میں روپوش ہوچکاہے۔ اُس کی ماں اُس کے عمر دراز باپ کو چھوڑ کر محلّے کے ہی ایک آوارہ لڑکے کے ساتھ کھلے عام رہ رہی ہے۔
کتنوں کو وہ شناخت کرتا۔ سارے چہرے تو شناساتھے۔اُس نے جلدی سے ارپنا کو پریتی کی گود سے جھپٹا اور اُس کا ہا تھ پکڑ کر حا جی حکیم صاحب کے گھر کی جانب بڑھا ہی تھا کہ محلّے کے وہی آوارہ لڑکوں کی ٹولی اُس کے پاس پہنچی اور پریتی کو اُسی کے ہی تاریک گھر میں کھینچ لے گئے۔ پھرمہتاب عالم پرویز ؔ کی پریتی کے ساتھ وہی ہوا ۔ جو سعادت حسن منٹو کی سکینہ کے ساتھ ہوا تھا۔ منٹو کی سکینہ تو اسپتال پہنچ گئی تھی لیکن پریتی کو اسپتال لے جانے والا کوئی نہیں تھا۔نازک حسین پریتی اپنے ہی گھر میں دم تُوڑ چُکی تھی.......... کا ش کہ منٹو زندہ ہوتے تو بتا دیتے کہ سکینہ لا شعور اور تحت الشعور کے اندھیروں سے نکل کر نارمل زندگی جی پائی .......؟یا کہ ساری عمر اپنے گھر میں قید ننگی لیٹی رہی..........؟
مہتاب عالم پرویزؔ کی پریتی تو اپنے پتی کے سامنے ہی سفید الٹیوں کی تاب نہ لا کر دم توڑ چُکی تھی ۔وہ فرش پہ بالکل برہنہ تھی۔با لکل بے حس و حرکت وہ شخص اپنی معصوم بچّی کو ما ں کی ننگی چھا تی سے لگا دینا چاہتا تھا ۔مگر سفید خون کی اُلٹیوں کی غلیظ بُو نے اُسے ایسا کرنے سے باز رکھا ۔ وہ پریتی کو آواز بھی نہ دے سکا قوت گویا ئی جیسے اُس کی سلب ہو چُکی تھی ،آنکھوں میں وحشت اور دہشت سما سی گئی تھی۔دماغ ماؤف ہو چکا تھا ۔ چیخ و پکا ر آہ و بکا کی باز گشت، دھماکوں کی ہولناک آوازیں ،گولیوں کی تڑ تڑ آہٹ، آگ اور دھوؤں کا احساس اُس کے شعور سے مکمّل طور پر ختم ہو چکا تھا ۔شاید سما عت کے پردے موٹے ہوکر گدگد ہوگئے تھے۔اُس کے تحت الشعور کے گہرے تا ریک غا روں میں صرف اور صرف پریتی کی بر ہنہ لاش تھی اور جگہ بہ جگہ اُس کے شریر پر منجمد غلیظ سفید خون کے ٹیڑھے میڑھے دھبّوں کا احساس ہی ثبت ہوکر رہ گیا تھا ۔پریتی کے مرتے ہی جیسے ساری کائنا ت یک بیک بے آواز ہو کر تھم سی گئی تھی۔دوڑتے بھاگتے لوگ جیسے قدیم زمانوں کی مورتیوں کی مانند اپنی اپنی جگہ بے حس و حرکت ہوکر پتھروں میں تبدیل ہو گئے تھے ۔محلّے کے آوارہ کتّے بھی نہ جانے کہا غائب ہوگئے تھے۔جو آکثر رات، رات بھر آسمانوں کی جانب سر اُٹھاکر رویا کرتے تھے شایدوہ بھی پتھروں میں تبدیل ہو گئے تھے اُس کا شعور اور لا شعور مظلو میت اور لا چارگی کی دبیز تہوں میں دب کر رہ گیا تھا کائنات کی وہ کمزور ترین شے کے مترادف ہو گیا تھااُس کے پاس اپنی بچّی کو سینے سے چمٹائے رہنے بھر کا ذہن اور قوّت باقی رہ گئی تھی وہ ارپناکو کنگارو کے بچّے کی مانند اپنے سینے سے چمٹائے تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا محّلے سے دور سڑک کے کنارے ایک کھڈ میں جاکربیٹھ گیا وہ ساری رات ایک ہی حالت میں اکڑوں بیٹھا رہانہ جا نے کتنی سکینا ئیں اور پریتیاں اُس رات ننگی ہوئیں..........غلیظ خون کی بجلیاں پریتی کی طرح کتنوں میں سما گئی .......صبح ہوئی قدرت ہمیشہ کی طرح ویسی ہی تھی سب کچھ معمول کے مطابق تھاسورج ویسا ہی اُگاجیسے ازل سے اُگا کرتا ہے ہوائیں ویسے ہی چلیں جیسے چلا کرتی ہیں آسمان حسب معمول ویسا ہی تھازمین ویسے ہی اپنی جگہ منجمد تھی اُس کا پورا وجود ہر طرح کے احساسات و جذبات سے خالی ہو چکا تھا۔اُسے اپنی بچّی کے رونے تک کااحساس نہیں تھا ارپناکو فقط اُس کے دونوں ہاتھ قدرے سختی سے جکڑے بھرتھے عجیب سی بے حسی کی کیفیت اُس پر طاری ہو چُکی تھی کہ اُس کا وجود ہے بھی کہ نہیں .......بچّی اُس کی گود میں ہے بھی.......اور نہیں بھی، آنکھوں کی پلکیں ٹھہر سی گئی تھیں صرف اُس کی آنکھوں کی پتلیوں میں تھوڑی سی جنبش باقی رہ گئی تھی کہ کبھی خلاؤں میں کچھ تلاش کرتی ہوئی محسوس ہوتیں تو کبھی اپنے ہی وجود میں تھوڑی دیر پھسل کر رہ جاتیں جیسے کوئی ایک بے حد ٹھنڈی شے اُس کے وجود میں سرایت کر گئی ہوجس کے زیر اثر اُس کا وجود ایک ہی جھٹکے میں بے حس اور ازحد کمزورہو کر رہ گیا ہوتبھی تو گشتی پولیس والوں کے کئی با رآوازیں دینے کے با وجود وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہیں ہوا تھا۔ اور اُسے یہ بھی احساس نہیں ہوا کہ کئی پولیس والے بندوقیں تا نے اُس کے پشت پر آکر کھڑے ہوگئے ہیں۔پولیس والوں نے اُس شخص کو بچّی سمیت شہر کے صدر اسپتال میں پہنچا دیا ،اتِفاق سے اُس کی پڑوسن نادرہ بھی کئی دِنوں سے اسی ہسپتا ل میں زیر علاج تھی۔جس کی دودھ پیتی ہوئی ایک بچّی اور شوہر بھی اِسی فساد کی نذرہوگئے تھے ۔شاید قدرت ہی اُسے ہسپتال میں نادرہ کے بستر کے قریب لے آئی ۔ پتہ نہیںیہ ایک ماں کی ممتا تھی یا پھر ایک جوان عورت کی نفسیاتی اور جسمانی لذّت کا جذبہ کہ اُس نے تپاک سے بچّی کو اُس شخص کے ہاتھوں سے لے کر اپنی بے حجاب عریاں چھاتیوں کو کھول کر بچّی کو بڑی بے تا بی سے دودھ سے لگا دیا۔ اور اپنی آنکھیں مانو چند لمحوں کے لئے موندسی لیں۔ اُسے یہ بھی خیا ل نہیں رہا کہ بھیڑ سے بھرے پورے ہسپتا ل میں اُس کے بیڈ کے قریب ایک جوان شخص کھڑا ہے۔جس کی آنکھوں کا مرکز اُس کی خوبصورت سڈول عریاں چھاتیاں ہیں۔ 
اُس کی بے سبب نگاہیں کچھ دیر تک ہسپتال کے بیڈوں پر پھسلتی رہیں۔پھر بڑے خاموش قدموں سے ہسپتال کے باہر سڑک پر آگیا ۔ بہت جلد شہر معمول پر آگیا زندگیاں پھر سے چلنے لگیں۔ارپنا نادرہ کا دودھ پیتی رہی اور زیبابن گئی۔
اُدھر وہ شخص ننگ دھڑنگ ، میلا،کچیلا،شہرکی سڑکوں، چوراہوں،گلیوں اور محلّوں میں گھومتا رہا۔شہر میں فسادات کو تھمے ہوئے اچھا خاصہ عرصہ گزر چکا تھا۔لیکن اُس کے جسم پر آج بھی فساد والے دن کے ہی کپڑے موجود تھے جو جگہ بہ جگہ پھٹ گئے تھے۔جس سے اُس کی شرم گاہیں واضح طور پر دکھائی دینے لگی تھیں۔وہ اپنے جسم کی عریانیت سے با لکل نا واقف تھا۔ٹھیلوں اور فٹ پاتھوں پر پھل بیچنے والے روزانہ اُسے کچھ نہ کچھ کھانے پینے کو دے دیا کرتے تھے۔اکثر وہ نادرہ کے یہاں بھی بے تکلّف گھس جایا کرتا تھا ۔ سماعت اور گویائی ابھی بھی اُس کی مشکوک تھی۔زباں سے کچھ نہ بولتا ۔ بس اپنی وحشت اور دہشت بھری ویران سرخ آنکھوں سے درو دیوارں کو تکا کرتا۔کبھی اُس کا دل چاہتا تو زمین پر اکڑو بیٹھ کر اپنی ننھی منّی ارپناکو کھیلتے کودتے دیکھتے رہتا، بنا پلک جھپکائے دیکھتے ہی جاتا ..........دیکھتے ہی جاتا ..........
جب کبھی بھی وہ نادرہ کے یہا ں جاتا تو نادرہ اُسے بنا کھلائے جانے نہیں دیتی۔وہ با ت کرنے کی کوشش کرتی کہ وہ کچھ بولے، لیکن وہ ہمیشہ کی طرح خاموش ہی رہتا ۔ مانو زبان اُس کے منھ میں تھی ہی نہیں..........نادرہ کے یہاں کھانا کھا کر کبھی تو گھنٹوں یوں ہی بیٹھا رہتا ۔ تو کبھی کھانا ختم ہوتے ہی بڑی تیزی سے نادرہ کے گھر سے نکل جاتا جیسے اُسے کچھ یاد آگیا ہو....... نادرہ اُسے پکارتی رہ جاتی لیکن وہ ٹھہرتا ہی نہیں ۔بھاگتا ہی جاتا ....... بھاگتا ہی جاتا ....... محلّے سے دور بہت دور اُسی سڑک کے کنارے والے کھڈ میں جا کر سہما سہما دُبک کر بیٹھ جاتا ۔ جہاں وہ پہلی بار فسادات والی رات اپنی پھول سی بچّی کو لیکر پناہ لی تھی۔اکثر اُسے محسوس ہوتا کہ اُس کے بے حس وجود کے گوشے گوشے میں اچانک خاموش دھماکے شروع ہوگئے ہیں۔آسمانوں کی وسعتوں تک پہنچی ہوئی ہولناک نعروں کی آوازیں ....... معصوم لوگوں کی چیخ و پُکا ر جس میں اُس کی پریتی کی بھی چیخیں شامل ہوتیں۔
فسادات والی رات کا پورا منظر اُس کے ذہن کے پردے پر اُبھرنے لگتا.......دونوں گھٹنوں کے بیچ وہ اپنے سر کو یوں پیوست کرلیتا مانوں کسی عورت کے حمل میں سکڑا ہوا پل رہا ہو جہاں صرف تاریکی ہی تاریکی ہے خوف ہی خوف ہے یہی وہ خوفناک لمحہ ہوتا جہاں وہ اپنے آپ کو دُنیاکی کمزورترین شے کے مترادف سمجھتااکثر و بیشتر وہ ایسی ذہنی کیفیت سے گزرتا....... کبھی کبھی تو اُس کے اوپر ایسی کیفیت گھنٹوں طاری رہتی وہ اپنے محلّوں کے چھوٹے چھوٹے بچّوں سے بھی ڈرا کرتا کبھی کبھی تو محلّے کے بچّے اُسے گھوڑا بننے کا حکم دیتے اوور وہ فوراگھوڑا بن کر بچّو کو اپنے پیٹھ پر سوار کر لیتاباقی بچّے چل میرے گھوڑے گپتا اسٹور کہتے ہوئے اس کے آگے پیچھے چلنے لگتے اور وہ واقعی بچّوں کواپنی پیٹھ پر سوار کئے محلّے اور گلیوں سے گزرتاہوااپنے بوسیدہ مکان میں آکر رک جاتا بچّے اتر کر بھاگ جاتے وہ بھی بوجھل قدموں سے ادھ جلے گپتا اسٹور کے بورڈ کو دیکھتا ہوا کھنڈرنمااپنے گھرمیں داخل ہوجاتا ، جہاں لوگوں نے اُس کے دُکان کو پیشاب خانہ اور سارے گھر کے کمروں کو کوڑادان بنا ڈالا تھااچھے اچھے مہذّب لوگ بھی اُس کے گھر میں جاکرپیشاب اور پاخانہ کی حاجتیں پوری کرنے لگے تھے نچلے طبقے کے غیر مہذّب اور جاہل لوگوں کی تو بات ہی غیر تھی اکثر ہندوؤں کی گائیں مسلمانو ں کی بھینسیں اور بکریاں بھی کمروں میں پیشاب اور گوبر وغیرہ کرنے لگی تھیں راہ گیر بھی بڑے اطمینا ن سے وہا ں کھڑے ہوکر اپنی حاجت روائی کرتے۔ محلّے کے منچلے اور آوارہ لڑکوں نے اُس کے گھر کو ’’ گپتا شوچا لے ‘‘تک کا نام دے رکھا تھا ۔آج بہت دنوں کے بعد وہ فطری طور پر اپنے گھر کی دیواروں دروں کو بغور دیکھ رہا تھا ۔کیڑے مکوڑوں اور چیونٹیوں کی بے شمار قطاریں گندے فرش سے لیکر ٹوٹی پھوٹی دیواروں پر مسلسل چڑھ اور اتر رہی تھیں، ایسے ایسے کیڑے مکوڑے پیدا ہوگئے تھے جنہیں وہ پہچانتا بھی نہیں تھا ۔کافی دیر تک وہ کیڑے مکوڑوں کا دوڑنا بھاگنا ، رینگنا ، اُڑنا اور دیواروں پر چڑھنا اُترنا دیکھتا رہا ، پھر نہ جانے کس جذبے کے تحت مسکرا پڑا ، اگلے ہی لمحے وہ اپنے ننگے ہاتھوں سے فرش پر پھیلے ہوئے بے شمار کیڑے مکوڑوں اور دُکان کی دیواروں پر چڑھتی اترتی چیونٹیوں کو مسل کر مارنے لگا اور مسلسل مسکرائے بھی جا رہا تھا ۔ڈھیر سارے کیڑے مکوڑوں کو اُس نے ما ر ڈالا پھر بھی بہت سارے بچ بھی گئے تھے دُکان سے باہر آکر اُس نے آکاش کی اُور دیکھا اور زور سے کھلکھلا پڑا ،اُس نے اپنے دونوں ہاتھ یوں جھاڑے مانو اُس نے کوئی بڑا قلعہ فتح کر لیا ہو۔ اُس کی ویران سُرخ مائل آنکھوں میں تھوڑی سی چمک اور چہرے پر ذرا سی شادابی نظر آئی ..........
