الإثنين, 04 تشرين2/نوفمبر 2013 19:29

ماہنامہ : اُردو آپریشن جھارکھنڈ MONTHLY URDU OPERATION , NOV - 2013

Rate this item
(1 Vote)

 بسم اللہ الرحمن الرحیم 
    عالمی پرواز کی ایک نئی اُڑان

    بین الاقوامی اُردو ادب کا اُردوپورٹل
فکشن 


کا


نیا

 
آسمان


ماہنامہ اُردو آپریشن (جھارکھنڈ)

شمارہ-2
نومبر-2013
* سرپرست ڈاکٹراسلم جمشیدپوری

* مدیر خصوصی رضوان واسطی
* مدیر اعزازی جہانگیر محمد
* مدیرہ نغمہ نازمکتومیؔ 
* ترتیب مہتاب عالم پرویزؔ 


* زیرِاہتمام ’’ عالمی پرواز .کوم ‘‘
www.aalamiparwaz.com
عنوان البريد الإلكتروني هذا محمي من روبوتات السبام. يجب عليك تفعيل الجافاسكربت لرؤيته.     عنوان البريد الإلكتروني هذا محمي من روبوتات السبام. يجب عليك تفعيل الجافاسكربت لرؤيته.

 

ایک تحریک


اُردو آپریشن

افسانوں اور ناولوں کا آئینہ


اردو آپریشن میں ہر ماہ تین افسانے شائع ہوں گے۔ 
ہر افسانے کا آپریشن ماہرین کے ساتھ ساتھ قارئین بھی کریں گے۔ 
ہر سال دس بہترین افسانوں کو ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ 
آپریشن کے نکات
۱۔افسانے کا عنوان خراب ، اچھا ، نیا، بہت خوب 
۲۔افسانے کا موضوع خراب ، اچھا ، نیا، بہت خوب 
۳۔ افسانے کا بیان نیا ہے ، پرانا ہے، بالکل الگ ہے۔
۴۔افسانے کی زبان بہت خوب ہے۔ماحول کے مطابق ہے، بہت خراب ہے۔
۵۔کیا اس سے پہلے بھی آپ نے ایسا افسانہ پڑھا ہے۔دونوں میں فرق واضح کریں۔ ۶۔افسانے کی پانچ خوبیاں 
۷۔افسانے کی تین خرابیاں 
۸۔کوئی خاص بات(مثبت یا منفی ) جس نے آپ کو بہت متاثر کیا ہو۔


قارئین سے گذارش ہے کہ وہ کہانی پڑھ کر ’’ اُردو وآپریشن ‘‘ کے درج بالانکات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اپنے طور پر آپریشن کریں، کہانی کی خوبی اور خامی کو بے جھجھک لکھیں........

ادارہ

****

 

معروف افسانہ نگار وحید احمد قمر کا افسانہ " پکڑ " قارئین کی نذر ہے .......

 پکڑ

  وحید احمد قمر

  لندن ۔ انگلستان

 

                       آسمان گہرے سیاہ بادلوں سے ڈھکا ھوا تھا ۔ ٹھنڈی ھوا چل رھی تھی ۔ ابھی اکتوبر کا آغاز ھی تھا مگر کچھ روز پہلے ھوئی بارش کی وجہ سے موسم دسمبر کی طرح سرد ھو گیا تھا ۔ دور کسی مسجد میں فجر کی آذان ھو رھی تھی ۔ ھر طرف مہیب تاریکی تھی ۔ ایسے میں  دو موٹر سائیکلوں کی ھیڈ لائٹس اس تاریکی کا سینہ چیرتی آگے پیچھے دوڑ رھی تھیں ۔ سڑک دور تک سنسان پڑی تھی ۔ پھر بھی ان موٹر سائیکلوں کی رفتار ذیادہ نہ تھی ۔ شاید ھڈیوں میں گھستی سرد ھوا کی وجہ سے موٹر سائیکل سوار  آھستہ  چل رھے تھے یا حقیقتا" انہیں کہیں پہنچنے کی جلدی نہ تھی ۔ دونوں موٹر سائیکل د س منٹ مزید اس سڑک پر چلتی رھیں پھر ایک بستی میں داخل ھوئیں اور مختلف راستوں سے گزرتی ھوئیں ایک چوراھے پر آکر رک گئیں ۔
دائیں طرف ھی مڑنا ھے نا ؟ ، موٹر سائیکل سوار نے اپنے پیچھے بیٹھے آدمی سے پوچھا ۔

جی ، مختصر جواب ملا ، اور وہ موٹر سائیکل اس گلی میں مڑ گئی ۔ دوسری موٹر سائیکل بھی اس کے پیچھے لپکی اس پر بھی دو ھی آدمی سوار تھے ۔ چاروں نے سیاہ لباس پہنے ھوئے تھے ۔   یہاں موٹر سائیکلوں کی ھیڈ لائٹس بجھا دی گئیں  ۔ اس گلی میں  دونوں طرف مکانات کا سلسلہ تھا مگر کہیں بھی روشنی نہ جل رھی تھی اس لیئے تاریکی ابھی تک ماحول پر مسلط تھی ۔ ایسے میں وہ دونوں موٹر سائیکلیں بھی اس تاریکی کا حصہ ھی معلوم ھو رھی تھیں ۔ کچھ دور جا کر وہ پھر رک گئے ۔

یہ عمارت کا پچھواڑا ھے ۔ اگلی موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے شخص نے اپنے ساتھی سے کہا ۔ وہ سامنے ایک چھوٹا دروازہ ھے ھم یہاں سے اندر جائیں گے ۔

رحیم آؤ ؟ ،۔ آخری جملہ اس نے دوسری موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے نوجوان کو مخاطب کر کے کہا ۔ اور دراوزے کی طرف بڑھا ۔  رحیم بھی اس کے پیچھے لپکا ۔ پہلا کچھ دیر تک دروازے سے کان لگائے سن گن لیتا رھا پھر اندر داخل ھو گیا رحیم نے بھی اس کی تقلید کی تھی ۔

وہ ایک وسیع صحن میں تھے سامنے ایک چھوٹی سی چوکور عمارت تھی  جس کے صحن کی طرف تین دروازے تھے ۔

تم ان دروازوں میں سے کسی ایک سے اندر جاؤ گے جب کہ میں بغلی گلی کی طرف سے کھڑکی تک جاونگا۔ پہلے نے جیکٹ کیسامنے والی  زپ کھولی اور اور اندر چھپائی گن اپنے ھاتھ میں لے لی رحیم نے بھی ایسا ھی کیا تھا ۔

تمھارے ھاتھ کیوں کانپ رھے ھیں ، پہلے نے رحیم کو گھورا

نن نہیں تو ، رحیم نے بے اختیار اپنے ھاتھوں کی طرف دیکھا ۔ ھاتھ واقعی کانپ رھے تھے ۔

سس سردی کی وجہ سے ۔ رحیم کے منہ سے نکلا ، اس کی آواز میں بھی کپکپاھٹ تھی  ۔

پتہ نہیں اس آپریشن کے لیئے تمھارا انتخاب کیوں کیا گیا ، مجھے تو تم شروع سے ھی گھبرائے ھوئے لگے ھو ۔

میں گھبرایا ھوا نہیں ھوں ، محض سردی کی وجہ سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رحیم نے کچھ کہنا چاھا مگر پہلے نے اس کی بات کاٹ دی بزدلی کی باتیں نہ کرو ۔  اس نے گھڑی پر وقت دیکھا اور بولا

آؤ میرے ساتھ ۔ وہ صحن سے گزرتے ھوئے عمارت تک پہنچے ، رحیم ایک دروازے کی طرف بڑھا جبکہ دوسرا شخص اس تنگ سی گلی میں داخل ھو گیا۔ جو عمارت اور اس بیرونی دیوار کو جدا کرتی تھی ۔ اس گلی میں عمارت کی کھڑکیاں تھیں ۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا کھڑکیاں بند تھیں اس نے ایک جھری سے اندر جھانکا ، چند لمحوں تک حالات کا جائزہ لیتا رھا پھر پیچھے ھٹ آیا اگلے ھی لمحے اس نے کھڑکی پر بے تحاشا فائرنگ شروع کر دی ۔ لکڑی کی کھڑکی میں کئی سوراخ ھو گئے ۔ اس نے گن کی پشت سے ان سوراخوں پر زور کی ٹھوکر رسید کی ۔ کھڑکی میں ایک بڑا سوراخ ھو گیا ایک لمحہ ضائع کیئے بغیر اس نے پھر فائرنگ شروع کر دی ۔ اندر سے قیامت کا شور اٹھا ۔ آہ و بکا ، چیخ و پکار اس نے لوگوں کے جسموں سے خون کے فوارے چھوٹتے ھوئے دیکھے ۔ اگلے ھی لمحے وہ تیزی سے واپسی کے لیئے پلٹا جب وہ صحن میں پہنچا تو رحیم بیرونی دروازے کی طرف بھاگتا ھوا نظر آیا ۔ باھر موٹر سائیکل اسٹارٹ کیئے ان کے دونوں ساتھی تیار کھڑے تھے ، وہ دونوں ، ان کے پیچھے بیٹھ گئے اور موٹر سائیکلیں تیر کی طرح نکلتی چلی گئیں ۔

وہ سارا دن ان کے لیئے بڑا ھنگامہ خیز گزرا ۔ جب وہ اس آپریشن کے بعد اپنے ٹھکانے پر پہنچے تو ان کے گروپ انچارج نے ان کے لیئے ایک طویل سفر کا بندوبست کر رکھا تھا ۔ انہیں فوری طور پر یہ علاقہ چھوڑ کر ملک کے ایک شمالی شہر پہنچنا تھا اور اس وقت تک وھاں قیام کرنا تھا جب تک یہ معاملہ کچھ پرانا ھو جاتا،

وین کے ایک طویل اور تھکا دینے والے سفر کے بعد جب وہ شمالی ریاست کے شہر میں داخل ھوئے تو انہیں کسی قدر تحفظ کا احساس ھوا ۔ ورنہ تمام راستے انہیں پولیس سے مڈ بھیڑ کا خطرہ رھا تھا ۔ جب وہ اس ٹھکانے پر پہنچے جہاں انہیں کچھ عرصہ قیام کرنا تھا تو رات ھو چکی تھی ۔ ان میں سے تین تو لیٹتے ھی نیند کی آغوش میں چلے گئے جب کے چوتھا اپنے بستر پر لیٹا چھت کو گھورے جا رھا تھا۔  یہ رحیم تھا نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔ وہ ابھی تک صبح کے واقعے کی ھولناکیوں میں کھویا ھوا تھا بلکہ سارے سفر کے دوران ایک لمحے کو بھی وہ اس منظر کو فراموش نہ کر پایا تھا جب اس کے سامنے انسانی جسم خون میں نہائے گئے تھے ۔ وہ آہ و بکا ، چیخ و پکار اور خون میں لتھڑا ھوا منظر ۔ اس کی آنکھوں میں ٹھر گیا تھا ۔  راستے میں اس کے ساتھی  خوش گپیوں میں مصروف رھے تھے  مگر وہ گم صم پچھلی سیٹ پر جا بیٹھا تھا ، حتٰی کے کھانے کے لیئے جب اس کے ساتھیوں نے بلایا تو بھی اس نے معذرت کر لی ۔