اب تو یہ اُس کا معمول بن چُکا تھا کہ وہ جہاں کہیں بھی کاکروچوں چیونٹیوں ،چوہوں ، بلیّوں اور کتّوں کے بچّوں کو دیکھتا تو مارڈالتا ۔ایک بار اُس نے حد ہی کر دی کہ گلی میں حاجی صاحب کی بکری کا بچّہ ابھی اپنی ماں کی پیٹ سے آدھا ہی نکل پایا تھا کہ نظر پڑتے ہی اُس نے پھٹاک سے اُس کی گردن دبا دی ،اُس کی فطرت کی یہ تبدیلی سارے محلے میں موضوعِ بحث بنی ہوئی تھی۔ 
۱۷ سا ل کا طویل عرصہ بس یوں ہی گذر گیا وقت کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے زیبا پُرکشش ، خوبصورت اور مسحور کُن شخصیت کی دو شیزہ بن گئی با لکل ہوبہو اپنی ما ں پریتی کی طرح وہی دراز قد ،گوری رنگت ،خوبصورت گھنے لمبے کالے بال ، ستواں ناک اور بھرے بھرے تھوڑے سے دونوں موٹے ہونٹ ۔خُدا وحدہ لاشریک نے مانو نادرہ کے گھر حور بھیج دی ہو۔
نادرہ بہت خوش تھی اور وہ زیبا کا بڑا خیال رکھتی تھی۔ہر وقت سائے کی طرح اُس کے ساتھ رہتی تھی۔
ادھر کئی مہینوں سے وہ شخص شہر سے باہر تھا ۔ہوا یوں کہ کسی ٹرک ڈرائیور نے اُسے بیٹھا لیا اور اپنے ساتھ لے کر چلا گیا تب سے وہ شہر سے غائب تھانادرہ کے دل میں بھی کئی بار خیا ل آیا آخر وہ گیا تو کہا ں گیا زیبا بھی کئی بار نادرہ سے پوچھ چُکی تھی کہ باپو بہت دنوں سے گھر نہیں آئے۔؟
زیبا جب سے جوان ہوئی تھی۔نادرہ نے اُس کے کہیں تنہا نکلنے پر پابندی لگا دی تھی۔کیونکہ محلہ غیر مہذّب نچلے طبقے کے بد تمیز اور جاہل لوگوں سے پٹا پڑا ہوا تھا ۔مہتاب عالم پرویز ؔ کے افسانہ ’’بازگشت‘‘کا وہ شخص بھی اب نادرہ کے گھر بہت کم ہی آیا جایا کرتا تھا ۔زیبا بھی اپنے باپو کے آنے پر اُس سے بہت کم باتیں کیا کرتی تھی۔ایسی بات نہیں کہ نادرہ نے منع کر رکھا تھا ۔بلکہ بقول اُسی کی بیٹی زیبا کہ باپو بہت گندے رہتے ہیں۔با پو کے آتے ہی زیبا اپنے ناک کو دوپٹّے سے بڑے احتیا ط کے ساتھ باندھ لیا کرتی تھی۔ کہ اُس شخص کے گندے جسم سے اُٹھتی ہوئی بدبو سے اُسے متلیوں اور اُبکائیوں کا احساس نہ ہونے لگے۔جتنی وہ خوبصورت تھی اتنی ہی وہ نفاست اور صفائی پسند بھی تھی۔اس لئے پابو کے آتے ہی گھر کے سارے کمروں میں اگر بتّیاں جلا دیا کرتی تھی۔جس سے کبھی موگرے کی خوشبو آتی تو کبھی رجنی گندھا کی۔ 
لیکن اچانک ایک دن وہ شخص کسی دوسرے ٹرک سے شہر کی سڑک پر نمو دار ہوگیا وہ کافی بدلا ہوا معلوم ہورہا تھااچھے اور صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھا اوربڑھے ہوئے بال اور بڑھی ہوئی داڑھی بھی اُس نے بنوا لئے تھے وہ پہلے سے کافی نارمل لگ رہا تھاآنکھوں میں وحشت اور ویرانی کی جگہ عجیب سی چمک نے لے رکھی تھی وہ پہلے کی طرح نہ تو ڈرا سہما لگ رہا تھا اور نہ ہی ایک کمزور ترین شخص۔ ماتھے پر اُس نے ایک خوبصورت سا چندن کا ٹیکا بھی لگا رکھا تھا جس سے اُس کی نارمل شخصیت میں اضافہ ہو رہا تھا وہ تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا نادرہ کے گھر کی طرف جا رہا تھانادرہ اُسے دیکھتے ہی حیران رہ گئی حیرت اور خوشی کے ملے جلے جذبات اُس کے دل میں اچانک اُبھر آئے۔
رات ہوئی تو اُس شخص نے نادرہ کے یہاں ٹھہرنے کی اِچھّا پرکٹ کی جسے نادرہ نے مان لیا ، اور وہ ایک کمرے میں ٹھہر گیا .......
رات بہت اندھیری تھی۔ آسمان کالے کالے بالوں سے ڈھکا ہوا تھاتیز اور موسلا دھار بارش ہونے والی تھی جو تھوڑی ہی دیر میں تیز ہواؤں کے ساتھ شروع بھی ہو گئی۔ بادلوں کی گڑ گڑاہٹ تیز بجلیوں کی چمک نے رات کو اور بھی خوفنا ک بنا دیا تھااُس شخص کی نیند اچانک کھل گئی ، با ہر کھڑکیوں سے جھانک کر دیکھا ۔بہت تیز بارش ہو رہی تھی۔وہ پھر اچانک خوف زدہ سا ہو گیا ۔اُسے لگا شہر میں فساد پھر پھوٹ پڑا ہے۔لوگ پہلے ہی کی طرح وحشی ہوگئے ہیں۔وہ صرف عورتوں اور لڑکیوں کو ہی ڈھونڈ رہے ہیں۔محلّے کے آوارہ اور غیر مہذّب لڑکوں کا ایک گروہ منظّم طریقے سے ایک بار پھر اُس کے گھر کی جانب بڑھ رہا ہے۔اب پریتی تو نہیں اُس کی اپنی ارپنا ہے۔
اُسے یوں لگا کہ محلّے کے لڑکوں کا وہ منظّم گروہ تیز بارش میں بھی نا درہ کے گھر کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے ۔اُن کے ہاتھوں میں مختلف قسم کے ہتھیار ہیں، اور وہ زیبا زیبا کہہ کر پُکار رہے ہیں۔سب سے آگے محلّے کا لنگڑا سلیم ہے جو پچھلے فساد میں اُس کے گھر سے نکلنے والا آخری لڑکا تھا جو تیموری چال سے چلتا ہوا اُس کے اپنے گھر میں گھس گیا تھا ۔پریتی کی عصمت دری اور موت کا سارا منظر عکس بن کر واضح طور پر اُس کی آنکھوں میں اُتر آیا ۔پریتی کی چیخ وپُکار اُس کی بے بسی اور لاچارگی اور کچھ نہ کر پانے کا اُس کاخود کاکمزور احساس ، اور کسی بھی انسان کو جسمانی اور دماغی طور پرلاغر بنا دینے والی فسادات کی وحشت ود ہشت اور ہولناکیاں۔مہتاب عالم پرویزؔ کی’’ باز گشت‘‘بن کر ایک بار پھر مانواُس کے حواس پر حاوی ہورہی تھیں۔
دروازہ کھول کر وہ مانو بڑی ہمّت اور قوّت کے ساتھ زیبا کے کمرے کی طرف تیز قدموں سے چلتا ہوا داخل ہو گیا ۔بلا کی خوبصورت زیبا نادرہ کے ساتھ اُسی کے پلنگ پر سورہی تھی نادرہ بھی گہری نیند میں تھی ۔
سُرخ زیرو پاور کے بلب کی ملگجی روشنی میں زیبا کا مسحور کُن حُسن حوروں جیسا تھا جیسے خُدا نے اُسے ابھی ابھی فرشتوں کے ہمرا ہ نادرہ کے پہلو میں اُتا ردیاہے نیند کی خماری یا غنودگی کے کو ئی بھی نشان اُس کے چہرے پر نہیں تھے جیسے اُس نے لمحہ بھر پہلے ہی نادرہ کے پہلو میں اپنی آنکھیں موند لی ہوں۔
وہ زیبا کو حیرت انگیز نگاہوں سے دیکھتا رہ گیا وہ زیبا کو پہلی بار اتنے قریب سے بے نیاز ہوکر دیکھ رہا تھازیبا کا مکمّل وجود پریتی جیسا ہی تھاوہی آنکھیں،وہی خوبصورت ستوان ناک ،پرکشش بھرے بھرے دونوں ہونٹ اوردراز قد، اُس کا پورا وجود مختلف قسم کی کیفیتوں سے دوچار ہونے لگا اُس کا سارا وجود پتا نہیں کس جذبات کے زیر اثر سہر اُٹھا اُس کے تحت الشعور کی تاریک غاروں سے مانواُس کی پریتی کامکمّل وجود اُس کے شعور کے لئے حاضر تھا اُس نے بڑے احتیاط اور آہستگی سے خلاء میں سرگوشی کی کہ چل میرے ساتھ........ میرے کمرے میں .....کہ باہر وحشی پھر تجھے ڈھونڈ رہے ہیں.......پیوست ہوجا گداز جسم بن کر میرے جسم میں.......تحلیل ہو جا روح بن کر میری روح میں .......کہ کوئی تجھے ڈھونڈ نہ سکے ۔ایک خلاء بن کر تو مجھ میں سما جا........ کہ تجھے کوئی محسوس بھی نہ کر سکے۔
زیبا اس سے پہلے کچھ سمجھ پاتی وہ مہتاب عالم پرویزؔ کے اُس شخص کے مقنا طیسی کشش کے زیرِ اثر اُس کے ساتھ کمرے میں چلی گئی اُس اندھیری کالی رات میں وہ شخص زیبا کے گداز جسم میں خلاء بن کر سما چُکا تھا ..........
صبح نادرہ حیرت زدہ تھی ، اُس کی چھاتیوں میں دودھ کی ایک بوند بھی نہ تھی .......... وہ شخص کہیں بھی نہیں تھا ........... شاید خلا ؤں میں .................وہ اپنے مکمّل وجود کے ساتھ تحلیل ہو چُکا تھا ۔
مہتاب عالم پرویزؔ کے افسانو ں کے کردار اور اُس کی رُوح کے ساتھ زندگی جینا بہت دشوار کُن اور پیچیدہ ہے،کیونکہ اُن کے افسانوں کے کردار ہلکے پھلکے نفسیات کے ساتھ گہرے اور تحت الشعوری نفسیات کے حامل ہوتے ہیں۔جسے پڑھنا اور سمجھنا قاری اور ادبی شخصیتوں کے لئے بھی گہرا اور سنجیدہ مطالعہ کا مطالبہ کرتی ہے۔
کیونکہ خُدا نے اس کا ئنات کوجسے ہم جانتے ہیں اور جس کا ہمیں علم ہے کہ ہر شئے کو مختلف نفسیات دے کر پیدا کیا ہے۔چاہے وہ جاندار ہو یا بے جان ، ذرّہ ذرّہ نفسیات میں قید ہے۔اس لئے نفسیات سے رہائی ممکن نہیں۔ کیونکہ نفسیات ہی روح کی شکل میں کسی بھی عورت کے حمل میں پلتے ہوئے بچّے میں پھونکی جاتی ہے۔جسے روح بھی کہتے ہیں۔یہ نفسیات ہی ہے جو روح کی شکل میں ہمارے ساتھ ساتھ رُوح قبض ہونے تک رہتی ہے۔یہ نفسیات ہی ہے جو ہما رے جسم کو کبھی چھوڑنا نہیں چاہتی ہے ، اور یہ نفسیات ہی ہے کہ مہتاب عالم پرویز ؔ کے ’’باز گشت‘‘کا وہ شخص اپنی ہی بیوی اور اولاد میں تمیز نہیں کر پایا۔ غرض یہ کہ انسانی اورغیر انسانی ہرچھوٹی سے چھوٹی اور بڑی سے بڑی جنبش کے پس منظر میں نفسیا ت ہی کار فرما ہوتی ہے ۔ یہاں تک کے پہاڑوں اور پتھروں کا اپنی جگہ غیر متحرک ہونا بھی اِس کے متحرک ہو نے کی نفسیات میں شامل ہے میری نفسیا ت یہ تسلیم اور تصوّر کرتی ہے کہ جس طرح اِس سر زمین پر عورت اور مرد کے پاکیز ہ اور غیر پاکیزہ جسمانی تعلقات سے عورت کے شکم سے ایک بچہ نمودار ہوتا ہے اور بڑا ہوتا ہے ٹھیک اُسی طرح پتھروں اور پہاڑوں کے درمیان بھی کسی طرح کے اختلاط کا عمل بھی کار فرماہو جسے ہم دیکھ یا محسوس نہیں کر پاتے۔ ہماری عقل یہ سمجھ نہیں پاتی کہ اُس میں تغیرکیسے آیا۔؟ وہ بڑے کیسے ہوگئے۔؟ ہمارے باپ داداؤں کے باغوں میں زمین میں دھنسا اور گڑا ہوا وہ پتھر چند سالوں یا بہت سالوں بعد کیسے بڑا ہوگیاٹھیک اُسی طرح بازگشت کا وہ شخص اپنی ہی بیٹی کے ساتھ اختلا ط میں کس نفسیا ت کے زیر اثر مبتلاء ہواقاری اور ادبی شخصیتوں کے ذہن و دماغ میں یہ آئینے کی طرح واضح ہو چُکا ہے کیونکہ انسانی نفسیات سے ایسے عمل کا سرزد ہونا کوئی بعید نہیں بلکہ یہ لازمی اور ممکن عمل ہے جس سے وہ شخص دو چار ہوا۔
ہوسکتا ہے پھر کبھی مہتاب عالم پرویزؔ کے افسانوں اور یا پھر کسی افسانے کے ذریعہ موقع ملے تو پھر باتیں ہوں گی ۔ کیونکہ ابھی ابھی میری سب سے بڑی بیٹی حنا مہوش کا فون آیا ہے کہ پاپا انجنیئرنگ کالج کل سے بند ہو رہا ہے اور میں کل ہی آ رہی ہوں۔
دُعاگو ہوں کہ خُداہم سب کو اپنی امان میں رکھے۔آمین۔