وہ دیر تک بستر پر پڑا چھت کو تکتا رھا ۔ حلق خشک ھو رھا تھا ، وہ اٹھ کر کچن میں آیا ۔ پانی پینے کے بعد وہ بالکونی میں جا کھڑا ھوا ۔ رات کافی بھیگ چکی تھی ۔ اس نے دیکھا دور  تک چھوٹی بڑی عمارتیں اندھیرے میں ڈوبی کھڑی تھیں ۔ آسمان آج بھی بادلوں سے ڈھکا ھوا تھا اس وجہ سے بھی رات کچھ ذیادہ ھی تاریک معلوم ھو رھی تھی ۔

اسے اپنے پیچھے قدموں کی چاپ سنائی دی ۔ مڑ کر دیکھا اس کا ایک ساتھی چلا آ رھا تھا ، اس نے قریب آکر کہا

کیوں نیند نہیں آ رھی ۔؟

نہیں ، وہ تاریکی کو گھورتا رھا

میں محسوس کر رھا ھوں کہ تم صبح کے واقعہ کے بعد بہت خائف ھو ۔

رحیم خاموش رھا ۔

کیا تم شرمندگی محسوس کر رھے ھو ؟

شرمندگی ۔ ۔ ۔ ۔۔ رحیم نے ٹھرے ھوئے لہجے میں کہا ، مجھے اپنے آپ سے نفرت محسوس ھو رھی ھے

تم اگر اتنے نرم دل ھو تو تمھیں ھمارے ساتھ نہین جانا چاھیئے تھا۔

مجھ سے کہا گیا تھا کہ کچھ لوگ اس جگہ جمع ھو کر ھمارے خلاف مسلح کاروائی کی سازش تیار کر رھے ھیں ۔ مگر حقیقت اس کے بر عکس نکلی ۔

بہرحال وہ لوگ ھیں تو ھمارے دشمن ۔

کیا نہتے دشمن پر گولیاں برسانا بہادری ھے ؟

وہ کافر ھیں ، تمھین ان کے ساتھ ھمدردی نہ ھونی چاھیئے ۔

کیا ھر کافر واجب القتل ھوتا ھے ۔؟

جس کا کفر جتنا سنگین ھو گا وہ اتنا ھی سزا کا حق دار ھو گا ۔

سلیم ، بہت سے لوگ ھمیں بھی کافر سمجھتے ھیں ۔ اگر وہ بھی اسی اصول پر عمل کریں کہ کافر موجب سزا ھے تو پھر یہ دنیا ایک عظیم فساد گاہ بن جا ئے گی ۔

اگر تم تنظیم سے متفق نہیں ھو تو پھر ھم میں شامل کیوں ھوئے تھے ۔

بتاتا ھوں ، آج سے قریبا" ایک سال پہلے ایک مذھبی جلسے میں بم دھماکہ ھوا تھا جس میں درجنوں لوگ شہید ھو گئے تھے ۔ تمھیں یاد ھو گا ؟

ھاں ، مجھے یہ واقعہ کیسے بھول سکتا ھے ، سب ھمارے ھی لوگ تھے ۔ سلیم نے کہا

مرنے والوں میں میرے تین بڑے بھائی اور والد صاحب بھی شامل تھے ۔ رحیم کی آواز درد سے بھر گئی

نہیں ۔ ۔ ۔۔ ۔ ۔ ۔ ۔۔  سلیم کی ھلکی سی چیخ نکل گئی

جب ایک ھی وقت گھر سے تین جوان بیٹوں اور خاوند کا جنازہ اٹھا تو میری والدہ کا ھارٹ اٹیک ھو گیا اور محلے والوں کو پانچویں جنازے کا بھی بندوبست کرنا پڑا ۔ رحیم کی آواز رندھ گئی تھی ۔

سلیم اسے دیکھے جا رھا تھا

تم تصور کر سکتے ھو کہ اس وقت میری کیا حالت ھوئی ھو گی ۔؟

سلیم سر ھلا کر  رہ گیا ۔

مجھے ھفتوں اپنی سدھ بدھ نہ رھی تھی ۔ کھانے پینے کا ھوش نہ پہننے کا ۔ پاس پڑوس والے کبھی کبھار خبر گیری کر جاتے ۔ صدمے کی اس اتھاہ گہرائی کی حالت میں مجھے منصور صاحب ملے ۔ انہوں نے مجھے تسلی تشفی دی اور مخالف فرقے کے خلاف بہت سا لٹریچر پڑھنے کو دیا ۔ میرے دل میں تو پہلے ھی آگ لگی ھوئی تھی ۔ منصور صاحب کی باتوں نے اسے دو چند کر دیا ۔ انہوں نے مجھے یقین دلایا کہ میرے والد صاحب کے قاتل فلاں فلاں لوگ ھیں ، تب میں باقاعدہ تنظیم میں شامل ھوا ۔ تاکہ ان سے بدلہ لے سکوں ۔ پھر کئی ماہ تک میری ٹریننگ ھوتی رھی ، آخر کل منصور صاحب نے مجھے خاص طور پر بلا کر کہا کہ تمھارا انتقام لینے کا وقت آ چکا ھے ۔ تیار ھو جاو ۔

اور تم تیار ھو گئے ۔

ھاں میرے سینے میں انتقام کی آگ سلگ رھی تھی ۔ میں بڑے جوش اور ولولے سے اس کاروائی میں حصہ لینے گیا تھا ۔ صلاح الدین نے مجھے سامنے کے دروازے سے اندر جانے کے لیئے کہا ، خود وہ بغلی گلی سے فائرنگ کرنا چاھتا تھا ۔ اس نے مجھے کہا تھا سامنے نظر آنیوالے ھر شخص کو گولیوں سے بھون ڈالنا ۔

اور تم نے بھون ڈالا ؟

نہیں ، میں ان لوگوں پر فائر نہ کر سکا ۔

سلیم نے بے یقینی سے اسے دیکھ کر کہا ۔ مگر ھم نے تو گنوں کے چلنے کی آواز سنی تھی ۔

جب میں اندر داخل ھوا تو فائرنگ کرنے ھی والا تھا کہ اندر کا منظر دیکھ کر گن خود بخود جھک گئی ۔ رحیم کہتے کہتے رک گیا ۔ کچھ دیر باھر پھیلی تاریکی کو گھورتا رھا پھر بولا

وہ لوگ نماز کے لیئے صفیں بنائے کھڑے تھے ،  اور سب سے پچھلی صف میں ذیادہ تر بچے تھے ۔ آٹھ سے بارہ سال تک کی عمر کے بچے ۔ اگر میں فائرنگ کرتا تو سب سے پہلے یہ بچے ھی میری ذد میں آتے ۔ ۔ ۔۔ ۔  سلیم  ۔ ۔۔ ۔ ۔  گن میرے ھاتھ  میں منوں وزنی ھو گئی ۔ اسکی نال کا رخ فرش کی طرف تھا اور میری فائرنگ سے فرش اکھڑتا رھا ۔ دوسری طرف صلاح الدین نے کھڑکی سے فائرنگ شروع کر دی تھی ۔ میرے سامنے صفیں باندھے ، عباد ت کرتے لوگ خون میں نہاتے چلے گئے ۔ رحیم دم لینے کے لیئے رکا ۔

صرف صلاح الدین کی فائرنگ سے تو ذیادہ لوگ نہ مرے ھونگے ۔ کیونکہ وہ کھڑکی سے ھال کے کچھ مخصوص حصہ پر ھی فائرنگ کر سکتا تھا ۔ سلیم نے خیال ظاھر کیا

 ، ایسا ھی ھوا ھے ۔ اس وقت ھال  آدھے سے ذیادہ بھرا ھوا تھا ، اگر میں بھی فائرنگ کرتا تو شاید ھی کوئی زندہ بچتا ۔

تم نے یہ بات مجھے تو بتا دی ھے ۔ صلاح الدین یا منصور سے اس کا ذکر بھی نہ کرنا ۔ سلیم نے ادھر ادھر دیکھ کر آھستہ سے کہا ۔

یہ بات چھپی نہ رہ سکے گی ۔ نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں انہیں صاف صاف بتا دونگا ۔ کہ ان لوگوں کو نماز پرھتا دیکھ کر میں ان پر فائرنگ نہ کر سکا ۔ بلکہ ان پر یہ بھی واضح کر دونگا کہ میں آئیندہ ایسی کسی کاروائی میں حصہ نہیں لونگا ۔

بھول کر بھی تنظیم سے الگ ھونے کی بات ان کے سامنے نہ کرنا ۔

کیوں ۔؟

وہ تمھیں زندہ نہیں چھوڑیں گے ۔

مجھے ان لوگوں کا خوف نہیں ھے ۔

پھر تمھیں کس بات کا خوف ھے ۔

اللہ کی پکڑ کا ۔ ایک عبادت گاہ میں خدا کی پرستش کرنے والوں کو خون میں نہلایا گیا ھے ، کیا خدا خاموش رھے گا ۔ مجھے آسمان پر چھائی اس ھولناک تاریکی سے ڈر لگ رھا ھے ۔ ۔ ۔۔ ۔  کچھ ھونے والا ھے کچھ ھو کر رھے گا ۔ رحیم کی آواز لرز رھی تھی ۔

کچھ نہیں ھو گا ، ایسے کتنے ھی واقعات ھو چکے ھیں مگر نہ آسمان  گرا نہ زمین ھی پھٹی ۔

یہی تو خوف کی بات ھے کہ اب ظلم کی انتہا ھو چکی ھے ۔ زمین پر بہت خون ناحق بہہ چکا ، آسمان آخر کب تک خاموش رھے گا ۔

تم اپنے دماغ پر ذیادہ بوجھ نہ ڈالو ، چلو میرے ساتھ اندر ۔ سلیم نے اس کا ھاتھ پکڑ کر کہا ۔ تمھیں آرام کی ضرورت ھے ، اور ھاں ایک بار پھر کہتا ھوں کہ اپنے ان خیالات کا اظہار کسی پر نہ کرنا ۔

اگلی صبح ناشتے کے بعد جب صلاح الدین نے اخبار میں یہ پڑھا کہ کل والے فائرنگ کے واقعہ میں صرف آٹھ لوگ مارے گئے تھے تو آگ بگولا ھو گیا ۔ اور رحیم کو مخاطب کر کے کہا ۔

تمھیں میں نے اسی لیئے ھال کے دروازے سے بھیجا تھا کہ تم نئے آدمی ھو ۔ ٹارگٹ کو نشانہ بناتے وقت تمھیں کوئی دشواری نہ ھو ۔ مگر شاید تم نشانے پر فائر نہیں کر سکے ۔

رحیم نے اثبات میں سر ھلا دیا ۔

کیوں ؟؟اس کے لہجے میں سختی آ گئی ۔

رحیم نے کوئی جواب نہیں دیا وہ گم صم بیٹھا میز کے کونے کو تکے جا رھا تھا ۔

شاید گھبراھٹ میں نشانے پر فائرنگ نہ کر سکا ۔ سلیم درمیان میں بول پڑا ۔

میں نے منصور سے پہلے ھی کہا تھا کہ اس آپریشن کے لیئے یہ لڑکا موزوں نہیں ھے ۔ صلاح الدین کی آواز ابھی تک درشت تھی ۔

ابھی نیا ھے ، آھستہ آھستہ ٹھیک ھو جائیگا ۔ سلیم نے کہا

اور یہ کل سے اتنا سہما ھوا کیوں ھے ؟

اسے پکڑے جانے کا ڈر ھے ۔ سلیم کے منہ سے نکلا

ھا ھا ھا ، صلاح الدین نے ایک طویل قہقہہ لگایا ۔ پھررعونت سے بولا ۔

ھمیں کون پکڑ سکتا ھے ۔

سلیم ، اسے کچھ دیر کے لیئے یہاں سے لے جاو ، مجھے رہ رہ کر اس پر غصہ آ رھا ھے ۔

سلیم نے رحیم کا ھاتھ پکڑا اور اسے راھداری میں لے آیا ۔

تم کچھ دیر کے لیئے باھر چلے جاو ۔ تھوڑی دیر میں صلاح الدین کا غصہ ٹھنڈا ھو جائے گا ۔ پھر آ جانا ۔ ابھی جاؤ ۔