()()()()()
جاوید اختر





   شہید سا ز                                                                                          سعادت حسن منٹو 



                                 میں گحبر ات کا ٹھیا واڑ کا ر ہنے وا الا ہو ں ۔ذات کا بنیا ہوں ۔پچھلے بر س جب تقسیم ہند و ستا ن پر ٹنٹاہو ا تو میں با لکل بے کا ر تھا ۔معا ف کیجئے گا ۔میں نے لفظ ٹنٹااستعما ل کیا ۔مگر اس کا کو ئی حر ج نہیں ۔اس لیے کہ اردو ز با ن میں با ہر کے ا لفاظ آ نے ہی چا ہئیں ۔چا ہے وہ گحبر اتی ہی کیو ں نہ ہو ں۔
جی ہا ں ،میں با لکل بے کا ر تھا ۔لیکن کا تھو ڑا سا کا ر و با ر چل رہا تھا جس سے کچھ آمد نی کی صو رت ہو ہی جا تی تھی ۔جب بٹو ارہ ہو ا ا ور اِد ھر کے آدمی اُدھر اور اُدھر کے اِدھر ہزر اروں کی تعد اد میں آنے جانے لگے تو میں نے سو چا چلو پا کستا ن چلیں ۔کو کین کا نہ سہی کو ئی اور کا رو با ر شر وع کر دو ں گا ۔چنا نچہ و ہا ں سے چل پڑ ااور را ستے میں مختلف قسم کے چھو ٹے چھو ٹے د ھند ے کر تا پا کستا ن پہنچ گیا ۔ 
میں تو چلا ہی اس نیت سے تھا کہ کو ئی مو ٹا کا رو با ر کر و ں گا ۔ چنا نچہ پا کستان پہنچتے ہی میں نے حا لا ت کو ا چھی طر ح جا نچا اور الا ٹمنٹو ں کا سلسلہ شر دع کر دیا ۔مسکہ پا لش مجھے آتا ہی تھا ۔چکنی چپڑ ی با تیں کیں ، ایک دو آد میو ں سے یا را نہ گا نٹھا اور ا یک چھو ٹا سا مکا ن الا ٹ کر الیا ۔اس سے کا فی منا فع ہو ا تو میں مختلف شہر وں میں پھر کر مکا ن اور د کا نیں الا ٹ کر انے کا د ھند اکر نے لگا۔
کام کوئی بھی ہو ا نسا ن کو محنت کر نا پڑ تی ہے ۔مجھے بھی چنا نچہ الا ٹ منٹو ں کے سلسلے میں کافی تگ دو کر ناپڑ ی ۔کسی کومسکہ لگا یا کسی کی مٹھی گر م کی ،کسی کو کھانے کی د عو ت دی کسی کو ناچ ر نگ کی ۔ غر ض کہ بے شما ر بکھیرے تھے ۔ دن بھر خا ک پھاکنا پڑی بڑ ی بڑی کو ٹھیو ں کے پھیر ے کر تا اور شہر کا چپہ چپہ د یکھ کر ا چھا سا مکا ن تلاش کر تا جس کے الا ٹ کر انے سے ز یا دہ منا فع ہوا۔
انسا ن کی محنت کبھی خا لی نہیں جا تی ،چنا نچہ ا یک بر س کے اند ر اند ر میں نے لا کھو ں رو پے پیدا کر لیے ۔اب خدا کا دیا سب کچھ تھا ۔ر ہنے کو بہتر ین کو ٹھی ،بینک میں بے اند ازہ مال پا نی .........معا ف کیجئے گا ۔میں کا ٹھیا وا ڑ گحبر ات کا روز مر ہ استعما ل کر گیا ۔ مگر کو ئی مضا ئقہ نہیں اردو زبا ن میں باہر کے ا لفا ظ بھی شا مل ہو نے چا ہئیں ...........جی ہا ں ،اﷲکا دیا سب کچھ تھا ۔رہنے کو بہتر ین کو ٹھی ،نو کر چا کر پیکا ر ڈ مو ٹر ،بینک میں ڈ ھا ئی لا کھ رو پے ،کا ر خانے اور د کا نیں الگ ............یہ سب کچھ تھا لیکن میر ے دل کا چین جانے کہا ں اُ ڑ گیا ۔یو ں تو کو کین کا د ھند ا کر تے ہو ئے بھی دل پر کبھی کبھی بو جھ محسوس ہو تا تھا لیکن اب تو جیسے دل ر ہا ہی نہیں تھا ۔یا پھر یو ں کہئے کہ بو جھ ا تنا آن پڑ ا کہ دل اس کے نیچے دب گیا۔ پر یہ بو جھ کس با ت کا تھا ؟
آدمی ذہین ہو ں ،دما غ میں کو ئی سو ال پیدا ہو جا ئے تو میں اس کا جو اب ڈ ھو نڈ ہی نکا لتا ہو ں ۔ٹھنڈ ے دل سے (حا لا نکہ دل کا کچھ پتا ہی نہیں تھا ) میں نے غو ر کر ناشر و ع کیا کہ اس گڑ بڑ گھو ٹا لے کی و جہ کیا ہے ؟
عو رت ؟........ہو سکتی ہے ۔میر ی ا پنی تو کو ئی تھی نہیں ،جو تھی وہ ٹھیا وا ڑ گجر ات ہی میں اﷲکو پیا ر ی ہو گئی تھی ۔ لیکن دو سر و ں کی عو ر تیں مو جو د تھیں۔مثال کے طور پر ا پنے مالی ہی کی تھی ۔اپنا ا پنا ٹیسٹ ہے ۔سچ پو چھئے تو عو رت جو ان ہو نی چا ہئے اور یہ ضر وری نہیں کہ پڑ ھی لکھی ہو ،ڈانس جا نتی ہو ۔اپن کو تو سا ری جو ان عو رتیں چلتی ہیں۔(کا ٹھیا وا ڑ گحر ات کا محا ورہ ہے جس کا اردو میں نعم ا لبد ل مو جو د نہیں ۔)
آدمی ذہین ہو ں ۔کو ئی مسلہ سا منے آجا ئے تو اس کی تہہ تک پہنچنے کی کو شش کر تا ہے کارخانے چل رہے تھے ۔دکا نیں بھی چل ر ہی تھیں ۔روپیہ اپنے آپ پیدا ہو رہا تھا جس نے الگ تھلگ ہو کر سو چنا شر وع کیا اور بہت دیر کے بعد ا س نتیجے پر پہنچا کہ دل کی گڑ بڑ صرف اس لئے ہے کہ میں نے کو ئی نیک کام نہیں کیا۔
ٹھیکاواڑ گجر ات میں تو بیسیو ں نیک کام کیے تھے ۔مثال کے طو ر پر جب میر ا دوست مر گیا تو میں نے اس کی را نڈکو اپنے گھر میں ڈال لیا ۔اور دو برس تک اس کو د ھند ا کر نے سے رو کے ر کھا ۔و نا ئک کی لکڑ ی کی ٹا نگ ٹو ٹ گئی تو اسے نئی خر ید دی ۔تقر یبا چا لیس رو پے اس پر ا ٹھ گئے تھے۔جمنا با ئی کو گر می ہو گئی ۔سا لی کو (معا ف کیجئے گا ) کچھ پتا ہی نہیں تھا ۔میں اسے ڈا کٹر کے پا س لے گیا ۔چھ مہینے بر ابر اس کا علا ج کر اتا رہا ..........لیکن پا کستا ن آکر میں نے کو ئی نیک کا م نہیں کیا تھا اور دل کی گڑ بڑ کی وجہ یہی تھی ور نہ اور سب ٹھیک تھا ۔
میں نے سو چا کیا کر و ں ؟........خیر ات دینے کا خیال آیا ۔لیکن ایک روز شہر میں گھو ما تو د یکھا کہ قر یب قریب ہر شخص بھکا ری ہے کو ئی بھو کا ہے ،کو ئی ننگا ۔کس کس کا پیٹ بھر و ں ،کس کس کا انگ ڈھا نکو ں ؟ سو چا ایک لنگر خانہ کھو ل دو ں ۔لیکن ایک لنگر خا نے سے کیا ہو تا اور پھر انا ج کہا ں سے لا تا ؟ بلیک ما ر کیٹ سے خر ید نے کا خیا ل پیدا ہو اتو یہ سوال بھی سا تھ ہی پیدا ہو گیا کہ ایک طر ف گنا ہ کر کے دو سر ی طر ف کا ر ثو اب کا مطلب ہی کیا ہے ؟
گھنٹو ں بیٹھ بیٹھ کر میں نے لو گو ں کے د کھ درد سنے ۔سچ پو چھئے تو ہر شخص د کھی تھا ۔وہ بھی جو د کا نو ں کے تھٹر وں پر سو تے ہیں اوروہ بھی جو او نچی او نچی حویلیو ں میں ر ہتے ہیں پید ل چلنے وا لے کو یہ د کھ تھا کہ اس کے پا س کا م کا کوئی جو تا نہیں ۔مو ٹر میں بیٹھنے والے کو یہ د کھ تھا کہ اس کے پا س کا ر کا نیا ما ڈل نہیں ۔ہر شخص کی شکا یت اپنی ا پنی جگہ در ست تھی ۔ہر شخص کی حا جت ا پنی ا پنی جگہ معقو ل تھی ۔
میں نے غا لب کی ایک غز ل اﷲ بخشے شو لا پو ر کی ا مینہ با ئی چتلے کر سے سنی تھی ۔ایک شعر یا د رہ گیا ہے ۔کس کی حا جت روا کر ے کو ئی .......معا ف کیجئے گا یہ اس کا دو سر ا مصر عہ ہے اور ہو سکتا ہے پہلا ہی ہو ۔
جی ہا ں ،میں کس کس کی حا جت روا کر تا جب سو میں سے سو ہی حا جت مند تھے میں نے پھر یہ بھی سو چا کہ خیر ات د یناکو ئی ا چھا کام نہیں ۔ممکن ہے آپ مجھ سے ا تفا ق نہ کر یں ۔لیکن میں نے مہا جر ین کے کیمپو ں میں جا جا کر جب حا لا ت کا ا چھی طر ح جا ئز ہ لیا تو مجھے معلو م ہو اکہ خیر ات نے بہت سے مہا جر ین کو با لکل ہی نکما بنا دیا ہے ۔دن بھر ہا تھ پر ہا تھ دھر ے بیٹھے ہیں ۔تا ش کھیل ر ہے ہیں ۔جگا ر ہو ر ہی ہے (معاف کیجئے گا جگا ر کا مطلب ہے جو ا یعنی قما ر با ز ی) گا لیا ں بک ر ہے ہیں اور فو کٹ یعنی مفت کی رو ٹیا ں تو ڑ رہیں ہیں.......ایسے لو گ بھلا پا کستا ن کو مضبو ط بنا نے میں کیا مد ددے سکتے ہیں۔چنا نچہ میں اسی نتیجے پر پہنچا کہ بھیک د یناہر گز ہر گز نیکی کاکام نہیں ۔لیکن پھر نیکی کے کا م کے لیے اور کو ن سا ر ستہ ہے ۔؟
کیمپو ں میں د ھر ادھر آدمی مر ر ہے تھے۔ کبھی ہیضہ پھو ٹتا تھا کبھی پلیگ۔ہسپتالو ں میں د ھر نے کو جگہ نہیں تھی ۔مجھے بہت تر س آیا ۔قر یب تھا کہ ایک ہسپتال بنو ا دو ں مگر سو چنے پر ارا دہ تر ک کر دیا ۔پو ری ا سکیم تیا ر کر چکا تھا ۔عما رت کے لیے ٹنڈ ر طلب کر تا ۔دا خلے کی فیسو ں کا رو پیہ جمع ہو جا تا ۔اپنی ہی ایک کمپنی کھڑ ی کر دیتا اور ٹنڈ راس کے نام نکال دیتا۔خیال تھا ایک لا کھ رو پے عما رت پر صر ف کر دو ں گا ۔ظا ہر ہے کہ سترہز اررو رو پے میں بلڈ نگ کھڑ ی کر دیتا اور پو رے تیس ہز اررو پے بچا لیتا ۔مگر یہ ہما ری ا سیکم دھر ی کی دھر ی رہ گئی ۔جب میں نے سو چا کہ ا گر مر نے والو کو بچالیا گیا تو یہ جو زائد آبا دی ہے وہ کیسے کم ہو گی ۔
غو ر کیا جا ئے تو یہ سا را لفرا ہی فا لتو آبا دی کا ہے ۔لفر ا کا مطلب ہے جھگڑ ا وہ جھگڑ ا جس میں فضیحتا بھی ہو لیکن اس سے بھی اس لفظ کی پو ری معنو یت میں بیا ن نہیں کر سکا ۔جی ہا ں غو ر کیا جا ئے تو یہ سا رالفر اہی اس فا لتو آبا دی کا ہے ۔اب لو گ بڑھتے جا ئیں گے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ز مینیں بھی سا تھ سا تھ بڑ ھتی جا ئیں گی۔آسما ن بھی پھیلتا جا ئے گا ،۔با ر شیں ز یا دہ ہو ں گی ۔انا ج ز یا دہ اُگے گا ۔اس لیے میں اس نتیجے پر پہنچا .........کہ ہسپتال بنا نا ہر گز ہر گز نیک کام نہیں ۔
پھر سو چا کہ مسجد بنو ا دو ں لیکن اﷲنجشے شو لا پو ر کی ا مینہ با ئی چتلے کرکا گا یا ہو اایک شعر یا د اگیا نام منجو ر ہے تو فیج کے ا سبا ب بنا .........وہ منظور کو منجوراور فیض کو فیج کہا کر تی تھی ۔نام منظو ر ہے تو فیض کے اسبا ب بنا ۔پل بنا چا ہ بنا مسجد و تا لاب بنا ۔
کس کم بخت کو نا م و نمو د کی خو ا ہش ہے ۔وہ جو نا م ا چھا لنے کے لیے پل بنا تے ہیں نیکی کا کام کیا کر تے ہیں .........خا ک میں نے کہا نہیں یہ مسجد بنو انے کا خیا ل با لکل غلط ہے ۔بہت سی الگ الگ مسجد و ں کا ہو تا بھی قو م کے حق میں ہر گز مفید نہیں ہو سکتا اس لیے کہ عو ام بٹ جا تے ہیں ۔
تھک ہارکر میں حج کی تیا ر یا ں کر ر ہا تھا کہ اﷲمیا ں نے مجھے خو د ہی ایک را ستہ بنا دیا ۔شہر میں ایک جلسہ ہو ا ۔جب ختم ہوا تو لو گو ں میں بد نظمی پھیل گئی ۔ا تنی بھگد ڑ مچی کہ تیس آدمی ہلا ک ہو گئے ۔اس حا د ثے کی خبر دو سر ے روز ا خبا روں میں چھپی تو معلو م ہو ا کہ وہ ہلا ک نہیں بلکہ شہید ہو ئے تھے ۔
میں نے سو چنا شر وع کیا ۔سو چنے کے علا وہ میں کئی مو لو یو ں سے ملا ۔معلو م ہو ا کہ وہ لو گ جو اچا نک حا د ثو ں کا شکا ر ہو تے ہیں ا نہیں شہا دت کا ر تبہ ملتا ہے یعنی وہ ر تبہ جس سے بڑ ا کو ئی اور ر تبہ ہی نہیں ۔میں نے سو چا کہ اگر لو گ مر نے کی بجا ئے شہید ہو اکر یں تو کتنا اچھا ہے ۔وہ جو عا م مو ت مر تے ہیں ظا ہر ہے کہ ان کی مو ت با لکل اکا رت جاتی ہے۔اگر وہ شہید ہو جاتے تو کو ئی بات بنتی ۔
میں نے اس باریک بات پر اور غو ر کر نا شر وع کیا ۔
چا رو ں طر ف جد ھر د یکھو خستہ حال انسان تھے ۔چہر ے ز رد ،فکر و تر دد اور غم روز گا ر کے بو جھ تلے پسے ہو ئے ۔د ھنسی ہو ئی آنکھیں ،بے جان چا ل ۔کپڑ ے تا ر تار ۔ریل گا ڑ ی کے کنڈ م مال کی طر ح یا تو کسی ٹو ٹے پھو ٹے جھو نپڑ ے میں پڑے ہیں یا با زاروں میں بے ما لک مو یشیو ں کی طر ح منہ ا ٹھا ئے بے مطلب گھو م ر ہے ہیں۔کیو ں جی ر ہے ہیں۔کس کے لیے جی رہے ہیں اور کیسے جی ر ہے ہیں۔اس کا کچھ پتا ہی نہیں ۔کو ئی وبا پھیلی ۔ہز اروں مر گئے اور کچھ نہیں تو بھو ک اور پیاس ہی سے گھل گھل مر ے ۔سر د یو ں میں ا کڑ گئے ۔گر میو ں میں سو کھ گئے ۔کسی کی مو ت پر کسی نے دو آنسو بہا دئے۔ا کثریت کی مو ت خشک ہی رہی ۔
ز ند گی سمجھ میں نہ آئی ،ٹھیک ہے ۔اس سے حظ نہ ا ٹھا یا ،یہ بھی ٹھیک ہے ..........وہ کس کا شعر ہے اﷲنجشے شو لا پو ر کی ا مینہ با ئی چتلے کر کیادرد بھر ی آو از میں گا یا کر تی تھی
؂مر کے بھی چین نہ پا یا تو کد ھر جا ئیں گے ۔میر ا مطلب ہے اگر مرنے کے بعد بھی ز ند گی نہ سد ھر ی تو لعنت ہے سسر ی پر۔
میں نے سو چا کیو ں نہ یہ بیچا رے ،یہ قسمت کے مارے ،دردر کے ٹھکر ائے ہو ئے انسان ،جو اس د نیا میں ہر اچھی چیز کے لیے تر ستے ہیں ۔اس دنیا میں ایسا ر تبہ حا صل کر یں کہ وہ جو یہا ں ان کی طر ف نگاہ ا ٹھا نا پسند نہیں کر تے ان کو د یکھیں اور ر شک کر یں ۔اس کی ایک صو رت تھی کہ وہ عام مو ت نہ مر یں بلکہ شہید ہو ں۔
اب سو ال یہ تھا کہ یہ لو گ شہید ہو نے کے لیے را ضی ہو ں گے ؟ میں نے سو چا ،کیوں نہیں ،وہ کون مسلما ن ہے جس میں ذو ق شہا دت نہیں ۔مسلما نو ں کی د یکھا دیکھی تو ہند وؤ ں اور سکھو ں میں بھی یہ ر تبہ پیدا کر دیا گیا ہے ۔لیکن مجھے سخت نا امید ی ہو ئی جب میں نے ایک مر یل سے آدمی سے پو چھا ۔،،کیا تم شہید ہو نا چا ہتے ہو ؟،، تو اس نے جو اب دیا ۔نہیں ۔،،
سمجھ میں نہ آیا کہ وہ شخص جی کر کیا کر ے گا ۔میں نے اسے بہت سمجھا یا کہ د یکھو بڑے میا ں،ز یا دہ سے زیا دہ ڈ یڑ ھ مہینہ اور جیو گے ۔چلنے کی تم میں سکت نہیں ،کھا نستے کھا نستے غو طے میں جا تے ہو تو ایسا لگتا ہے کہ بس دم نکل گیا ۔پھو ٹی کو ڑ ی تک تمھا رے پاس نہیں د یکھا ۔مستقبل کا تو سو ال ہی پیدا نہیں ہو تا ۔پھر اور کر کیا کرو گے ۔فو ج میں تم بھر تی نہیں ہو سکتے ۔اس لیے محاذ پر ا پنے و طن کی خاطر لڑ تے لڑ تے جان دینے کا خیا ل بھی عبث ہے ۔اس لیے کیا یہ بہتر نہیں کہ تم کو شش کر کے با ز ار میں یا ڈ یر ے میں ،جہا ں تم رات کو سو تے ہو ۔اپنی شہا دت کا بند و بست کر لو ۔اس نے پو چھا ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟،،
میں نے جو اب دیا ۔سا منے کیلے کا چھلکا پڑا ہے ۔فر ض کر لیا جا ئے کہ تم اس پر سے پھسل جا ؤ ..........ظا ہر ہے کہ تم مر جا ؤ گے اور شہا دت کا ر تبہ پا ؤ گے ۔،، پر یہ بات اس کی سمجھ میں نہ آئی ،کہنے لگا ۔،،میں کیو ں آ نکھو ں د یکھے کیلے کے چھلکے پر پا ؤ ں د ھر نے لگا .........کیا مجھے ا پنی جان عز یز نہیں ..........اﷲاﷲکیا جان تھی ۔ہڈ یو ں کا ڈ ھا نچہ ۔جھر یو ں کی گٹھری........
مجھے بہت ا فسو س ہو ااور اس و قت اور بھی ز یا دہ ہو ا جب میں نے سنا کہ وہ کم بخت بڑی آسا نی سے شہا دت کا ر تبہ ا ختیا ر کر سکتا تھا خیر اتی ہسپتال میں لو ہے کی چا ر پا ئی پر کھانستاکھنکا ر تا مر گیا ۔
ایک بڑ ھیا تھی ،منہ میں دا نت نہ پیٹ میں آنت ۔آخر ی سا نس لے رہی تھی ۔مجھے بہت تر س آیا ۔سا ری عمر غر یب کی مفلسی اور رنج و غم میں گز ری تھی ۔میں اسے ا ٹھا کر ر یل کے پا ٹے پر لے گیا ۔(معا ف کیجئے گا ہما رے یہا ں پٹڑ ی کو پا ٹا کہتے ہیں ۔) لیکن جناب جو نہی اس نے ٹر ین کی آواز سنی ہو ش میں آگئی اور کو ک بھر ے کھلو نے کی طر ح ا ٹھ کر بھا گ گئی ۔
میرادل ٹو ٹ گیا ،لیکن پھر بھی میں نے ہمت نہ ہا ری بینے کا بیٹا اپنی دھن کا پکا ہوتا ہے نیکی کا جو صاف اور سید ھا را ستہ مجھے نظر آیا تھا میں نے اس کو اپنی آنکھ سے او جھل نہ ہو نے دیا ۔
مغلو ں کے وقت کا ایک بہت بڑااحا طہ خا لی پڑ ا تھا ۔اس میں ایک سو اکاو ن چھو ٹے چھو ٹے کمر ے تھے ،بہت ہی خستہ حا لت میں ،میر ی تجر بہ کا ر آنکھو ں نے اند از ہ لگا لیا کہ پہلی ہی بڑ ی با رش میں سب کی چھتیں ڈ ھے جا ئیں گی ۔چنا نچہ میں نے اس احا طے کو سا ڑ ھے دس ہز ار روپے میں خر ید لیا اور اس میں ایک ہز ار مفلو ک ا لحا ل آدمی بسا دیے۔دو مہینے کا کر ایہ و صو ل کیا ایک رو پیہ ما ہو ار کے حسا ب سے تیسر ے مہینے جیسا کہ میر ا اند از ہ تھا پہلی ہی بڑ ی با رش میں سب کمر وں کی چھتیں نیچے آرہیں اور سا ت سو آدمی جن میں بچے بو ڑ ھے سبھی شا مل تھے شہید ہو گئے ۔
وہ جو میر ے دل پر بو جھ سا تھا کسی قدر ہلکاہو گیا۔ آبا دی میں سے سا ت سو آدمی کم بھی ہو گئے ،اور انھیں شہا دت کا رتبہ بھی مل گیا ۔اد ھر کا پلڑ ابھا ر ی ہی رہا ۔جب سے میں یہی کام کر رہا ہو ں ۔ہر روز حسب تو فیق دو تین آدمیو ں کو جا م شہا دت پلا د یتا ہو ں ۔جیسا کہ میں عر ض کر چکا ہو ں کا م کو ئی بھی ہو انسان کو محنت کر نا پڑ تی ہے ۔مثال کے طو ر پر ایک آدمی کو جس کا و جو د چھکڑ ے کے پا نچو یں پہیئے کی طر ح بے معنی اور بیکا ر تھا ،جا م شہا دت پلا نے کے لیے مجھے پو رے دس دن جگہ جگہ کیلے کے چھلکے گر انے پڑ ے ،لیکن مو ت کی طر ح جہا ں تک میں سمجھتا ہو ں شہا دت کا بھی ایک دن مقر ر ہے ۔دسو یں روز جا کر وپتھر یلے فر ش پر کیلے کے چھلکے پر سے پھسلا اور شہید ہو ا۔
آج کل میں ایک بہت بڑ ی عما رت بنو ا رہا ہو ں ۔ٹھیکہ میر ی ہی کمپنی کے پاس ہے ۔دو لا کھ کا ہے ۔اس میں سے پچھترہزا ر تو میں صاف اپنی جیب میں ڈال لو ں گا ۔بمیہ بھی کرا لیا ہے ۔میرا اند از ہ ہے کہ جب تیسر ی منز ل کھڑ ی کی جا ئے گی تو ساری بلڈ نگ اڑ ااڑ ا دھڑ ام گر پڑ ے گی ،کیو نکہ مصا لحہ ہی میں نے ایسا لگو ایا ہے ۔اس وقت تین سو مز دور کام پر لگے ہو ں گے ۔خدا کے گھر سے مجھے پو ری پو ری ا مید ہے کہ یہ سب کے سب شہید ہو جا ئیں گے ۔لیکن اگر کو ئی بچ گیا تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ پر لے در جے کا گنہگار ہے جس کی شہا دت اﷲبتا رک تعا لی کو منظو ر نہیں تھی۔