رحیم چپ چاپ بیرونی دروازے کی طرف مڑ گیا ، یہ ایک فلیٹ تھا جو ایک پانچ منزلہ عمارت کی تیسری منزل پر تھا ۔ وہ سیڑھیاں اتر کر نیچے سڑک پر آ گیا ۔ سڑک کی دوسری طرف ایک وسیع میدان تھا جس کے بعد پہاڑوں کا ایک سلسلہ تھا جو دور تک چلا گیا تھا ۔ وہ ٹہلتا ھوا میدان عبور کرنے لگا ۔ عین اسی وقت بڑے زور کی گڑگڑاھٹ سنائی دی ۔ زمین ھلنے لگی تھی ۔ رحیم کی نگاہ سامنے کی عمارتوں کی طرف اٹھ گئی جو بڑے مہیب دھماکوں کے ساتھ زمین بوس ھو رھی تھیں جبکہ میدان کی دوسری جانب واقع پہاڑوں سے بڑے بڑے پتھر لڑھکتے ھوئے نیچے آ رھے تھے ۔ رحیم نے بھاگنا چاھا مگر زمین کی ھِلَنت کچھ اور بڑھ گئی اور وہ منہ کے بل نیچے گرا ۔ اس کے حواس جواب دیتے جا رھے تھے ۔ غنیمت ھوئی کہ جہاں وہ گرا تھا وہ جگہ گرتی ھوئی عمارتوں کے ملبے اور پہاڑوں سے لڑھک کر آنے والے پتھروں سے محفوظ تھی ۔

 

 

  افسانہ ’’پکڑ‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ

 ڈاکٹر افشاں ملک

 علی گڑھ ۔ بھارت

             ہر زمانے کا ادیب یا فنکار ہمیشہ معاشرے کا ایک حساس گواہ رہا ہے ۔ اس کی باریک بیں نظر دنیا میں رونما ہونے والے واقعات، حادثات اور حالات پر ہمیشہ ہی رہی ہے ۔اپنے قلم سے کبھی اس نے تلوار کا کام لیا اور کبھی مرہم کا ۔ مظلوم کی آواز میں آواز ملا کر ادیبوں اور فنکاروں نے ہمیشہ سماج کے تئیں اپنے فرض کو سمجھا اور اپنے زندہ ہونے کا ثبوت فراہم کیا ۔

’وحید احمد قمر‘ ایک نوجوان افسانہ نگار ادیب ہیں ۔ان کی فنّی کاوشیں ادب کے میدان میں ان کے لئے راستے ہموار کر رہی ہیں،موجودہ عہد کے حالات اور چیلینجزپر ان کی کڑی نظر ہے یہی وجہ ہے کہ زیرِ نظر افسانہ ’’پکڑ‘‘ انہوں نے آج کے سب سے اہم اورتشویشناک مسئلے ’’دہشت گردی‘‘ کو موضوع بنا کر لکھا ہے ۔

’’دہشت گردی‘‘ اب گلوبل ایشو کے زمرے میں ہے اور زیادہ تر ممالک اس خطرناک صورتِ حال سے گزر رہے ہیں ۔ دہشت گردی حملوں سے عبادت گاہیں تک محفوظ نہیں۔۔۔ عوام خوف زدہ کہ کونسا لمحہ اچانک قیامت بن کر ٹوٹ پڑے ۔۔۔ کب گولیاں چل جائیں ۔۔۔ کب اور کہا ں بم دھماکے ہوجائیں۔۔۔حکومتیں اس خطرناک صورت حال سے نمٹنے کی ہر ممکن کوشش میں مصروف ہیں لیکن سب لا حاصل سا معلوم پڑتا ہے ،مسئلہ جوں کا توں ہے ۔

ہر جرم کے پیچھے کوئی وجہ ہوتی ہے اور ہر مجرم کے پیچھے کوئی حادثہ یا واقعہ ۔انسان سے شیطان بننے کا سفر یوں ہی طے نہیں ہوتا ۔ کبھی کوئی لالچ ، کوئی انتقام یا کوئی خوف انسان کو شیطان بننے پر اکساتا ہے ۔ یوں ہم ایسے انسانوں کو جو کئی طرح کے گھنونے جرم کرتے ہیں ذہنی یا نفسیاتی بیمار بھی کہہ سکتے ہیں ۔ مجرم کو ختم کرکے جرم ختم نہیں کیا جا سکتا ہے جرم کے پیچھے کی وجہ جاننا از حد ضروری ہے ۔ وحید قمر کا افسانہ ’’پکڑ‘‘ اسی طرف ہمارا دھیان مبذول کراتا ہے کہ مجرم پیدا نہیں ہوتے غلط ہاتھوں میں پڑ کربنتے یا بنائے جاتے ہیں ۔

ذیل میں اس افسانے کا تجزیہ پیش کرکے ہم یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ مذکورہ افسانہ اپنے موضوع ، اسلوب اور کرداری نگاری کے لحاظ سے کن فنی خصوصیات کا حامل ہے ۔

افسانے کا مرکزی کردار ’رحیم‘ ایک ایسا نوجوان ہے جس کے والد اور تین بھائی ایک بم دھماکے میں مر چکے ہیں۔ اس کی ماں بھی اپنے شوہر اور تین جوان بیٹوں کی موت کے صدمے کی تاب نہ لا کر دل کا دورہ پڑ جانے کی وجہ سے مرجاتی ہے ۔ نوجوان شدّت غم سے بے حال ہے ۔ اس کی اس حالت سے ایک دہشت گرد تنظیم کا سر براہ فائدہ اٹھاتا ہے اور بظاہر ہمدردی جتا تے ہوئے اس سے کہتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو جانتا ہے جنہوں نے اس کے خاندان کے افراد کو ہلاک کیا ہے اور اسے انتقام لینے کے لیے اکساکر مدد کرنے کا وعدہ بھی کرتا ہے ۔معصوم غمزدہ نو جوان اس کی جھوٹی ہمدردی پر یقین کرلیتا ہے اور اس کی دہشت گرد تنظیم میں شامل ہوجاتا ہے ۔ افسانہ نگار نے بہت فطری انداز میں مرکزی کردارکی اس نفسیاتی کیفیت کو بیان کیا ہے جو اپنے خاندان کے افراد کی ہلاکت کا بدلہ لینے کے لئے آسانی سے جھانسے میں آجاتا ہے ۔افسانہ نگاراس صورت حال کو یوں بیان کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

’’مجھے ہفتوں اپنی سد ھ بدھ نہ رہی تھی ۔ کھانے پینے کا ہوش نہ

پہننے کا ۔پاس پڑوس والے کبھی کبھار خبر گیری کر جاتے ۔ صدمے

کی اس اتھاہ گہرائی کی حالت میں مجھے منصور صاحب ملے ۔

انہوں نے مجھے تسلّی تشفی دی اور مخالف فرقے کے خلاف بہت

سا لٹریچر پڑھنے کو دیا میرے دل میں تو پہلے ہی آگ لگی ہوئی تھی ۔

منصور صاحب کی باتوں نے اسے دو چند کر دیا ۔ انہوں نے

مجھے یقین دلایا کہ میرے والد صاحب کے قاتل فلاں فلاں

لوگ ہیں تب میں باقاعدہ تنظیم میں شامل ہو گیا کہ ان سے بدلا

لے سکوں ۔ پھر کئی ماہ تک میری ٹریننگ ہوتی رہی آخر کل منصور

صاحب نے مجھے خاص طور پر بلا کر کہا کہ تمہارا انتقام لینے کا

وقت آ چکا ہے ، تیار ہو جاؤ‘‘

افسانہ آگے بڑھتا ہے نوجوان دہشت گرد بن چکا ہے اور اپنے خاندان کے افراد کا بدلا لینے کے لیے بیتاب ہے ۔ اس کی اس بیتابی کو افسانہ نگار نے بڑے فطری انداز میں اس طرح لکھا ہے ۔۔۔ ’’میرے سینے میں انتقام کی آگ سلگ رہی تھی ۔ میں بڑے جوش اور ولولے سے اس کارروائی میں حصّہ لینے گیا تھا ۔‘‘ افسانہ نگار کا یہ جملہ مرکزی کردار کے انتقامی جذبے کی بھرپور عکاسی کرتا ہے ۔۔۔!

افسانہ آگے بڑھتا ہے ۔۔۔دہشت گرد تنظیم کا سر براہ نوجوان کو ایک عبادت گاہ میں عبادت کر رہے لوگوں پر حملہ کرنے کے لیے تنظیم کے دیگر دہشت گردوں کے ساتھ بھیج دیتا ہے ۔لیکن نوجوان رحیم جو اپنے صدمے اور غم پر قابو نہ پا سکا تھا اور دہشت گرد سر براہ کے بہکاوے میں آکر وقتی طور پر اس تنظیم میں شامل ہو گیا تھا جب حملہ کرنے کے لیے اپنے ساتھیوں کے ساتھ موقع پر پہونچتا ہے تب اس کے اندر کا وہ انسان جاگ اٹھتا ہے جو معصوم اور نیک ہے ۔ وہ ظالم نہیں ہے اور خدا سے بھی ڈرتا ہے ۔ عبادت گاہ پہنچ کر نمازیوں پروہ حملہ نہیں کرتا ہے جبکہ اس کے دیگر ساتھی گولیاں چلا کر عبادت کرنے والوں کوہلاک کر دیتے ہیں۔نمازیوں پر اس کے گولیاں نہ چلانے کا جب اس کے ساتھیوں کو پتہ چلتا ہے تب وہ اس سے باز پرس کرتے ہیں کہ اس نے گولیاں کیوں نہیں چلائیں ۔تب نوجوان جس طرح اپنی حالت دیگر ساتھیوں کو بتاتا ہے اس کیفیت کو افسانہ نگار نے بڑے موئثرانداز میں کچھ یوں بیان کیا ہے ۔ ۔۔

’’وہ لوگ نماز کے لیے صفیں بنائے کھڑے تھے اور سب سے

پچھلی صف میں زیادہ تر بچّے تھے ۔ آٹھ سے بارہ سال تک کی عمر

کے بچّے ۔ اگر میں فائرنگ کرتا تو سب سے پہلے یہ بچّے ہی

میری زد میں آتے۔ گن میرے ہاتھ میں منوں وزنی ہوگئی ۔

اس کی نال کا رخ فرش کی طرف تھا اور میری فائرنگ سے فرش

اکھڑتا رہا ۔‘‘

مذکورہ اقتباس نو جوان کی اس ذہنی کیفیت کا غمّاز ہے جو عبادت گاہ میں حملہ کرنے کے وقت اس کے دل پر طاری ہوتی ہے اور اس کے اندر کا انسان جاگ اٹھتا ہے اور وہ حملہ نہیں کرتا ہے ۔واپس آنے پر نوجوان کے دہشت گرد ساتھی اسے ڈراتے ہیں کہ سربراہ کو پتہ نہ چلے کہ تم نے نمازیوں پرگولی نہیں چلائی ہے ورنہ وہ تمہیں چھوڑے گا نہیں ۔ لیکن نوجوان جانتا ہے کہ یہ بات اسے پتہ تو چل ہی جائے گی اور وہ اس کے لیے تیار بھی ہے اور وہ کہتا ہے کہ وہ خود ہی اس کو بتا دے گا کہ نہ تو آج اس نے ان پر گولی چلائی ہے اور نہ آئندہ ایسا کوئی کام کرے گا۔ اس جگہ افسانہ نگار نے افسانے میں ایک ایسے انسان کے جذبات کی عکاسی کی ہے جو صدمے اور انتقام کے جذبے کی وجہ سے وقتی طور پر اس دہشت گرد کے بہکاوے میں آکر دہشت گردوں میں شامل توہوجاتا ہے لیکن اس کے اندر کا انسان اسے یہ ظلم کرنے سے باز رکھتا ہے ۔

یہاں افسانہ نگار نے ایک بہت خاص بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ہماری توجہ مبذول کرائی ہے کہ انسان اگر کسی وجہ سے کسی برائی یا جرم میں ملوث ہوجائے تب بھی اس کے اندر ہمدردی اور انسانیت کا جذبہ زندہ رہتا ہے ۔ مرکزی کردار وقتی طور پر انتقام کی آگ میں جل کر جرم بھی کرنے کو تیار ہوجاتاہے لیکن اس کاجذبہء ایمانی عود کر آتا ہے اورخدا کا خوف دامن گیر ہو کر اسے یہ ظلم کرنے سے روک لیتا ہے۔ وہ ڈرتا ہے کہ خدا اس کے اس گناہ کو کبھی معا ف نہیں کریگااس لیے وہ خدا کو ناراض نہیں کرنا چاہتا ۔اسے یقین ہے کہ بے گناہوں کو ہلاک کرنے پر اﷲاس کی پکڑ ضرور کرے گا ۔ نوجوان کے اندر خدا کا خوف اور بے گناہوں کو قتل کرنے کے نتیجے میں سزا ملنے کے ڈر کی کیفیت کوافسانہ نگار نے بڑے فنکارانہ انداز میں اس طرح بیان کیا ہے ۔۔۔

’’ایک عبادت گاہ میں خدا کی پرستش کرنے والوں کو خون میں نہلایا گیا

ہے۔کیا خدا خاموش رہے گا ۔ مجھے آسمان پر چھائی اس ہولناک تاریکی

سے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔کچھ ہونے والا ہے کچھ ہو کر رہے گا۔ ‘‘

دوسری طرف افسانہ نگار ان ظالموں کا ذکر بھی بڑے اچھوتے انداز میں کرتا ہے جو گناہ کرتے ہیں پھر بھی بے خوف ہیں اور انہیں خدا کے عذاب کا بھی کوئی ڈر نہیں ہے ۔ افسانے کے یہ دوجملے ان لوگوں کی فطرت کو بہت واضح انداز میں بیان کرتے ہیں ۔۔۔

’’کچھ نہیں ہوگا ۔ایسے کتنے ہی واقعات ہو چکے ہیں مگر نہ آسمان گرا ا ور

نہ زمین ہی پھٹی ۔‘‘

افسانہ نگار نے دہشت گرد کی زبان سے یہ جملہ کہلواکر ایسے انسانوں کی فطرت کو بیان کیا ہے جن کے دل خدا کے خوف سے عاری ہیں وہ ظلم کرتے ہوئے بھی نہیں ہچکچاتے اور نہ ہی انہیں کسی سزا کا ڈر ستاتا ہے ۔

افسانہ اور آگے بڑھتا ہے، حملہ کرنے والے دہشت گرد بیٹھے ہوئے آپس میں رحیم کی بزدلی پر ہنس رہے ہیں ، اس کا مذاق اڑا رہے ہیں کہ اسے خدا کی ’’پکڑ ‘‘ کا ڈر ہے جس کا ذکر وہ ان سے کر چکا ہے اورجس کے ڈرسے وہ عبادت گاہ میں نمازیوں پربندوق نہیں اٹھاتا ہے ۔ رحیم سر جھکائے خاموش بیٹھا ہے تبھی ایک دہشت گرد جو اس مشن کا سربراہ ہے دوسرے ساتھی سے کہتا ہے کہ اسے (رحیم) کو میرے سامنے سے ہٹا دو مجھے اس کی بزدلی پر غصّہ آرہا ہے ۔ دوسرا ساتھی جو رحیم سے کچھ ہمدردی رکھتا ہے اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے آتا ہے اور کہتا ہے کہ ابھی تم کچھ دیر کے لیے یہاں سے ہٹ جاؤ ۔جب ان لوگوں کا غصّہ ٹھنڈا ہوجائے تب آجانا ۔

رحیم اس عمارت سے باہر آکر ایک طرف کوچل دیتا ہے ابھی وہ کچھ ہی دور گیا تھا کہ زلزلہ آتا ہے اور وہ عمارت زلزلے کی زد میں آکر زمیں بوس ہو جاتی ہے جس میں اس کے ساتھی دہشت گرد بیٹھے ہوئے ہیں وہ سب اس میں دب کر ختم ہو جاتے ہیں ۔ زمین کے ہلنے سے رحیم سہم جاتا ہے اورکچھ دور پہنچ کر اس کی نظر جب عمارت کی طرف اٹھتی ہے تووہ حواس باختہ ہو کر تیز تیز بھاگنے کی کوشش میں وہیں گر جاتا ہے لیکن زندہ بچ جاتا ہے ۔یہیں افسانہ ختم ہو جاتا ہے ۔

افسانہ نگار نے جس موضوع کا انتخاب کیا اس سے بخوبی انصاف بھی کیا ہے ۔افسانے سے عنوان کی مناسبت بھی خوب ہے ایک طرف مرکزی کردار رحیم خدا کی ’’پکڑ ‘‘سے ڈر کر تائب ہوتا ہے اور دوسری طرف دیگر دہشت گردوں کی خدا کی طرف سے ہاتھوں ہاتھ کچھ اس طرح ’’پکڑ‘‘ہوتی ہے کہ زلزلہ آتا ہے اور سب اسی عمارت کے ملبے میں دب کر ختم ہوجاتے ہیں ۔افسانہ نگار نے ’’پکڑ‘‘ لفظ سے خوب استفادہ کیا ہے۔افسانے کے اختتام پر افسانہ نگار یا چوک گیا یا جذباتی ہو گیا ہے ۔ ظلم اور گناہ کرنے کے بعد فوراً ہی زلزلے کی وجہ سے عمارت کے گر جانے سے دہشت گردوں کی موت دکھا کر افسانہ نگار اصلاحی پہلو تو لے آتا ہے لیکن یہ پہلو افسانے کے فطری بہاؤ میں ایک رکاوٹ بھی ڈال دیتا ہے ۔

عام زندگی میں ایسا نہیں ہوتا ہے ، ظالم اتنی آسانی سے کیفر کردار کو کہاں پہونچتا ہے اگر ایسا ہوتا تو ایک ظلم کرنے کے بعد ظالم ختم ہوجاتا اور ظلم کا سلسلہ بھی ختم ہوجاتا ۔ افسانہ نگارنے افسانے کا انجام بہت جذباتی اندازمیں کیا ہے ۔بالکل اسی طرح جیسے ہم روز مرّہ کی زندگی میں اچھا کام کرنے کے بعد فوراً انعام پانا چاہتے ہیں اور اگر کوئی دوسرا برائی کرتا ہے تو اس کاانجام بھی فوراً دیکھنا چاہتے ہیں۔ حالانکہ یہ قرین قیاس بھی ہے اور ایسا ہونا ناممکن بھی نہیں ہے لیکن دنیا میں ابھی خیر پر شر کی طاقت حاوی ہے اور ظالموں کو گناہ کی سزا اتنی جلدی اور اتنی آسانی سے نہیں ملتی ہے ۔

افسانے کا پلاٹ چست ،اسلوب عمدہ، زبان سلیس اور سادہ ہے ۔مکالمے کرداروں کی نفسیاتی اور ذہنی کیفیت کی بھر پور عکّاسی کرتے ہیں۔ قارئین پر افسانہ نگار کی گرفت مظبوط ہے ۔مجموعی طور پر ایک بہت بڑے عالمگیر مسئلے کو موضوع بنا کرتخلیق کیا گیا یہ ایک کامیاب اصلاحی افسانہ ہے ۔

وحید احمد قمر کے لئے میں سیّد امین اشرف کا یہ شعردرج کرتی ہوں سے ۔

سفر کے تجربوں میں گردِ پا بھی آہی جاتی ہے

مگر اس پیچ و خم سے کچھ جلا بھی آہی جاتی ہے

 

ختم شد

ڈاکٹر افشاں ملک

علی گڑھ ۔ بھارت

 

 

 شہر آہن جمشیدپور کے معروف افسانہ نگار نیاز اختر کا افسانہ ’’ تپتی زندگی ‘‘قارئین کی نذر ہے ..........