****



 منٹوکی شہید سازی ........... ایک تجزیہ 


 از محمد بشیر مالیرکو ٹلوی

  MOHD.BASHIR MALERKOTLVI
  Retd.Estate Officer
  Near Urdu Academy
  Delhi Gate , Malerkotla - Pb

                             افسانہ شہید ساز کا شمار سعادت حسن منٹو کے بہترین افسانوں میں ہو تا ہے شہید ساز کی کہانی کچھ اس طرح سے ہے ملاحظہ ہو .....
اس افسانے میں راوی خود اس کا بنیادی کر دار ہے جو گجرات کا رہنے والا ہے ذات کا بنیا ہے ہندوستان میں اس کا کو کین کا دھندہ ہے وہ پاکستان چلاجاتاہے یہ سوچ کر کہ وہاں جاکر وہ کو ئی موٹاکارو بار کر ے گا ، پاکستان جاکر وہ مہاجرین کی جائیداد وں کی الاٹمینٹوں کا کا م شروع کر لیتا ہے آفسروں کو مسکا لگانا خوشامد کر نا ، پارٹیاں کھلانا اسے خوب آتاتھا وہ پہلے ایک چھوٹا سا مکان الاٹ کر والیتاہے اس سے اچھاخاصا فائدہ اٹھاکر وہ شہر میں گھوم پھر کر اچھے مکان تلاش کر تا ہے اور ان کو اپنے نا م کر واکر بیچ دیتا ہے اور منافع کماتاہے اس کے پاس رہنے کے لئے کوٹھی، نوکر، چاکر، گاڑی، بینک بائلنس ، کارخانے اور دکانیں سب کچھ ہیں مگر اسے سکو ن نہیں ملتا وہ سوچتاہے کہ وہ ہندوستان میں رہتا توکو ئی نیک کام بھی کر لیتا ، پاکستان آکر تو اس نے ایسا کچھ نہیں کیا ، پیسہ ہی کمایا ، بقول اس کے کہ اللہ کا دیا سب کچھ تھا رہنے کو بہترین کوٹھی ،نوکر چاکر ، پیکارڈموٹر، بینک میں ڈھائی لاکھ روپے ، کارخانے اور دکانیں الگ ، یہ سب کچھ تھا مگر اس کے دل کو سکون نہیں تھا ، سکون کے لئے عورت چاہئے ، عورت تو ہندوستان میں مر گئی ، چلو دوسروں کی عورتیں ہیں ، وہ اس نتیجے پر پہنچتاہے کہ کو ئی نیک کام کیا جائے ، کاٹھیاواڑ گجرات میں وہ کبھی کسی بیوہ کی مدد کر دیتاتھا ، کسی لنگڑے کو لکڑی کی ٹانگ لگودیتا ، کسی بیمار کا علاج کر وادیتا ، اس نے سوچاکہ بہت سے لو گ کیمپوں میں بیمار پڑے ہیں ،کیوں نہ وہ اسپتال بنادے ، وہ ارادہ کر تا ہے پھر سوچتاہے کہ اسپتال بن گیا تولو گ کم تعداد میں مر یں گے ملک کی آبادی بڑھے گی جو ملک اور قوم کے لئے ایک مسئلہ ہے ، وہ اسپتال بنانے کا خیا ل چھوڑ دیتاہے ، پھر یہ سوچتاہے ایک مسجد بنوادیتا ہوں لو گ عبادت کر یں گے یہ بھی نیک کام ہے پھر یہ سوچ کر مسجد بنانے کا خیال بھی چھوڑ دیتاہے کہ زیادہ مسجدیں بنیں گی توقوم بٹ جا ئے گی ، وہ حج کو جانے کے لئے ارادہ بنالیتا ہے کہ ایک دن اخبار میں خبر پڑھتاہے کہ ایک جلسہ میں بھگدڑ مچ گئی ، ۳۰شہید ہوگئے ، وہ پریشان رہتاہے اور ایک مولوی سے پوچھتاہے مولوی اس کو بتاتا ہے کہ کو ئی شخص اگر اچانک کسی حادثے کا شکا ر ہوجائے تو وہ شہید کا مر تبہ پا لیتاہے وہ یہ سوچتاہے کہ لو گ ایسے ہی مر جاتے ہیں اگر ان کو شہید کا رتبہ دلایا جا ئے تو یہ بھی نیک کام ہو ا ، وہ سوچتاہے کہ وہ حج کی تیاریاں کر لیا تھا اللہ میاں نے اسے خود ہی ایک راستہ بتادیا ، اب سوال یہ تھا کہ شہید ہونے کیلئے کس کو تیار کیا جائے ، اس نے ایک مریل آدمی سے پوچھاکہ کیا تم شہید ہو نا چاہتے ہو تو اس نے جو اب دیا ’’ نہیں ‘‘ اس نے مر یل آدمی کو سمجھایا کہ وہ زیادہ دن جی نہ سکے گا پھوٹی کو ڑی اس کے پا س نہیں ، فوج میں بھرتی وہ ہو نہیں سکتا ، بہتر ہے شہید ہوجائے ، مریل آدمی پو چھتاہے وہ کیسے؟ وہ جواب دیتاہے کہ وہ کیلے کا چھلکا پھینکے گا وہ اس پر پھسل کر مرجائے اور شہید کا رتبہ پالے ، آدمی صاف انکار کر دیتاہے کہتاہے کہ وہ جان بوجھ کر کیوں پھسلے ، تھوڑے دن بعد وہ مر گیا مگر شہیدنہ ہو ا ، ایک بوڑھیا تھی آخری سانس لے رہی تھی وہ اسے اٹھاکرریل کی پٹری پر لے گیا ٹرین کی آواز سن کر وہ ہو ش میں آگئی اور اٹھ کر بھاگ گئی ، وہ بڑادل برداشتہ ہو ا ، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری ، اسے مغلوں کے زمانے کا ایک احاطہ مل گیا جسے اس نے دس ہزار روپے میں خریدلیا اس احاطہ میں ایک سوا کیاون چھوٹے چھو ٹے کمرے تھے ، ان کمروں میں اس نے ایک ہزار کرایہ دار بسالئے ، اس کی تجربہ کا ر آنکھوں نے اندازہ لگایا کہ پہلی ہی بارش میں چھتیں گر جائیں گے ، تین مہینے بعد چھتیں نیچے آرہیں اور سات سو آدمی جن میں بچے بوڑھے سبھی شامل تھے شہید ہوگئے دوسرے ان سب کو شہادت کا رتبہ مل گیا ، بقول بنیا صاحب کہ وہ ہر روز دوتین آدمیوں کو جام شہادت پلادیتے ہیں فی الحال وہ ایک بلڈنگ بنوارہے ہیں جس میں تین سو مزدور کام پر لگیں گے ناقص میٹریل کے وجہ سے بلڈنگ گرجائے گی مزدور دب جائیں گے یعنی شہادت پالیں گے اگرایک بھی بچ گیا توسمجھو اس کی شہادت اللہ کو منظور نہیں ، اگر کو ئی شخص کسی واردات کی پلاننگ کر تاہے اور سات سو آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیتاہے اسے ہم کیا کہیں گے ۔؟ شہید ساز کا مرکزی کردار جان بوجھ کر سوچی سمجھی اسکیم کے تحت اسی نیت سے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ مریں ، اپنے احاطہ میں کرایہ دار بھر لیتاہے ، تقریبا ایک ہزار لٹے کھٹے اور غریب لوگ سستاکر ایہ دیکھ کر آجاتے ہیں عین اندازے کے مطابق چھتیں گر تی ہیں اور سات سو آدمی جان بحق ہو جاتے ہیں اس سے بڑاآتنک واد ی کو ئی ہو سکتاہے ، سات سو آدمیوں جن میں بچے بوڑھے اور جوان تھے، کو موت کی نیند سلاکر مرکزی کر دار بنیا مطمئن ہے کہ اس نے اپنے ملک کی آبادی کم کر نے میں مددکی ہے کیا ملک کو آتنک وادیوں اور نکسلیوں کا مرہون منت ہو نا چاہئے ۔؟ اور ان کی دیش بھگت مان لینا چاہئے ؟ کہ وہ آبادی کم کر نے میں ملک کی مدد فرمارہے ہیں ۔
بہر حال آئیے ہم شہید ساز کے دوسرے پہلووں پر بھی غور کر یں ، ہمیں پہلی بار معلوم ہو ا کہ مسلمانوں میں بھی بنیا ذات ہے ورنہ ہم تو یہی سمجھتے ہیں کہ بنیا اور مسلمان دومتضاد قومیں ہیں ، بنیا غیر مسلم ہی ہو تاہے شاید ، ہماری معلومات ناقص تھی ، ممکن ہے جیسااستاذمنٹونے دکھایا ہے کہ گجرات میں مسلمان بنیے ہو ا کر تے ہیں ہم نے کسی مسلمان کے نام کے آگے گپتایا گوئیل لکھانہیں دیکھا ، اس افسانے میں حسب روایت استاذ منٹوخو د راوی نہیں بلکہ مرکزی کر دار جس کو منٹو نے کو ئی نام نہیں دیا وہی آپ بیتی بیا ن کر تاہے نام دے دیتے تو افسانہ کے آغاز میں ہی واضح ہو جا تا کہ وہ مسلمان ہے اور بنیا بھی ، تقسیم وطن کے دنوں میں وہ پاکستان چلاجاتاہے اس وطن سے ، کہ وہ پاکستان میں موٹا کاروبار کرے گا کو ئی اچھابیوپاری تو یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کیوں کہ قتل وغارت لوٹ کھسوٹ کے ماحول میں آدمی کیا موٹاکاروبار کر سکتاہے ۔؟ ہندوستان پاکستان سے ہزاروں لوگوں نے اِدھر سے اْدھرہجرت کی لوگ دونوں ملکوں میں اپنی جائیداد یں چھوڑکر ہجرت کر گئے ایسی چھوڑی ہوئی جائیداد وں کو ’’ ایویکیو‘‘ جائیدادکا نام دیا گیا ان کے انتظام کے لئے دونوں کسٹوڈین نامی محکمے بنائے گئے ، مان لیجئے کہ اگر کوئی مسلمان ہندوستان اپنی ایک لاکھ کی مالیت کی جائیداد چھوڑ کر پاکستان چلاگیا اوراس نے وہاں جاکر حکومت سے اپنی جائیداد کے کلیم کا مطالبہ کیا تو کسٹوڈین اس سے چھوڑی ہوئی جائیداد کے پکے ثبوت مانگتاتھا تسلی بخش ثبوت دیکھ کر اس کی جائیداد کا اس کو معاوضہ ملتاتھا ، بہت سے لوگ توتقسیم کے بہت بعد دوسرے ملک سے اپنی جائیداد وں اور مکانوں کے ثبوت حاصل کر نے آئے حکومتیں آپس میں ثبوتوں کی تصدیق بھی کر تی تھیں ، شہید ساز میں استاذمنٹو کا مرکزی کردار افسروں کو خوش کر کے کلیم حا صل کر تاگیا ، وہ شہر میں گھوم پھر کر ایسے مکانات دیکھ لیتا جو مہاجرین کے ہوتے اور اپنے نام کر والیتا ، ایک آدھ معاملے میں بے ضابطگی تومانی جاسکتی ہے مگر کسٹوڈین کے آفیسر جس کو چاہتے تھے یوں ہی جائیداد الاٹ کر دیتے تھے ، یہ ممکن نہیں تھا میں سمجھتاہوں یہ مشاہدات کی کمی ہے شاید یہ استاذ کا خیا لی پلاؤ تھا ، کسٹوڈین دوسرے ملک کے محکمہ مال کاریکارڈ اور رجسٹری وغیر ہ دیکھ کر ہی کلیم دیتاتھا مانا کہ استاذ نے اپنے امیر ترین شخص بنا نا تھا کسی اور ذریعہ سے بنادیتے ، بہت سا روپیہ کماکر بنیے کے دل کا سکون ختم ہوجاتاہے وہ ہندوستان میں تھا توکبھی کسی بیوہ کی مدد کر دیتا