تپتی زندگی 
نیاز اختر
جمشید پور


                       *گرمی بول رہی تھی ۔ سورج سوا نیزے پر اُتر آیاتھا۔ پاگل دیوانی لُو‘ موت کا پیغام لیے دھول اور ریت کے ساتھ رواں دواں تھی۔ معلوم ہوتا تھا کہ آج دنیا جل کر بھسم ہو جائے گی ۔کوئی ذی روح باقی نہ رہے گا۔ہرے بھرے درخت لُنڈ مُنڈ ہوتے جارہے تھے۔نرم نرم بیلیں سوکھ کر کانٹا ہوئی جا رہی تھیں۔لوگ اپنے اپنے گھروں میں مقیّد ہو کر بارش کی دعائیں مانگ رہے تھے اور وقتاً فوقتاً آسمان کی جانب منھ اُٹھا کر باد ل کو تلاش کرتے مگر آسمان تو کسی بیوہ کی مانگ کی طرح سونا تھا۔
گرد و نواح کے سارے کنؤیں خشک ہو چکے تھے۔ٹیوب ویل بھی سب خراب پڑے تھے۔آدمی تو آدمی جانور بھی بے کل ہو کر پانی کی تلاش میں ادھر اُدھر مارے پھر رہے تھے۔ایسے میں اگر کوئی اُمید کی کرن تھی تو وہ میونسپلٹی کی سپلائی لائن جو ہر روز دن میں دو بار کھل کر زندگی کی نویددیتی۔ لوگ جلدی جلدی اپنے گھروں میں پانی بھر لیتے مگر شومیِ قسمت کہ وہ بھی گزشتہ دو روز سے بند تھی۔ سڑک پر لگے نلکے کے چاروں طرف بے شمار خالی گھڑے‘بالٹیاں اور پانی بھرنے کے دوسرے برتن بھائیں بھائیں کر رہے تھے۔پانی کے لیے لوگ آہ و بُکا کر رہے تھے اور گرمی تھی کہ مسلسل بولے جارہی تھی۔سورج بھی شدت غیظ میں شعلے اُگل رہا تھا۔لوگ صبح ہوتے ہی شام ہونے کی دعائیں مانگتے لیکن نظام قدرت میں کوئی تبدیلی ممکن نہیں۔ذرائع ابلاغ لُو سے مرنے والوں کی تعداد بتا رہے تھے ۔ہلاکتوں کا سلسلہ جاری تھا اور اس میں روز بہ روز اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔
برداشت کی ساری حدیں ٹوٹ چکی تھیں۔صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ لوگ ہجوم کی شکل میں میونسپلٹی کا گھیراؤ کرنے جا رہے تھے۔وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ میونسپلٹی میں ہڑتال ہے.....کئی ماہ سے وہاں کے ملازموں کو تنخواہ نہیں ملی تھی۔واٹر سپلائی بند ہونے کا اصل سبب یہی تھا۔
اب جنگ کا نقشہ بدل گیا۔دونوں فریق ایک ہو گئے اور پھر ایک بڑے جلوس کی شکل میں وہ لوگ ڈی۔ایم کے آفس کی جانب روانہ ہو گئے۔وہاں پہنچ کر زور زور سے نعرے بلند کیے جانے لگے۔ کلکٹر صاحب اپنے ایر کنڈیشن چیمبر سے باہر نکلے اور اس سمندری ہجوم کو دیکھ کر حواس باختہ ہو گئے۔لُو کے تھپیڑوں نے جب ڈی. ایم. صاحب کے گالوں کے بوسے لینے شروع کیے تو وہ گھبرا کر اپنے چیمبر میں گھس گئے۔
تھوڑی دیر بعد ڈی.ایم. کا پی۔اے باہر نکلا۔
میونسپلٹی ورکرس یونین کے نیتااندر بلائے گئے۔ جلوس میں شامل چند عمر رسیدہ لوگ بھی اندر داخل ہو گئے۔گفت و شنید کا دور شروع ہوا۔ ڈی. ایم. نے بارگیننگ کرنی چاہی۔پیاسے لوگ بپھر اُٹھے۔آخرش بڑی ردوقدح کے بعد نصف تنخواہ فوری طور پر ادا کرنے کا وعدہ کیا گیا اور باقی نصف قسطوں میں دینے کی بات طے ہوئی۔ 
معاملہ تو طے پا گیا مگر ڈی.ایم. صاحب اپنے چہرے سے ناگواری کے اثرات نہیں مٹا سکے۔
ہرٹال ختم ہو گئی۔
نصف النہار کا وقت تھا۔سورج کی کرنیں برچھی کی انی کی طرح زمین میں پیوست ہوئی جاتی تھیں۔ہواؤں کے تیز جھکڑ وحشی درندوں کی طرح محو رقص تھے۔تبھی ایک خوشی بھری چیخ سنائی دی۔’’پانی آ گیا۔‘‘
اتنا سننا تھا کہ لوگ باگ اپنے اپنے گھروں سے نکل کر سڑک کے کنارے لگے نلکے کے ارد گرد جمع ہونے لگے۔اور پھر گھڑے سے گھڑا بجنے لگا۔کوئی کہتا‘ پہلے میری باری ہے پہلے میں پانی لوں گا‘کوئی کہتی ‘میرا گھڑا دو دن سے یہاں پڑا ہے ‘پہلے میں پانی لوں گی۔ اس بات پر اول تو تُو تُو میں میں ہوئی پھر ہاتھا پائی ہونے لگی۔عورت جب اپنی دیگچی لگاتی تو مرد اسے اُٹھا کر پھینک دیتا اور جب مرد اپنی بالٹی لگاتا تو عورت اس کی بھری بالٹی میں ہاتھ ڈال دیتی ۔بڑی دیر تک یہی صورت حال بنی رہی لیکن جب دوسرے لوگوں نے چیخ پکار کی تو عورت دھیمی پڑ گئی اور پھر لوگ باری باری سے پانی لینے لگے۔
تبھی ایک بوڑھا اور نحیف شخص کاندھے پر پھٹا پرانا جھولا لٹکائے اور ہاتھ میں چھوٹا سا کمنڈل لیے ہولے ہولے چلتا ہواپائپ کے پاس آیا۔اس کے پاؤں میں چھالے پڑے ہوئے تھے۔میلا چکٹ کرتا پسینے سے شرابور تھا اس نے آتے ہی اپنے پپڑی جمے ہونٹوں پر اپنی خشک زبان کو پھیر کر گھگھیاتی ہوئی آواز میں کہا۔
’’بابا تھوڑا پانی پلا دو۔‘‘
’’یہاں نمبر سے پانی ملے گا۔‘‘پھٹی پرانی ساری پہنے ایک عورت نے تیکھے لہجے میں کہا۔
’’سویرے سے پیاسا ہوں بابا۔‘‘
’’کہہ دیا نا.....نمبر سے پانی ملے گا۔لائن میں لگ جاؤ۔‘‘اس کی تیز آواز سن کر بوڑھا سناٹے میں آگیا اور پھر سورج کی خار دار کرنوں سے بچنے کے لیے اپنے کاندھے پر لٹکے جھولے کو سر پر رکھتے ہوئے خاموشی کے ساتھ جا کر لائن میں لگ گیا۔
اب پانی کی دھار پتلی ہونے لگی تھی۔بوڑھے کا نمبر سب سے آخر میں تھا۔بوڑھا کبھی پانی کی دھار کو دیکھتا اور کبھی پانی بھرتے لوگوں کو اور کبھی سورج بھگوان کو جو آگ کے گولے کی طرح دہک رہے تھے۔
اچانک ہوا کاایک تیز و تند جھکڑ آیا جس کی زد میں آ کربوڑھے کے پاؤں اُکھڑ گئے اور وہ کسی کٹے ہوئے پیڑ کی طرح دھم سے زمین پر گر پڑا۔بوڑھے کو زمین پر گرتے دیکھ کر تیکھی عورت کے دل میں ہمدردی کا جذبہ اُبھر آیا اور اس نے جلدی سے ایک چلّو پانی اس کے منھ پر ڈال دیا۔ایک دوسری عورت نے اپنی بھری دیگچی اس کے ماتھے پر اُنڈیل دی لیکن بوڑھا تو بے حس و حرکت پڑا تھا۔
اس کی تشنگی مٹ چکی تھی۔وہ تپتی زندگی سے نجات پا چکا تھا۔
*****



 نیاز اختر کا افسانہ ’’ تپتی زندگی ‘‘ ایک مطالعہ
 
شکیل عُلائی
گیا

’’زبان وادب ‘‘ پٹنہ کے ماہ ستمبر ۲۰۱۲ ؁ کے شمارہ میں اشاعت نیاز اختر ( جمشیدپور ) کا افسانہ ’’ تپتی زندگی ‘‘ پڑھنے کا شرف حاصل ہوا۔ نیاز اختر کی تحریر بولتی تصویر ہے۔ ان کی تحریر کر اہتی بھی ہے تو خوش آئند پیغام دیتی ہے۔ ان کی تحریروں میں صداقت کی لکیریں پوشیدہ ہیں، جس سے دل وماغ پرفرط و انبساط کے آ وازے دستک دیتے ہیں۔کسی بھی تحریر سے خالق کی شخصیت کا تصور ابھر تا ہے اور اس کے مزاج کا پتہ چلتا ہے کہ کس طرح وہ سماجی عوامل کا حصّہ دارہے۔
’تپتی زندگی ‘ ان ہی کوائف پر مبنی ایک دل کش افسانہ ہے جو عوامی سطح پر روز مرہ کے مسائل آئے دن سر اٹھائے رہتے ہیں۔ گرمی کی شدت اور پانی کی قلت پھر محکمہ آبی وسائل کے ناقص حالات انسانی زندگی کو مجروح کر دیتے ہیں۔ ایسا احساس ہوتا ہے کہ برائے طلب آب دو پہاڑیوں کے فاصلوں کی دوڑ لگانی پڑ رہی ہے اور اچانک آبشار پھوٹ پڑتا ہے جس سے ہر ذی روح کو راحت ملتی ہے۔ جیسے معجزہ ذبیح ا ﷲ ہو۔
ضروریات کے لیے پانی حاصل کرنے میں کیسی خود غرضی ثابت ہوتی ہے وہ اس افسانہ کا بہترین حصّہ ہے۔ ضرورت مند اپنی پہلی باری کا دعویٰ کرنے میں ایک دوسرے کی بالٹی اور گھڑا کو پیچھے کر اپنے برتن کو مزید آگے سرکانے میں کامیابی کا لطف اٹھاتے ہیں لیکن یہ لطف جلد ہی کافور بن جاتا ہے۔ آپسی تصادم اور پھر چیخ وپکار کی فضا میں اصول و ضابطہ کی طنابیں ٹوٹ کر گر جاتی ہیں۔ ان ہی کیفیات کو ایک ضعیف العمر و نحیف فقیر اپنا کمنڈل لیے آگے بڑھتا ہے لیکن بے رحم لوگ اسے پیچھے کی طرف ڈھکیل دیتے ہیں۔ نمبر سے پانی ملنے کا اصول اور ضابطہ کا سبق سکھانے لگتے ہیں۔ بیچارہ فقیر پانی کی دھار کو پتلی ہوتے دیکھ اسے اپنی ہی زندگی کمزور نظردھاگے کی طرح دکھائی دینے لگتی ہے۔ لیکن کسی کو بھی اس بوڑھے پر ترس نہیںّ یا اور وہ بیچارہ فقیر پیاس کی شدّت کی تاب نہ لاکر زمین پر گر پڑا اور سدا کے لیے وہ پیاس سے نجات پا گیا۔
افسانہ کے اس حصّہ میں یزید کے کردار کی بو آتی ہے، جہاں سچاّئی بھی تصنّع سے کام لیتی ہے۔ بوڑھے کے مرنے کے بعد اصول و ضوابط سے لائن لگا کر پانی بھرنے والے لوگ اب اسکے منہ و چہرے پر بالٹی بالٹی پانی انڈیل رہے ہیں لیکن اس بوڑھے کی تشنگی تو قدطور پر کب کی مٹ چکی تھی۔ اسے گرم ریتیلی سخت دھوپ سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارہ مل گیا۔ یہ افسانہ دراصل اس فکر کی نشاندہی کرتا ہے جس میں عام طور پر ذہنی استحصال، بے ر حمی کا جذبہ اور اصول و ضوابط کے نام پر کسی کی حق تلفی کرنا، ایک عام سا مزاج بن گیا ہے،جس میں ہم سارے لوگ شامل ہیں۔

*****

شکیل عُلائی
گیا

 


شہرِآہن جمشید پور کے معروف افسانہ نگار ڈاکٹر اختر آزادؔ کا افسانہ   برف پگھلے گی    قارئین کی نذر ہے۔


ایک تحریک


اُردو آپریشن

افسانوں اور ناولوں کا آئینہ


اردو آپریشن میں ہر ماہ تین افسانے شائع ہوں گے۔ 
ہر افسانے کا آپریشن ماہرین کے ساتھ ساتھ قارئین بھی کریں گے۔ 
ہر سال دس بہترین افسانوں کو ایوارڈ سے نوازا جائے گا۔ 
آپریشن کے نکات
۱۔افسانے کا عنوان خراب ، اچھا ، نیا، بہت خوب 
۲۔افسانے کا موضوع خراب ، اچھا ، نیا، بہت خوب 
۳۔ افسانے کا بیان نیا ہے ، پرانا ہے، بالکل الگ ہے۔
۴۔افسانے کی زبان بہت خوب ہے۔ماحول کے مطابق ہے، بہت خراب ہے۔
۵۔کیا اس سے پہلے بھی آپ نے ایسا افسانہ پڑھا ہے۔دونوں میں فرق واضح کریں۔ ۶۔افسانے کی پانچ خوبیاں 
۷۔افسانے کی تین خرابیاں 
۸۔کوئی خاص بات(مثبت یا منفی ) جس نے آپ کو بہت متاثر کیا ہو۔


قارئین سے گذارش ہے کہ وہ کہانی پڑھ کر ’’ اُردو وآپریشن ‘‘ کے درج بالانکات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے اپنے طور پر آپریشن کریں، کہانی کی خوبی اور خامی کو بے جھجھک لکھیں........

ادارہ

****

                      شہرِآہن جمشید پور کے معروف افسانہ نگار ڈاکٹر اختر آزادؔ کا  افسانہ  برف پگھلے گی    قارئین کی نذر ہے۔

 

 DR.AKHTAR AZAD
مکان نمبر۔ ۳۸، روڈ نمبر ۔۱
آزاد نگر ، جمشیدپور ۔۸۳۲۱۱۰
موبائل۔ 09572683122
عنوان البريد الإلكتروني هذا محمي من روبوتات السبام. يجب عليك تفعيل الجافاسكربت لرؤيته.


 برف پگھلے گی BARF PIGHLE GI

 
            ’’ سر اِ ن پہاڑی چوٹیوں پر صدیوں کی جمی ہوئی برف جسے آپ دیکھ رہے ہیں نا ۔ وہ ایک دن میرے جسم کی گرمی سے پگھل جائے گی ۔‘‘
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میرا تبادلہ دوسری جگہ ہو گیا تھا ۔ سارا اِسٹاف مجھے الوداع کہنے کے لئے کازا بس اِسٹینڈ تک آیا تھا ۔ تب میں آخری بار پہاڑوں پر جمی ہوئی برف کو کیمرے میں قید کر رہا تھا کہ لوبزانگ گیاچو نے بڑے ہی رازدارانہ انداز میں چوٹیوں کی طرف اِشارہ کرتے ہوئے مجھ سے یہ کہا تھا ۔
پرنسپل کے بعد ڈپٹی ڈائریکٹر بن کر انسپیکشن کے لئے جب قریب آٹھ سال کے بعد ان وادیوں میں دوبارہ پہنچا تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ پہاڑی چوٹیو ں پر صدیوں کی جمی ہوئی برف پگھل چکی ہے ۔ تب مجھے لوبزانگ گیاچو بہت یاد آیا ۔ وہ اسپیتی کا ہی رہنے والا تھا ۔ 
لاہول اِسپیتی رہائشی اعتبار سے ہنددستان کی سب سے اونچی جگہ ہے ۔ سمندری سطح سے یہ حصّہ تقریباچودہ ہزار سے سولہ ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع ہے ۔ دنیا کا سب سے اونچا پٹرول پمپ اور ڈاک خانہ یہیں ہے ۔ یہاں کا درجہء حرارت موسمِ سرما میں مائنیس پچیس سے چالیس تک پہنچ جاتاہے ۔ سالوں بھر برف باری ہوتی ہے اور پہاڑوں کی چوٹیاں ہمیشہ برف سے ڈھکی رہتی ہیں ۔ 
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب اسپیتی میں برف باری اپنے شباب پر تھی ۔ اس دن اچانک موسم خراب ہو گیا تھا اور آسمان سے برف روئی کے گالوں کی طرح چاروں اور بکھر رہی تھی ۔ آدھے گھنٹے میں دو تین انچ موٹی برف کی اجلی چادر بچھ گئی ۔ موسم کے مزاج کو دیکھتے ہوئے آج بچّوں کی پہلے ہی چھُّٹی کر دی گئی تھی ۔ تمام اساتذہ لنچ کے لئے میس جاچکے تھے ۔ مجھے ایک لیٹر ڈکٹیٹ کروانا ضروری تھا ۔ اس لئے لوبزانگ گیاچو کو میں نے روک لیا تھا ۔جب کام ختم ہوا تو چاوں طرف برف کا دھواں پھیلا ہوا تھا ۔ گیٹ سے باہر نکلتے ہی لوبزانگ گیاچونے جیکٹ پر جمی برف کو جھاڑا اور پھرحسبِ معمول جیسے ہی میس کی طرف بڑھا ۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑلیا ’’گیاچو جی ! اس موسم میں سبزی سے کام نہیں چلے گا ۔ چلو گھر میں ہی آج انڈہ کڑی بناتے ہیں ۔‘‘ وہ انڈے کا شوقین تو تھا ہی ، فرماں بردار بھی تھا ۔ مسکراتے ہوئے پلٹا اور میرے ساتھ ساتھ چلنے لگا ۔ 