کسی لنگڑے کو نقلی ٹانگ لگوادیتا ، کسی مریض کا علاج کر وادیتا جب سے وہ پاکستان آیا تھا اس نے کو ئی نیک کام نہیں کیا تھا ، وہ کیمپوں میں بیمار لوگوں کو دیکھ کر سوچتاہے کہ وہ ایک اسپتال بنا دے پھر سوچتاہے اسپتال بنا تو ملک کی آبادی کم نہ ہو گی ، یہ خیا ل ترک کے وہ سوچتاہے کہ مسجد بنوادیں ، پھر سوچتاہے جتنی زیادہ مسجدیں ہو نگی اتنی ہی قوم حصوں میں بٹے گی ، وہ حج کر نے کا ارادہ بنا لیتاہے ،دریں اثنا ء ایک حادثہ ہو تا ہے ایک جلسے میں بھگدڑ کے دوران تیس آدمی مارے جاتے ہیں اخبار لکھتاہے کہ تیس آدمی شہید ہوگئے وہ ایک مولوی سے تصدیق کی غرض سے پوچھتا ہے کہ اس طرح لوگ شہید ہوسکتے ہیں مولوی جواب دیتاہے کہ اگر کوئی شخص اچانک کسی حادثے کا شکار ہو جائے تو اسے مرنے کے بعد شہادت کا رتبہ ملتا ہے ، جو آدمی مولویوں سے شرعی معاملوں کے سلسلے میں مشورہ لیتا ہے وہاں وہ مولوی سے یہ نہیں پوچھ سکا کہ آخر وہ ایسا کو ن سانیک کام کر ے جس سے اس کو سکون حاصل ہو ، جب وہ لوگوں کو شہید بنانے یعنی شہید سازی کا عمل شروع کر تاہے اس وقت بھی مولوی سے دریافت نہیں کر تا کہ اس کے جال میں پھنس کر لوگ شہید کا مرتبہ توپالیں گے اس کو ثواب ملے گا یا گناہ کے بد لے عذاب اس کا فعل کیا کہلائے گا اس فعل کی کیا شکل ہو گی۔؟شہادت کا رتبہ دلانے کو نیک کام سمجھ کر وہ جان بوجھ کر سات سو غریبوں کو مروادیتاہے وہ اپنے اس فعل پر بڑامطمئن ہو تا ہے کہ وہ بڑا نیک کام کر رہے ہیں ، سوال یہ اٹھتاہے کہ ہزار کرایہ داروں میں سے کو ئی ایک آدمی بھی عقلمند نہیں تھا جو یہ سمجھ سکتاکہ چھتیں اس قدر بوسیدہ ہیں کہ جان جانے کا خطر ہ ہے ، کیا ان کو شہید ہو نے کاشو ق تھا ، جب بنیے کا بیٹا سمجھ سکتاہے کہ اس برسات میں چھتیں گریں گی وہ ہزار آدمی کیوں نہ سمجھ سکے ، بنیے کا بیٹا محسو س ہر نہیں کر سکا کہ مرنے والوں کی موت کاذمہ دا ر وہ خود ہے جب کمرے گرے تو ظاہر ہے مالک مکان بھی حادثہ کی جگہ پہونچاہی ہو گااتنی بڑی تعداد میں لاشیں تو اس نے بھی دیکھی ہوں گی، دس لاشیں دیکھ کر آدمی کا براحال ہو جاتاہے بنیے کے دل پر کیا گذری جب اس نے بقول استاذ کے کہ سات سو لوگ مرے دیکھے ، لاشوں ک اڈھیر لگ گیا ہوگا بنیے تو بنیادی طور پر دل کے کمزور ہو تے ہیں اتنی بڑی تعداد میں لاشیں دیکھ کر اس پر کو ئی اثر نہ ہو ا ؟ حکومت نے جاننے کی بھی کوشش نہ کی کہ اتنی بٹری تعداد میں لوگ مرے تو کیوں؟ سات سو لوگوں کامرنا کو ئی چھوٹا حادثہ نہیں ہو تا ، استاذسو پچاس آدمی مروادیتے توبہتر تھا ، معاملہ یہیں نہیں رکا بلکہ بنیا دو تین آدمیوں کو روزانہ جام شہادت پلادیتاہے ، بنیا مزید کام بڑھا دیتاہے وہ یہ کہ اس کی پلاننگ ایک تین منزلہ بلڈنگ بنانے کی ہے اور گھٹیا مٹیر یل لگا کر وہ بلڈ نگ بنتے بنتے گر ے گی اور تین سو مزدور شہید ہو جائیں گے شہید سازی کی حد ہو گئی ۔ یہ افسانہ تخلیق کر کے منٹو نے کیا کہنا چاہاہے؟ انہوں نے یہ افسانہ لکھ کر کیا (Message ) دیا ہے ، ملک وسماج کے تئیں بھی ادیب کے کچھ فرائض ہو تے ہیں ، مانا کہ منٹو سماج اور ملک سے باغی تھے ، سرپھرے، خود سر،شدت پسند قلمکار تھے پر صاحب ان مدیران کو کیا ہو گیا تھا جو ایسے افسانے لکھواکر فورا معاوضہ پیش کر تے تھے ، کیا وہ بھی یہی پیغام دینا چاہتے تھے کہ دیش کی آبادی کم کرنے کے لئے ایک وقت میں تین سویا سات سو لوگ مار دیئے جائیں ، دوسر افائدہ یہ ہو گا کہ وہ شہادت کے جام پی لیں گے ، کم سے کم آج کا افسانہ نگار ایسے منفی اثرات چھوڑ نے والے موضوعات نہیں اپناتا ،خواہ یہ نک چڑھے نقاد اسے گنتی میں رکھیں یا نہ رکھیں، آج کا مدیر بھی ایسے افسانے شائع نہیں کر گا ملک اور قوم کے علاہ یہ انسانیت کے تقاضوں کے بھی خلاف ہے کہ اتنی تعداد میں معصوم انسانوں کو شہید کر دو شہید ہو نے والا توشہید ہو جائے گا آپ کو توقاتل ماناجائے گا، استاذ کو روپیوں کی ضرورت ہوتی تو رسائل کے دفاتر میں پدھارتے اور کاغذ قلم لیکر وہیں پر بیٹھ کرافسانہ تخلیق کر تے ، افسانے کا معاوضہ لے کر بغیر گنے جیب میں رکھ لیتے اور چل دیتے ایسا کمر شیل ادیب ملک قوم یا انسانیت کے تقاضوں کو کیا سمجھے گا ؟ اور کیوں؟ آخر دیش بھگتی یا انسانی بھلائی کے موضوعات وہ کہا ں سے لاتا اور کب تک اسے تو ہر روز معاوضہ چاہئے تھا اور معاوضہ کے لئے اسے لکھنا پڑتاتھا ، ایسا کمرشیل رائیٹر قابل معافی ہی ہے مگر ان لوگوں کا کیا کیا جائے جو اس کو افسانہ نگاری کو ولی قرار دیتے ہیں ان کے بارے میں لکھ دیتے ہیں کہ منٹو جیسا نہ پیداہوا ہے نہ ہو گا ، ویسے بھی استاذ منٹو سماج اور قوم کا ستایا ہو انسان تھا مقدموں کی وجہ سے وہ چڑِ بھی گیا تھا ممکن ہے شہید ساز انہوں نے چڑِ کر لکھاہو۔
میرے نزدیک ہر واقعہ پر افسانہ تخلیق نہیں ہو ا کر تا اگر آپ کے سامنے کو ئی عجیب وغریب واقعہ یا حادثہ آیا ہے تو اس کو اپنی کسوٹی پر پر کھ لیں کہ اس کا موضوع کیا ہے اس پر افسانہ لکھنا درست ہے یا نہیں یہ افسانہ کو ئی مثبت پیغام دے گا یا منفی؟ یہ موضوع کرائیم کو بڑھاوادینے والاتونہیں ، ملک کے مفاد میں ہے ؟ انسانی جذبوں کو زخمی تونہیں کر تا؟ اگر آپ ذہن کی کسوٹی پر موضوع کھرااترتاہے پھر اس پرمحنت کیجئے ہر موضوع جو سامنے آجائے اس پر افسانہ لکھنا اچھانہیں ، استاذ منٹو نے آخر اس موضوع کو کیوں اپنایا ۔؟ شاید استاذنے یہ خبر پڑھ لی ہو کہ کسی جلسے کی بھیڑمیں بھگدڑ مچی اور تیس آدمی شہید ہو گئے انہوں نے سوچاہو گا ، کہ کتنے ہی لوگ ایسے ہی مرجاتے ہیں یہ لوگ تو اچھے رہے جو شہید ی کا مرتبہ پاگئے ، اگر کو ئی ایسے ہی مرنے والوں کو شہادت کاجام پلایا کر ے یہ بھی بھلاکام ہے ، اسی نظریہ پہ افسانہ تخلیق کر کے معاوضہ پالیا ہوگا مدیر تو اس وقت ہی دیکھتے تھے کہ افسانہ منٹو کا ہے چھاپ دو، آج کا افسانہ محض سوچی ہوئی ، فکری بات نہیں،ہمارے افسانے میں سچائی چھپی ہوئی ہے اسی لئے آج کے افسانے میں بیان کیا ہو ا ماجراقابل یقین ہو تا ہے ، بعید از قیاس نہیں ، گپ نہیں کہ سات سو آدمیوں کو مرنے کاسامان مہیا کردیا استاذسات سو کی بجائے سو پچاس مروا دیتے وہ بھی بہتر تھا قابل یقین تھا اور شہید ساز عنوان آدھے افسانے میں ہی گرہ کھو ل دیتا ہے ، کوتاہی پن کی کمزوری نظر آجاتی ہے کلائمیکس توسپاٹ ہے بلکہ اس افسانے کو ایٹی کلائمیکس کہہ لیں تو بہتر ۔ دیکھ لیجئے ، کردار کا فعل توجاری ہی ہے ابھی تو وہ دوسری بڑی واردات کی پلاننگ کر رہا ہے کہ وہ ایک تین منزلہ بلڈنگ بنائے گا گھٹیا مٹیر یل سے بلڈنگ گرے گی اور وہ تین سو انسانوں کو تین سو مزدورں کو لقمہ اجل بنا دے گا ، اس نے ابھی تو اگلا قدم سوچاہی تھا کہ استاذ نے افسانہ ختم کردیا ، افسانہ تو وہیں ختم ہو جاتاہے جب مغلوں کے زمانے کے احاطے کے کمرے گرتے ہیں اور سات سو آدمی جاں بحق ہو جاتے ہیں ، جملہ بھی اختتام ظاہرکرتا ہے ۔
’’ سب کمروں کی چھتیں نیچے آرہیں اور سات سو آدمی جن میں بچے بوڑھے سبھی شامل تھے شہید ہوگئے ‘‘
افسانہ وہیں ختم ہو جا نا چاہئے تھا کیوں کہ بنیے کا مقصد پورا ہو گیا وہ سات سو آدمیو ں کو شہید کو شہید کا مرتبہ دلاتاہے ۔ بھئی شہید سازی کا کام مکمل ہو جاتاہے ، بنیے کے بیٹے کو سکون مل جاتاہے بات ختم ۔ بنیوں کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ چوہیا کو بھی نہیں مارسکتے ، گھر میں سانپ نکل آئے تو کہتے ہیں کہ کسی آدمی کو بلاؤ تاکہ سانپ کو ماراجائے ، استاذ منٹو کے افسانے کا بنیا تو اور سفاک ہے جو سینکڑوں کو مار کر بھی گھبراتانہیں بلکہ مزید پلاننگ کر نا شروع کر دیتاہے ،۔
یاد رکھئے ! ادیب قوموں کی سوچ بدل دیا کر تے ہیں ، ادیب کو بہت سنبھل کر ادب تخلیق کر نا چاہئے ، اس کی ذراسی لغزش نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے ، ملک اور قوم کے تئیں بھی ادیب کا کو ئی فرض بنتا ہے ، مذہب اور انسانیت کے بھی کچھ تقاضے ہو ا کر تاہیں ان کو بھی مدنظر رکھنا ہو تاہے یہ نہیں کہ جو بات سوچ لی غلط صحیح اسی کو بنیاد بناکر ادب تخلیق کردیا ، آخر ہمیں جو اب دینا ہے اپنے ہمعصر قارئین کو ، آنے والی نسلوں کو۔ 
**** 