لوبزانگ گیاچو سے میری ملاقات بارہ سال قبل ہوئی تھی ۔ وہ چار سال تک میرا کلیگ تھا ۔ میرے اسپیتی پہنچنے سے پہلے وہ لائبریرین کے طور پر کام کررہا تھا ۔ پرمانینٹ لائبریرین کے آجانے پر میں نے اسکول کے مفاد کو مدِّنطر رکھتے ہوئے اسے آفس میں ایل ڈی سی کے طور پر ایڈجسٹ کر دیا تھا ۔
لوبزانگ گیاچو میں پتہ نہیں ایسی کون سی بات تھی جو اسے دوسرے تمام اسپیتی والوں سے الگ کرتی تھی۔ گول سڈول جسم ، چوڑی پیشانی ، چھوٹی ناک ، اندر کی طر ف گھسی ہوئی آنکھیں ، سیاہ سلجھے بال ، مونچھیں اور داڑھی ایسی جیسے جلد بازی میں شیو کے بعد بال کہیں کہیں رہ گئے ہوں اس کی طرح کا مہذّب شخص مجھے اس دور دراز علاقے میں کوئی دوسرا نظر نہیں آیا ۔ دوسروں کا دکھ درد اس کا اپنا دکھ درد تھا ۔ وہ ہر طرح سے میری مدد کیا کرتا تھا ۔ اسکول کے وہ سارے کام جو اس کے سپرد کئے جاتے ، انہیں بحسن وخوبی وہ اس طرح انجام دیتا کہ میں عش عش کر اٹھتا ۔ وہ پالٹیکل سائنس میں ایم اے تھا اور ایم لِب بھی کر چکا تھا ۔ نوکری کے لئے کہیں نہ کہیں ہر مہینے فارم بھرتا ۔ انٹرویو کے لئے جاتا ۔ لیکن سیاست پر گہری نظر ہونے کے باوجود وہ سِڈول ٹرائب رعایت کا فائدہ نہیں اُٹھا سکا ۔ کیوں کہ وہ نوکری کے اکھاڑے میں سیاسی پہلوانوں کے داؤں پینچ سے ابھی اتنا واقف نہیں ہوا تھا ۔ 
کمرے میں پہنچ کر سب سے پہلے میں نے بخاری جلائی ۔ پھر ہم دونوں نے انڈہ کڑی اور روٹی بنائی ۔ خوب ڈٹ کر کھانا کھایا ۔ تھوڑی دیر بعد میں کافی بنانے کے لئے اٹھا تو لوبزانگ گیاچو نے کافی کی شیشی مجھ سے چھین لی ’’سر آپ بیٹھئے ۔میرے ہاتھ کی کافی آج پی کر دیکھئے۔‘‘ واقعی اس نے کافی بہت اچّھی بنائی تھی ۔ میں کافی پی رہا تھا اور کھڑکیوں کے شیشے سے برف کے چھوٹے چھوٹے گالوں کو ایک سیدھ میں کھڑے پتّیوں سے بے لباس ، پاپولر کی اونچی اونچی شاخوں پر جھولتے دیکھ رہا تھا اور لطف اندوز ہو رہا تھا کہ یکایک بڑھتی ہوئی سردی میں جسم کو کچھ اور حرارت بخشنے کے لئے ترکیب کی بخاری میں ،میں نے شرارت کی ایک لکڑی رکھی اور سوچ کی آگ تاپتے ہوئے لوبزانگ گیاچو کو چھیڑا ۔ 
’’تم نے اب تک شادی کیوں نہیں کی ۔؟ ‘‘
’’سر کہیں پرمانینٹ نوکری ہو جائے تو سوچوں گا ۔‘‘
’’ کہیں ایسا نہ ہو کہ پرمانینٹ نوکری کے انتظار میں وقت کے پلگ میں کاربن جم جائے اور ہمیشہ کے لئے زندگی کا اِنجن بند ہو جائے ۔ پھر کیا کرو گے ۔؟ تمہاری عمر میں تو بہت سارے لوگوں کے بچّے ہائی اسکول پاس کرجاتے ہیں ۔ عمر کے آخری حصّے میں ایک ساتھی کی ضرورت اور بھی شدّت سے محسوس ہوتی ہے ۔ اس لئے اب بھی وقت ہے ۔ کوئی اچّھی سی لڑکی دیکھ کر شادی کر لو ۔ ‘‘
’’ لیکن مجھ سے شادی کون کرے گا ۔ ؟ ‘‘ اس کی آواز میں مایوسی تھی ۔ پھر کچھ رک کر آگے کہا ۔ ’’ سر آپ نہیں جانتے کہ یہاں شادیاں کتنی طرح سے ہوتی ہیں ۔ زیادہ تر شادیاں ویسی ہوتی ہیں ، جس میں لڑکالڑکی کو بھگا کر یا زبردستی اٹھاکر لے جاتا ہے ۔ جس میں اکثر لڑکی اور اس کے گھر والوں کی مرضی بھی شامل نہیں رہتی ۔ جہاں ہم بستری ہوئی سمجھئے ’چھوٹی شادی ‘ ہو گئی ۔ باضابطہ وہ سماج کے سامنے سسرال میں رہتی ہے ۔ یہاں تک کہ چھوٹی شادی میں بچّے بھی پیدا کر لیتی ہے ۔ اور کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوتا ۔ ’بڑی شادی ‘ اس دنہوتی ہے جس دن لڑکے والے سارے سماج کے سامنے اپنے لڑکے کے کارنامے کو فخریہ انداز میں پیش کرتے ہیں اور پارٹی دیتے ہیں لاما شادی کی رسمیں نبھاتے ہیں ۔ ‘‘
نہیں ایسی بات نہیں ہے سر ! دوسروں کی طرح بھگانے کی ہمّت مجھ میں بھی ہے ۔ لیکن میں ایسا کرنا نہیں چاہتا ۔ رہی بات لڑکی کے پسند آنے کی تو پسند تو کئی آئیں ۔ لیکن اس کی پسند پر میں ہی کھرا نہیں اُترا تو اسے چھمّو (بیوی) کیسے بناتا ۔؟ میں نے پڑھائی دلّی اور چنڈی گڑھ میں کی ہے ۔ اس لئے جانتا ہوں کہ میدانی علاقوں میں تلک اور جہیز کے بغیر لڑکی کی شادی نہیں ہوتی ۔ لیکن اس کے برعکس یہاں لڑکے کی شادی تبھی ہو سکتی ہے جب اس کے پاس لڑکی کو جہیز میں دینے کے لئے گھر، کھیت اور بینک بیلنس ہو ۔ جس کے پاس یہ سب کچھ نہیں ہوتا ہے ۔ اُسے زندگی بھر کنوارا رہنا پڑتا ہے ۔ میں بھی کنوارا مروں گا ۔‘‘
’’ سر میں نے تو پہلے ہی کہا ہے ۔ یہاں کا قانون دنیاکے دوسرے قبائلی حصّوں سے بہت مختلف ہے ۔ یہاں صدیوں سے جائداد کی تقسیم نہیں ہوئی ہے۔نسل در نسل ساری جائداد کا وارث بڑا لڑکا ہی ہوتا آیا ہے ۔ اور یہی چھوٹے بھائیوں کی زندگی کا سب سے بڑا المیہ ہے ۔‘‘
’’ آپ نے بالکل سہی سمجھا ۔ والدین کی جائداد میں سے چھوٹے بھائیوں کو کچھ نہیں ملتا ۔ میرے والد کو ہی دیکھئے ۔ اُن کے پاس کیا نہیں تھا ۔؟ چار منزلہ گھر ، ہوٹل ، کھیتی کے لائق اچّھی خاصی زمین اور بینک بیلنس ۔ پی ڈبلو ڈی سے بحیثیت اکاؤنٹ افسر جب وہ ریٹائر ڈہوئے تو ایک کثیررقم ان کے ہاتھ آئی ۔ ہم تین بھائی تھے ۔ اگر وہ چاہتے تو تینوں میں برابر برابر جائداد کی تقسیم کر کے سبھی کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر سکتے تھے ۔ لیکن سماجی دباؤ اور بڑے بھائی کے باغیانہ رویّے کی وجہ سے وہ مجبور ہوگئے ۔ اس میں قصور میرے والد کا نہیں بلکہ یہاں کے قانون کا تھا دوسرے نمبر والابھائی لامابن گیا ۔ ‘‘ 
’’ دوسری بار اگر یہاں کی دھرتی پر آنے کاموقع ملا تو میں سب سے پہلے ماں کی کوکھ پر قبضہ جماؤں گا ۔ یا پھر لاما بن جاؤں گا ۔یہاں کے قانون کے مطابق ہر خاندان کیایک لڑکے کو’ لاما ‘اور ایک لڑکی کو’ چومو‘ بننا پڑتا ہے ۔ ورنہ سوشل بائیکاٹ ۔ اگر کسی خاص وجہ سے کسی کو رعایت مل بھی جائے تو اسے پوری زندگی کسی لاما یا چومو کا خرچ اُٹھانا پڑتا ہے ۔ یا پھر جُرمانے کے طور پر ہزاروں روپئے گومپا میں جمع کروانے پڑتے ہیں ۔ ’لاما‘ اور ’ چومو ‘ کو اپنے سر کے بال منڈواکرکتھے رنگ کا چولا پہن کر ساری زندگی گومپاؤں میں گزارنی پڑتی ہے۔ مہاتما بدھ کی زندگی کا ادھّین کرنا پڑتا ہے ۔ دلائی لاما جی کے آدرشو ں پر چلنا پڑتا ہے ۔ وہی مذہبی کاموں میں ، شادی بیاہ میں ، پیدائش اور موت کے سمئے پوجاپاٹھ کرتے ہیں۔ اس کے رہنے سہنے اور کھانے پینے سے لے کر ضرورت کی ساری ذمّہ داری گومپا کے ہیڈ لاما پر ہوتی ہے ۔ یہاں باہر سے بھی پیسے آتے ہیں اور لوگ چندہ بھی دیتے ہیں ۔ اس لئے وہاں اسے کسی طرح کی کمی نہیں ہوتی ۔ صرف شادی کا سکھ اس کے نصیب میں نہیں ہوتا 
آپ یقین مانئے سر کہ یہاں بے شمار نوجوان ایسے ہیں جو زندگی کے اس حسین سپنے کو دیکھ تو سکتے ہیں لیکن اسے عملی جامہ نہیں پہنا سکتے ۔ کیوں کہ اس کے لئے پیسے کی ضرورت پڑتی ہے ۔ نوکری کی ضرورت ہوتی ہے ..... لیکن ہم جیسوں کے پاس کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ چھوٹے ہونے کا گنا ہ زندگی بھر بھُگتنا پڑتا ہے ۔ سو ہم بھگت رہے ہیں ۔‘‘
’’ نہیں آپ کا سوچنا بالکل غلط ہے ۔ ایک نے آواز اُٹھانے کی کوشش کی تھی ۔ اس وقت ہم سب چھوٹے تھے ۔ گومپا کے ہیڈ نے اس کے خلاف فتوہ صادر کر دیا ۔ لوگوں نے پاگل کہہ کر پتّھر مار مار کر اسے ہمیشہ کے لئے موت کی آغوش میں سلا دیا کہ اگر زندہ رہا تو دوسروں کو ورغلائے گا ۔ زمین کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے کھیت کا نام ونشان ختم کردے گا ۔ پھر مٹر ، آلو اور جو کی کھیتی کہاں ہوگی ..... ہندوستان کا سب سے بہترین مٹر یہیں پیدا ہوتا ہے ۔ ٹھنڈسے لڑنے کے لئے گھر گھر شراب کی ضرورت پڑتی ہے ۔ اور یہ شراب ’جو‘ سے بنائی جاتی ہے ۔ اس لئے لوگ ڈرتے ہیں کہ کہیں کھیت ہاتھ سے نکل نہ جائے ۔ اسے بچانے کے لئے غیر منقسم جائداد قانون کو دیوتاؤں کاقانون بتاتے ہیں ۔‘‘
’’ آپ نے ٹھیک ہی سنا ہے سر ! پرانے زمانے میں تو کھیت کو بچانے کے لئے یہاں ’ کامن شادی ‘ کا بھی رواج تھا ۔ جس میں ایک لڑکی کے ساتھ ہوتی تو تھی صرف بڑیبھائی کی شادی ، لیکن اس کی غیر موجودگی میں تمام چھوٹے فیض یاب ہوا کرتے تھے ۔ ایسا مانا جاتا ہے کہ عورت اس کھیت کی طرح ہے جسے کوئی بھی ضرورت پڑنے پر جوت سکتا ہے ۔ کھیت کاکام صرف فصل اُگانا ہے لیکن جیسے جیسے لوگ تعلیم سے آشنا ہوئے اور اپنی اولادوں کو پڑھنے کے لئے باہر بھیجنے لگے ، ویسے ویسے دروپدی سِسٹم ختم ہوتا چلا گیا ۔ اب بھی یہ پوری طرح سے ختم نہیں ہوا ہے ۔ لیکن جہاں ختم ہو گیا ہے ، وہاں چھوٹے بھائیوں کاجینا محال ہو گیا ۔ کیوں کہ زیادہ تر بڑے بھائیوں نے اپنی عزّت اپنی تحویل میں ڈال لی ۔ اور چھوٹے بھائیوں کو گھر سے بے دخل کر دیا کہ ساتھ رہیں گے تو اس کی غیر موجودگی میں منہ مارنے سے باز نہیں آئیں گے ۔‘‘
’’ آپ نے بالکل درست فرمایا ۔جب چھوٹا ہوش سنبھالتا ہے تب اُسے ایسا لگتا ہے کہ وہ زندگی بھر چھوٹا ہی رہے گا ۔ کبھی بڑا نہیں ہوگا۔کیوں کہ وہ شروع سے بڑے اور چھوٹے خاندان کو اپنے آس پاس دیکھتا رہتا ہے ۔ اس لئے وہ اس بات کو خود سے تسلیم کرلیتا ہے کہ سماج میں بڑے خاندان کا ہی رعب ودبدبہ چلتاہے ۔ پردھان ان ہی گھروں سے بنتے ہیں ۔ ضلع پریشد ، ایم ایل اے اور ایم پی کے لئے کوئی دوسرا اپنی دعویداری نہیں پیش کر سکتا لیکن جو چھوٹا ہے ۔ وہ اور بھی چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے ۔ صرف سرکار کی طرف سے شادی کے بعد گھر بنانے کے لئے ’نوتوڑ زمین ‘ ملتی ہے ۔ کم آکسیجن والی اس جگہ میں کچھ ہی لوگ ایسے ہیں جو دن رات محنت ومشقّت کے بعد مٹّی کی دیواروں پر ٹین نما چھت ڈال کر برف باری اور سرد ہواؤں سے خود کو محفو ظ رکھ پاتے ہیں ۔‘‘