 

  اُبال

     ابرار مجیب

     جمشید پور ، انڈیا۔

                       صدیاں بیت گئیں اور وہ مسلسل تپتے ہوئے صحرا میں تشنگی لئے بھٹک رہا ہے۔ چل چل کر، دوڑ دور کر، رینگ رینگ کر وہ تھک چکا، اس بے آب وگیاہ صحرا کا کوئی انت نہیں اور دوڑنا، چلنا، رینگنا اس کا مقدر۔

وہ تنہا نہیں ہے، تاحد نگاہ بکھرے، ایک دوسرے پر سوار اور برسرپیکار پتھر ہی پتھر اور کچھ سنہری چٹانیں۔ سورج کی روشنی روشنی ان چٹانوں سے لپٹ کر شعلگی میں بدلتی ڈھلتی ہے اور آنکھوں کی راہ سے اس کی شریانوں میں اتر جاتی ہے۔ بے حس وبے جان پتھروں اور چمکتی ہوئی سنہری چٹانوں کو دیکھ کر تنہائی کے اذیت ناک اور جان لیوا احساس میں اور بھی اضافہ ہوتا ہے۔

مارے پیاس کے اس کا حال بدحال ہے۔ اوپر سے سورج کا عتاب، پاؤں میں چھالے، لیکن وہ دوڑ رہا ہے، رینگ رہا ہے، چل رہا ہے کہ مقدر بہرحال ہے مقدر ہے اور کہا ہے کسی اللہ کے بندے نے کہ مقدر کا لکھا بھلا کون ٹالے۔

اسے رہ رہ کر حضرت آدم کی کم عقلی اور بیوقوفی پر غصہ آتا ہے کہ انہوں نے ایک ناقص العقل کی باتوں میں آکر وہ کام کر ڈالا جس کی پاداش اسے بھگتنا پڑرہی ہے، چند ہی لمحوں کے بعد وہ سوچنے لگتا کہ اس میں نہ آدم کا قصور ہے، نہ حوا کا اور نہ ہی معلون شیطان کا، بلکہ خدا کے بنائے ہوئے سسٹم کا یہ سبھی شکار ہیں۔ خدا کی حکمتوں کے پردے چاک نہ کر، اس کے ذہن میں یہ جملہ گونجتا اور جھنجھلا کر وہ اپنے آپ کو گالیاں دینے لگتا۔

دفعتا" گرم ہواؤں کے بگولے چلنے لگے اور اس کا وجود بری طرح جھلسنے لگا۔ ایک بھیانک چیخ اس کے حلق میں گھٹ کر رہ گئی کیونکہ اچانک اس کی آنکھیں کھل گئی تھیں۔ "اچھا تو یہ سب خواب تھا۔" کتنا بھیانک تھا یہ خواب۔ کچھ دیر تک وہ یوں ہی بے حس و حرکت پڑا رہا پھر اسی طرح پڑے پڑے اپنی بائیں طرف ہاتھ مارا لیکن وہی ہوا، ہر روز کی طرح بیوی پہلے ہی بیدار ہوکر جاچکی تھی۔ اس کے دماغ کے اندر کوئی شئے کلبلائی، پھر اسے محسوس ہوا کہ اس شئے نے ڈنک مار دیا ہو۔ اس کا دماغ جھنجھنا اٹھا۔

اس نے چھت کی جانب نگاہ اٹھائی۔ رات بھر کا تھکا ہوا فین سست روی سے گھوں گھوں کرتا ہوا گردش کررہا تھا۔ چند لمحے تک وہ یکساں رفتار سے گردش کرتے ہوئے فین کو گھورتا رہا پھر کروٹ بدلی۔ سامنے دیوار پر ایک پینٹنگ ٹنگی ہوئی تھی جس پر سر سبز وشاداب ی جنگل، بلندی سے گرتے ہوئے آبشار، ابھرتے ہوئے سورج کی نارنجی کرنوں او رپرواز کرتے سفید پرندوں کو رنگوں میں اسیر کرلیا گیا تھا۔ اس بار اچانک اس کے دماغ میں کلبلاتی ہوئی شئے نے اتنا زبردست ڈنک مارا کہ اس نے کرب کی شدت سے آنکھیں میچ لیں اور اپنے بالوں کو مٹھیوں میں جکڑ لیا۔ اس کےمنہ سے ایک گندی گالی نکلتے نکلتے رہ گئی۔

دفعتا" بچوں کے ممنانے ، ناک دھننے اور پیسے مانگنے کی ضد بھری آوازیں، بیوی کی ڈانٹنے، پھٹکارنے اور وقت پر اسکول پہنچنے اور واپس آنے کی تاکید کرنے کی آوازیں اس کے کانوں میں پہنچنے لگیں۔

"معمول کے مطابق یہ سب تو ہونا ہی ہے۔" وہ دھیرے سے بُدبُدایا۔

تھوڑی دیر بعد قبرستان کا سا سناٹا چھا گیا۔ صرف دیوار گیر گھڑی کی سوئی کی ٹک ٹک جو خود بھی سکوت کا ایک حصہ معلوم ہورہی تھی۔ چند ہی لمحوں بعد گھڑی نے سات کا گھنٹہ بجایا اور اس کے دماغ میں کلبلاتی ہوئی شئے نے ایک اور زوردار ڈنک مارا، اتنا زوردار کہ اس کا دماغ سن ہوکر رہ گیا اور وہ خالی الذہن سا چاروں طرف دیکھنے لگا۔

اچانک وہ اُٹھ بیٹھا۔ بالکل مشینی انداز میں اس نے سلیپر پہنا اور سات آٹھ قدم کا فاصلہ طے کرے باتھ روم داخل ہوگیا۔ دس منٹ بعد وہ باتھ روم سے باہر نکلا، بیس منٹ کے اندر اندر وہ نہا دھو کر تیار تھا۔ تقریبا" سات منٹ اسے کپڑا وغیرہ تبدیل کرنے میں لگے، نویں منٹ پر وہ ناشتے کی میز پر تھا۔ ابھی وہ میز کا جائزہ ہی لے رہا تھا کہ بیوی نے اسے مورننگ نیوز لا کردیا۔

ہمیشہ کی طرح چار مکھن لگے سلائس، ایک ابلا ہوا انڈا اور ایک پیالی چائے کو معدہ کے اندر پہنچانے تک وہ اداریہ اور فسادات سے متعلق دو اہم خبروں کو پڑھ چکا تھا اور شہر کے مصروف علاقے کی سڑک پر ہونے والے حادثے کی ایک خوفناک تصویر کو دیکھتا ہوا وہ اٹھ کھڑا ہوا کہ ٹھیک دس منٹ ہوچکے تھے۔

گھر سے نکل کر آفس جانے کے لئے تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا وہ بس اسنٹند کی جانب بڑھنے لگا۔ بس اسٹنڈ میں وہی لائین۔ سب سے آگے ہمیشہ کی طرح وہی پتلا دُبلا، لمبا اور الجھے بالوں والا مریل سا شخص اور سب سے آخر میں معمول کے مطابق گنجے سر والا گول مٹول سا بوڑھا کھڑا ہوا تھا۔ بوڑھے کی آنکھیں ہمیشہ کی طرح کسی گہری سوچ میں ڈوبی ہوئی تھیں۔

بوڑھے نے معمول کے مطابق ایک اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈالی اور گہری سانس لے دوبارہ کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔ وہ بوڑھے کے پیچھے جاکر کھڑا ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک شخص اس کے پیچھے آکر کھڑا ہوگیا، اس آنے والے کا چہرہ بے حد سپاٹ تھا، کسی بھی طرح کے تاثر سے خالی، اس سپاٹ چہرے والے نے معمول کے مطابق اس کے کاندھے پر ہاتھ دیا، وہ مڑا تو وہ اپنے سپاٹ چہرے پر ایک لطیف سا جذبہ پیدا کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہوا بولا۔ " ارے، بس آئی نہیں ابھی تک۔" یہ سوال بھی وہ ہرروز اسی ایکشن کے ساتھ کیا کرتا تھا۔

سب کچھ معمول کے مطابق ہورہا تھا، لیکن دفعتا" اسے محسوس ہوا کہ آج ایک بات خلاف معمول ہوگئی۔ سپاٹ چہرے والے کے ٹھیک تین منٹ بعد ہی ایک خوبصورت سی عورت آیا کرتی تھی لیکن آج وہ ابھی تک نہیں آئی ۔

شاید

اس کی کمی کو سبھوں نے محسوس کیا ہوگا۔ سبھوں نے محسوس کیا ہو یا نہ کیا ہواس نے ضرور اندر سے اس کا بے حد گہرا اثر لیا۔

وہ کیوں نہیں آئی ؟ اس نے سوچا۔

یہ اپنی نوعیت کی پہلی سوچ تھی جو زندگی میں پہلی بار اس کے ذہن میں ابھری تھی۔ اس کے دماغ کے اندر پھر کوئی شئے کلبلانے لگی، لیکن اس بار انداز ایسا تھا جیسے پانی اپنی سطح کے اندر ابل رہا ہو۔ ایک عجیب قسم کی سنسناہٹ اس کے رگ و پے میں دوڑنے لگی۔

تھوڑی دیر بعد بس آگئی۔

سپاٹ چہرے والے نے ہمیشہ کی طرح اس کے دوسرے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا، وہ مڑا تو بولا۔ " یہ سالی اب آئی ہے۔ دس منٹ اور انتظار۔۔ ہُنہ جیسے ہمیشہ کے لئے یہ انتظا رختم ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ ہمیشہ کے لئے۔۔۔۔۔۔۔"

خلاف معمول اس نے سپاٹ چہرے والے کا ہاتھ جھٹک دیا۔ سپاٹ چہرے والے کی آنکھوں میں حیرت کے آثار نمایاں ہونے لگے، پہلی بار اس کے سپاٹ چہرے پر کسی جذباتی ردعمل کی ہلکی سی پرچھائیں ابھری تھی۔

لوگ یکے بعد دیگرے بس میں داخل ہونے لگے۔ یہاں تک کہ اس کے آگے والا گنجا بڈھا بھی تقریبا" رینگتا ہوا بس میں داخل ہوگیا اور بس چل پڑی۔ رہ گئے یہ تینوں۔ دونوں، کیونکہ وہ وہ تو آج آئی ہی نہیں تھی۔ دونوں کو ابھی دس منٹ اور انتظار کا کرب جھیلنا تھا، دوسری بس کا انتظار۔

لیکن

بہ مشکل ابھی دوہی منٹ گزرے ہوں گے کہ وہ مڑا اور بگولے کی طرح گھر کی جانب اُڑ چلا۔

سپاٹ چہرے والے نے خلاف توقع اسے اس طرح لوٹتے دیکھا تو اس کے دماغ کی صدیوں سے خوابیدہ نسیں بیدار ہوگئیں اور اس کے چہرے پر زلزلے کے آثار ابھر آئے۔ چند لمحے تک وہ گہری گہری سانسیں لیتا رہا اور پھر اچانک ایک نعرہء مستانہ لگاتا ہوا سڑک کے بیچوں بیچ دوڑ پڑا۔

گھر پہنچ کر دندنا تا ہوا وہ کمرے میں داخل ہوگیا۔ اس کی وحشت زدہ حالت دیکھ کر بیوی کے منہ سے تحیرزدہ چیخ نکل گئی لیکن اس نے کوئی توجہ نہیں دی اور دیوار پر ٹنگی ہوئی پینٹنگ کو اتار لیا۔

"یہ کیا کررہے ہیں آپ ۔" بیوی چلائی۔

" کچھ نہیں ۔ کچھ ان دیکھے ہاتھ ہر شئے کو قید کرتے جارہے ہیں۔ سبھوں کو غلامی کی زنجیریں پہنا رہے ہیں۔ پابندی، وقت ، ٹائم ٹیبل، اصول وقواعد، رنگ برش اور کینوس۔۔ ہنھ سالے حرامی کے پلوں۔" وہ غصے سے پاگل ہوا جارہا تھا۔

اس نے پینٹنگ کو فرش پر دے مارا، کچھ دیر تک اس پر اچھلتا کودتا رہا، جب اس کا کچومر نکل گیا تو اس نے اسے لے جاکر کچرے کے ڈبے میں پھینک دیا۔

                                                                                                      ....................

 

 


  ’’ اُبال ‘‘ ایک آپریشن

    جہانگیر محمد


                                      *آ ہنی شہر کے افسا نہ نگا روں میں ابر ار مجیب لگ بھگ۷۹۔۱۹۷۸ ء سے افسا نے کے تو سط سے ایک قدآور شخصیت ہیں۔ملک در ملک مختلف ادبی رسا ئل کی ز ینت بن چکے ہیں۔وہ ایک با صلا حیت افسا نہ نگار ہیں ۔افسا نو ی ادب پر ان کی گہر ی نظر ہے۔ ان کے تعا رف کے لئے ا تناہی کا فی ہو گا کہ آج شہرِآہن جمشید پو ر کے دو معروف افسا نہ نگا ر ڈ ا کڑ ا ختر آزادؔ اور مہتاب عا لم پر و یزؔ کی ا بتد ائی نشود نما ان ہی کے ہا تھو ں ہو ئی ہے ۔افسا نو ی اصلا ح مشو رے بطو راُ ستاد ان دو نو ں افسا نہ نگار کی حو صلہ افز ائی اور پختگی کا شعو ر بخشنے وا لے اورپرو ان چڑ ھا نے وا لے جنا ب ابر ار مجیب (ارمان شبا ب ) ہی ٹھہرے ۔ یہ ایک خو ش آئند ہ با ت ہے اور جس میں ابر ار مجیب کا میا ب ہیں ۔آج افسانو ی ادب کو اردو کے نشر ی ادب میں وہی مقا م حا صل ہے جو غز ل کو شعری اصنا ف میں حا صل ہے ۔آج کے عہد کا افسا نہ بہت سا رے منا زل طئے کر کے پھر ز مین پر اُتر آیا ہے ۔روز مرّ ہ کے وا قعا ت اور بڑ ی سے بڑی وا ردا تو ں کو ا پنے اند ر جذب کر نے کی پو ری قدرت ر کھتا ہے .........بہت کچھ لکھا گیا اور لکھا جا تا رہے گا ۔
ابھی اس کا و قت نہیں ہے۔آج ابر ار مجیب کا افسا نہ اُ با ل میر ے سا منے تجزیہ کے لئے آگیا ہے ۔لگ بھگ ۳۰۔۲۷ سال کے بعد پھر جو ایک سخت امر جس میں بہت سا ری شامیں ملو ث ہیں۔اُبا ل ’’ عا لمی پر وا ز ‘‘ کی جانب سے بطو ر اُردو آپر یشن ہمارے سُپرد کیا گیا ہے ۔ ڈاکٹر اسلم جمشیدپوری کے حکم کی تعمیل کر رہا ہوں یہ ہماری مجبوری بھی ٹھہری ۔
جب کو ئی تخلیق کا ر ،روز مر ہ کے وا قعا ت کا محض مشاہدہ کر نے کے بجا ئے اپنے اند ر اس کے تخلیقی کرب کو جذب کی حد تک اپنے اند ر سمو کر جھیلتا ہے۔در د ، سو ز اور حسا سیت سے گزر تا ہے اور اس د کھ کو جھیلنے میں جس اذ یت اور تکلیف کا سا منا کر تا ہے تب کہیں جا کر تخلیقی معر اج اور لا فا نی افسا نے و جو دمیں آ تے ہیں یہ فن کا فی ر یا ضت اور مجا ہدے سے حا صل ہو تا ہے ۔اُبا ل کا بیّن یہی حال ہے۔ روزمرہ کے معمو لات سے اُبلا ہو ایہ افسا نہ ز لز ال ثابت ہو رہا ہے ۔ابر ار مجیب کا سپا ٹ لہجہ ا ند ر سے نیو کلیا ئی د ھماکہ لئے کھڑاہے ۔حا لا نکہ حسب معمو ل سب کچھ وہی تھا ۔
صد یا ں بیت گئیں اور وہ مسلسل تپتے ہو ئے صحرا میں تشنگی لئے بھٹک رہا ہے۔ چل چل کر، دو ڑ دوڑ کر، ر ینگ ر ینگ کر وہ تھک چکا ہے ۔آب وگیا ہ صحر ا کا کو ئی ا نت نہیں اور دوڑ تا ،چلتا ،ر ینگتا اس کا مقدر......وہ تنہا نہیں ہے تا حد نگا ہ بکھر ے ایک دو سر ے پر سو ار اور بر سر پیکا ر پتھر ہی پتھر اور کچھ سنہر ی چٹانیں ۔سو رج کی روشنی، رو شنی ان چٹا نو ں سے لپٹ کر شعلگی میں بدلتی ،ڈ ھلتی ہے اور آ نکھو ں کی را ہ سے اس کی شر یا نو ں میں اُتر جا تی ہے ۔ بے حس و بے جا ن پتھر و ں اور چمکتی ہو ئی سنہری چٹا نو ں کو دیکھ کر تنہائی کی اذیت ناک اور جا ن لیو ااحسا س میں اور بھی اضافہ ہو تا ہے ۔ما رے پیا س کے اس کا حا ل بد حال ہے او پر سے سو رج کا عتا ب پا ؤ ں میں چھا لے لیکن وہ دوڑ رہا ہے۔ رینگ رہا ہے ،کہ مقد ر بہر حا ل ہے مقدر ......اور مقدر کا لکھا بھلا کو ن ٹا ل سکتا ہے۔ ؟
اسے رہ رہ کر حضر ت آدمی کی کم عقلی اور بیو قو فی پر غصہ آتا ہے کہ انہو ں نے ایک نا قص ا لعقل کی با توں میں آکر وہ کا م کر ڈ الا جس کی پا دا ش میں اسے یہ سب کچھ بھگتناپٹر رہا ہے ۔چند ہی لمحوں کے بعد وہ سو چنے لگا اس میں نہ آدم کا قصو ر ہے نہ حواکا اور نہ ہی ملعو و ن شیطا ن کا بلکہ خدا کے بنائے ہو ئے سسٹم کا یہ سبھی شکا ر ہیں ........پھر وہ اپنے آپ کو گا لی دینے لگا .......
یہی ہے وہ اقتسابات جو اُ بال کا پس منظر ہے ۔جو تحت الشعور کے جھر و کے سے نیند بن کر آنکھو ں کے کینو س پر آیا ہے ۔ کہا نی بیا نیہ ہے اور نفسیاتی بھی ،یعنی شعو راور لا شعورنفسیا ت کا ا متیاز بخشتی ہے روز مرہ کے معمو لا ت ،وقت کی پا بند ی ،مشینی ز ند گی ،ہر دن کی طر ح وقت پر اُ ٹھنا۔۔۔۔۔اور بطو ر انسا ن اس کر ب کو جھیلنا اور رینگنا .........ہر روز کی طر ح بیو ی پہلے ہی بیدار ہو چکی ہے اور بستر سے جا چکی تھی اسے محسوس ہو ا کہ اس شئے نے ڈ نک ما ردیا ہو ۔اس کا دماغ جھنجھنا گیا ۔یہ با ربا ر کس شئے نے د ما غ کو سن کر دیا ۔وہ دیو ار کی ٹک ٹک گھڑی ہے اور وقت ہے ۔پھربے حد مشینی انداز میں باتھ روم اور غسل تمام سے فا ر غ ہو کر نا شتہ اور ا خبا ر سے فا رغ ہو کر د فتر جا نے کے لئے جس کے ا حا طہ میں کھڑا ہے اور اپنی کیو میں کھڑ اہو گیا ۔سپاٹ چہرے وا لے اور گنجے گو ل مٹول بڈ ھے جو ہر رو ز کی طر ح حسب معمو ل ا سی جگہ کھڑے ہو کر بس کا انتظارکر تے تھے۔آ ج بھی وہی ایکشن ہے وہی معمولات اور وہی وقت ہے تو افسانہ نگار کیا کہنا چاہتا ہے۔؟
یعنی آج بس وقت پر نہیں آئی اور حسب معمول وہ خوبصورت عورت جو آیا کرتی تھی وہ بھی ابھی تک نہیں آئی ہے۔بس وقت پر نہیں آئی اور وہ خوبصورت بلا بھی نہیں آئی تو پھر بھونچال سا کیوں آگیا۔؟ بار بار گالی کا بکنا.......اللہ کے بنائے ہوئے مقدر اورآدم اورحوا کو کوسنا اور آپس میں بڑبڑانا یہ کیا ہے۔؟
چونکہ یہ کہانی ’’ میں ‘‘ کے PROJECTION میں ہے۔ آج کا آدم تھک گیا ہے۔؟ PAINTING WALL کو اُتار کر اُس پر رقص کرنا کیا ہے ۔؟ کچھ اندیکھے ہاتھ ہر شئے کو قید کرتے جا رہے ہیں۔ سبھوں کو غلامی کی زنجیر پہناتے جا رہے ہیں۔ پابند ی ، وقت ،ٹائم ٹیبل ، اصول اور قواعد...... پھر ایک بھدی سی گالی ...... یعنی وہ آدمی جو کبھی ہر چیز کا پابند تھا۔ آج ٹوبہ ٹیک سنگھ کی زبان حلقوم میں کیوں پھنس گئی۔؟ یعنی وہ انسان جو دوڑ رہا ہے....... چل رہا ہے.......اور رینگ رہا ہے مشینی زندگی سے پاگل ہو چکا ہے۔ اور یہی ہے افسانے کا کمال جو اُبال جو زلزال ثابت ہو رہا ہے..... ساتھ ہی ساتھ اس کو اُبالا گیا مگر وہ اُبال جہاں پر کہانی کو معراج ہوتا۔ پینٹنگ کا کچومر نکال کر اور جاکر کچرے کے ڈبّے میں پھینک دینا۔؟ کیا یہی ہے غیر متوقعہ جو چیز ہوتی ہے ہو کر رہتی ہے ہر حال میں ہو کر رہتی ہے........اور آدمی اللہ کے بنائے ہوئے حدود سے باہر نہیں ہو سکتاہے...... مگر گھڑی اورپینٹنگ ہماری ایجاد ہے ( انسانی ایجاد ) اور تمام مشین کارخانے اور حسب معمول سورج اپنے وقت پر ڈوب اور نکل رہا ہے۔ موسم ، موت حیات ، رات اور دن سب اپنے معمول پر گردش میں ہیں، آدم کا المیہ یہ ہے جس کے سامنے تمام فرشتوں نے سجدہ کیا تھا اور تمام مخلوق نے سر جھکایا تھا جو اشرف تھا وہی آج ادنی بنا ہوا ہے۔اور جس کے لئے دُنیا سجائی گئی وہی اللہ کو چھوڑ کر وقت کا، بس کا،آفس کا ، مال کا، دولت کا، نام و نمود کا، خوبصورت لڑکی کا، شہرت کا ، اور ریا کاری کا غُلام ہوتا جا رہا ہے مگر اللہ کا سچا غلام نہیں بن سکا۔ یہ اللہ کا نائب فرض منصبی سے بھا گا جا رہا ہے۔ اس لئے اس کی حیثیت رینگنے والے کیڑے کی ٹھہری۔ یہی ہے کہانی کا کلائمکس جس کو آپ اور ہم پاگل ہی کہہ سکتے ہیں ۔؟ایک نس ڈھیلی کرنے پر کیا کیا اُبال آتا ہے۔ یہی ہے ابرار مجیب کے فن کا کمال........

ابرار مجیب مسلسل لکھنے والوں میں سے نہیں ہیں اسی لئے ان کی تخلیق کا سلسلہ کہیں کہیں دھند میں گم ہو گیا اور تفہیم اور افہام کی ساری راہیں محدود ہو کر رہ گئیں پھر بھی اُبال کی شناخت فکری ارتقاء کے قریب لا فرضیت اور بے چہرگی اور موجودہ وقت کی پہچان ہے جو ان کے افسانے کا نمایاں وصف ہے اور ان کی انفرادیت ہے۔ ان کے الفاظ اور جملے آج بھی پکار پکار کر کہتے ہیں کہ میں ابرار مجیب کی آواز ہوں......


جہانگیر محمد

****

 

Read 6350 times

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.

Latest Article

Contact Us

RAJ MAHAL, H. No. 11
CROSS ROAD No. 6/B
AZAD NAGAR, MANGO
JAMSHEDPUR- 832110
JHARKHAND, EAST SINGHBHUM, INDIA
E-mail : mahtabalampervez@gmail.com

Aalamiparwaz.com

Aalamiparwaz.com is the first urdu web magazine launched from Jamshedpur, Jharkhand. Users can submit their articles, mazameen, afsane by sending the Inpage file to this email id mahtabalampervez@gmail.com, aslamjamshedpuri@gmail.com