’’ نہیں سر میں نے گھر نہیں بنایا۔اور پھر بناؤں بھی تو کیسے ۔ ؟ گھر کے لئے گھر والی کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اور گھر والی کے لئے شادی کی شادی کے لئے یہاں مائیں بیٹیوں کو ٹرینڈ کرتی ہیں کہ شادی جب بھاگ کر ہی کرنی ہے تو کوئی ڈھنگ کا لڑکا چننا ۔ جس کے پاس سب کچھ ہو ۔ چھوٹے کو یہاں لڑکیاں گھاس بھی نہیں ڈالتیں ۔ اور جو لڑکیاں لڑکا چننے میں پیچھے رہ جاتی ہیں ، یا اسے بھگا کر کوئی نہیں لے جاتا ہے تو وہ بد قسمت سمجھی جاتی ہیں ۔ مائیں بھی کوستی ہیں کہ کیسی لڑکی اس نے جنی ہے کہ ایک لڑکے کو رِجھا نہیں سکتی شرمیلی صفت لڑکیوں کو جبرا سجا سنوار کر آرا(شراب)پلا کر چھنکا ، برتھ ڈے اور شادی بیاہ جیسے موقعوں پر لڑکوں کے ساتھ ڈانس کرنے کے لئے مجبور کرتی ہیں تاکہ وہ اپنی شہوانیت کی بو سے من چاہے لڑکے کو مسحور کر سکے ۔ جس دن لڑکی کو کوئی بھگا کر لے جاتا ہے ، اس دن مائیں خوشی سے پھولے نہیں سماتیں ۔ گھر گھر جا کر عزّت کی مٹھائیاں بانٹتی ہیں اور چین کی نیند سوتی ہیں ۔ ‘‘ 
’’ یہ بات آپ نہیں بھی پوچھتے تب بھی میں اس راز کو آپ سے نہیں چھپاتا آج سے آٹھ نو سال قبل کی بات ہے ۔ میں چنڈی گڑھ میں ایم لِب کر رہا تھا ۔ وہیں مجھے دھرم شالہ کی ایک لڑکی پسند آگئی تھی ۔ اسے میں نے اپنے بارے میں سچ سچ بتا دیا تھا ۔ ا س کے بعد بھی وہ میرے ساتھ زندگی گذارنے کے لئے تیّار تھی ۔ لیکن شادی سے پہلے وہ ایک بار اسپیتی کی حسین وادیوں کی سیر کرنا چاہتی تھی ۔ ایک ہفتہ تک وہ میرے ساتھ پانچوں اہم گومپاؤں کے درشن کرتی رہی ۔ تاریخی مقامات دیکھتی رہی ۔ ’تابو‘ کا ہزاروں سال پرانا گومپا ۔ ’کی‘ اور ’ڈنکھر‘کے خوبصورت مذہبی مقامات ۔ ’گھیو‘ کی ممی ۔ حکّم میں گرم پانی کا چشمہ ۔ چندر تال جھیل ۔ میرے منع کرنے پر بھی وہ اس کے ٹھنڈے پانی میں نہانے اُتر گئی ۔ اِس جنون میں کہ وہا ں پریاں نہایا کرتی تھیں ، وہ بھی ایک ماڈرن پری ہے ۔ ‘‘ 
’’ اسپیتی واقعی اسے بہت اچّھا لگ رہا تھا ۔ وہ خوش تھی ۔ میں بھی اپنی قسمت پر نازاں تھا کہ تنزین ڈولکر جیسی خوبصورت اور پڑھی لکھی لڑکی میری زندگی کا حصّہ بننے جا رہی ہے دوسرے دن گومپا میں شادی کی رسمیں نبھائی جانی تھیں ۔ رات بھر مجھے نیند نہیں آئی ۔ دوسری صبح خوشی خوشی جب میں اسے اُٹھانے کے لئے گیا تو یہ دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ اتنی ٹھنڈ میں بھی اس کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔ میں نے اندرجھانکا ۔ وہ بستر پر نہیں تھی ۔ میں نے سوچا کہ فارغ ہونے کے لئے اکیلی ندی کی طرف نکل گئی ہو گی ۔ بہت دیر تک اس کا انتظار کرنے کے بعد بھی اس کاکہیں کوئی پتہ نہیں چلا شام ڈھلے معلوم ہوا کہ وہ پڑوس کے میرے ہی ایک دوست کے ساتھ بھاگ گئی ہے ۔ وہ بھائیوں میں سب سے بڑا
تھا ۔ اس دن مجھے زندگی میں پہلی بار لگا کہ چھوٹا ہونا کتنا بڑا عذاب ہے ۔ اور اس دن یہ بھی لگاکہ چل کر اپنے بڑے بھائی کو گولی مار دوں اور ساری جائداد کا مالک بن جاؤں ۔‘‘
یہ کہتے کہتے برف باری کے اس موسم میں وہ ہانپنے لگا تھا۔ پیشانی پر قطرے جھلملانے لگے تھے۔ جسم ڈھیلا پڑنے لگا تھا ۔ وہ بستر پر جب اطمینان سے لیٹ گیا تب میں نے اپنی زندگی کا سارا رس نچوڑ کر اس کے سامنے رکھ دیا۔ جس کی بوند بوند میں حوصلے کی نئی کہانی پوشیدہ تھی ۔
’’گیاچو جی ! میری ایک بات یاد رکھو ۔ حق نہ مانگا جاتا ہے اور نہ ہی کوئی دیتا ہے۔ حق ہمیشہ چھینا جاتا ہے۔جب تک تم اس لائق نہیں ہو گے تب تک خلاء میں اسی طرح لٹکے رہو گے ۔ ‘‘
شاید خلاء میں زندگی بھر لٹکے رہنا اسے منظور نہیں تھا ۔ اس لئے میر ی باتوں کا اس پر ایسا اثر ہوا کہ وہ اٹھتے بیٹھتے ، سوتے جاگتے ہر وقت سوچ کے مضبوط دھاگے سے تنظیم کے خواب بننے لگا ۔ میرے وہاں سے لوٹتے ہی اس نے پارٹ ٹائم نوکری چھوڑ دی ۔ دن رات گھوم گھوم کر غیر منقسم بنٹوارہ سِسٹم کے خلاف لوگوں کو ایک جُٹ کرنا شروع کیا ۔ 
شروع شروع میں لوبزانگ گیاچو کو اپنی بات رکھنے میں بہت ساری دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ لوگوں کے اندر ایک ڈر تھا کہ کہیں ’بڑے خاندان ‘ والوں کو معلوم ہو گیا تو وہ مرنے مارنے پر اُتر آئیں گے ۔ مذہبی رہنُما بھی اس سِسٹم کی حمایت میں کھل کر سامنے آجائیں گے ۔ سوشل بائیکاٹ کر دیں گے ۔ جرمانہ جو لگے گا سو الگ ..... ایسے سوالوں کا لوبزانگ گیاچو نے ہمیشہ ہی بڑی مہارت کے ساتھ جواب دیا اور لوگوں کو مطمئین کرنے کی کوشش کی کہ ’’ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ صدیوں سے یہ لوگ ہمارا سوشل بائیکاٹ ہی تو کرتے آئے ہیں ۔ اور یہ اس وقت تک ہوتا رہے گا جب تک ہم خاموشی کی بانسری بجاتے رہیں گے ۔ دماغ سے کام لو اور اپنے حق کے لئے آگے آؤ۔ ‘‘
’’لیکن میں نے تو سنا ہے کہ گومپاؤں میں جو گرنتھ رکھے ہوئے ہیں ، اس میں ہی کہیں لکھا ہوا ہے کہ بڑا لڑکا دیوتا سمان ہوتا ہے ۔اس لئے وہی وراثت کا اصل حق دار ہے ۔ ‘‘ رنچن بودھ نے سچّائی جاننے کی کوشش کی ۔ 
’’ تم نے خود پڑھا ہے ۔؟ ‘‘ لوبزانگ گیاچو نے پوچھا ۔ 
’نہیں مجھے بھوٹی بھاشا نہیں آتی ۔ لیکن جب ہمارے آباواجداد ایسا کہتے آئے ہیں تو یہ صحیح ہی ہو گا نا ۔؟‘‘رنچن بودھ نے لفظ ’صحیح‘ پر زور دیتے ہوئے کہا ۔ 
’’ میں نے بھوٹی بھاشا پڑھی ہے اور اسپیتی کے پانچوں اہم گومپاؤں میں رہ کر ان گرنتھوں کا ادھّین بھی کیا ہے ۔ لیکن مجھے کہیں ایسی بات نظر نہیں آئی ..... یہ غلط پرمپرا ہے ۔ اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس کے خلاف اگر آواز اُٹھائیں گے تو ہمارے دیوتا ناراض ہو جائیں گے ۔ ‘‘
’’ لیکن ایسا ہوا ہے ۔ ‘‘ سونم انگدوئی نے کہا ۔ ’’بہت پہلے جب ایک نوجوان دلّی سے پڑھ کر لوٹا تو اس کے ہاتھ میں اکثر مارکس کی کتابیں ہوا کرتی تھیں ۔ اس نے بنٹوارے کی بات اُٹھائی ۔ لیکن دیوتاہمارا ناراض ہو گیا ۔ اور اس رات وہ سویاکا سویا رہ گیا ۔‘‘
’’ دیکھو یہ سب کہانیاں ہیں ۔ من گھڑنت کہانیاں ۔ ہمیں ڈرانے اور بے وقوف بنانے کے لئے ..... کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ بڑے خاندان والوں کے دباؤمیں آکر گھر والوں نے اس کے کھانے میں زہر دے دیا ہو اور وہ بے چارہ صبح جاگنے سے رہ گیا ہو ۔‘‘
’’بات جو بھی ہو ۔ لیکن ہم اپنے دیوتاؤں کو ناراض نہیں کر سکتے ۔ ‘‘ چھیرنگ انگروپ کی آواز میں کپکپاہٹ تھی جیسے کسی حادثے کے ہونے کا اندیشہ ہو ۔ آہستہ آہستہ اس آواز میں کچھ اور بھی آوازیں شامل ہو گئیں ۔
’’ تو ٹھیک ہے دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لئے لاماؤں کو بلا کر ٹانا مانا(پوجا پاٹھ) کرا لیں گے ۔ ‘‘لوبزانگ گیاچو نے لوگوں کی نبض ٹٹولتے ہوئے مرضِ لادوا کے لئے نسخہ تیّار کر لیا ۔ 
پھر گھر گھر ’ اوم مانے پدمے ہنگ‘ جیسے منتروں کا جاپ شروع ہو گیا 
پتّھروں پر اشلوک کھدوا کر سڑکوں کے کنا رے لگوائے گئے ۔ 
استوپ بنا کر گومپاؤں میں رکھا گیا ۔ 
گیتیور کو زیادہ سے زیادہ گھمایا گیا ۔ 
اور یہ سب اس لئے کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ پُنیہ کما سکیں اور کامیابی کے راستے پر جلد سے جلد گامزن ہوسکیں ۔ 
اور پھر ایک دن لوبزانگ گیاچو کی محنت رنگ لائی ۔ اور سوچ کے دھاگوں سے بنی تنظیم حقیقت کی سرزمین پرتعمیر ہو گئی ۔ لوبزانگ گیاچو کو بغیر کسی ردّوکد کے صدر چن لیا گیا ۔ تنظیم کی پہلی باضابطہ میٹنگ میں یہ فیصلہ کیاگیا کہ ’ کال چکر‘ میں جب دلائی لاماجی پروچن کے لئے اسپیتی آئیں گے تب ان کے سامنے اس مسئلے کو رکھیں گے ۔ کوئی نہ کوئی حل وہ ایسا ضرور نکال دیں گے جو سب کے لئے قابلِ قبول ہو گا ۔
’’ تمہیں کیا لگتا ہے کہ گومپا کے ہیڈ لاما ہمیں ان سے ملنے کی اجازت دیں گے ......؟ ‘‘ سیرپ کیسنگ نے سوال کیا ۔ 
’’ اگر بڑے خاندان والوں کو اس کی بھنک لگ گئی تو پھر ’کال چکر‘ جیسے پوتر مہوتسو میں گڑ بڑہو جائے گی اور سارا الزام چھوٹے خاندان کے سر تھوپ دیا جائے گا ۔ پھر کبھی ہم دلائی لاما جی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہیں گے ‘‘ پدما چھوئنگ اندر سے خوف زدہ تھا ۔ 
ان سوالوں کا جواب دینے اور ان کے اندر بیٹھے ہوئے ڈر کو باہر نکالنے کے لئے ایک دن لوبزانگ گیاچو سامنے کی پہاڑیوں پر مجبوراآباد ہوئے ’ چھوٹے خاندان ،والوں کے ساتھ میٹنگ کرنے پہنچا ۔ وہاں سے جب اس نے نیچے ہرے بھرے کھیتوں کو دیکھا توحیران رہ گیا اور سوچنے لگا کہ دن رات پہاڑوں کو کاٹ کر سیڑھی نُما کھیت ہم بناتے ہیں اور کھیت ان کے شاداب نظر آتے ہیں ۔ کیوں نہ چٹّان کاٹ کرجھرنے کا رُخ موڑ دیا جائے تاکہ ہمارے کھیت بھی ہریالی اگلیں ۔ 
لیکن جب اراد ے چٹّانوں سے ٹکرانے کے لئے تیّار ہوں تو دشواریا ں خود بخود آسانیوں میں تبدیل ہو جاتی ہیں جھرنے کا رُخ موڑ دیا گیا ۔ اس پر بہت ہنگامہ ہوا ۔ مار پیٹ بھی ہوئی ۔ معاملہ کورٹ تک جا پہنچا ۔ دونوں طرف کے لوگ تھانے میں بند ہوئے ۔ بڑے خاندان والے شام تک چھوٹ گئے ۔ لیکن چھوٹے خاندان والوں کو گھر کی دہلیز پر قدمرکھنے میں تین دن لگ گئے ۔ لوبزانگ گیاچو کو تو ایک مہینے کے بعد بہت مشکل سے ضمانت ملی ۔
فیصلہ وہی ہوا جو ہونا تھا ۔ دوبارہ پیٹیشن دیا گیا کہ جھرنا ہمار ے گاؤں سے نکلتا ہے اور اس میں پانی بھی ضرورت سے زیادہ ہے ۔ اس لئے انسانیت کے ناطے انہیں بھی پانی دیا جائے تاکہ وہ بھی آلو ، مٹر اورجو اُگا کر اپنی زندگی کی گاڑی کو منزل تک پہنچا سکیں لیکن کورٹ کا فیصلہ اپنی جگہ اٹل رہا کہ ’’ بغیر سرکاری منظوری کے کوئی بھی قدرتی پانی کے بہاؤ کا رُخ نہیں موڑ سکتا ۔ اس لئے اس کا رُخ پہلے کی طرح ہی کر دیا جائے ۔ ‘‘
یہ معاملہ اسپیتی کے ایک گاؤں لالنگ میں ہوا تھا ۔ کِبّر ، حِکِّم ، مانے ،سگ نم، تابو ، ہرُلنگ،ڈیمیول ، کُنگری ، رنگریک ، حل ، کی ، لوسراور دوسرے گاؤں والوں نے اسے صرف دو گاؤں کے درمیان کی لڑائی کے طور پر دیکھا ۔ اس لئے چھوٹے اور بڑے خاندان کے درمیان کی دوری اتنی ہی رہی اور گہری نہیں ہوئی ۔ ورنہ پوری اسپیتی میں کشیدگی پھیل جاتی اورتنازعات کی آگ اسپیتی کو جلا کر راکھ کر دیتی ۔ 
کال چکر شروع ہونے میں صرف ایک ہفتہ رہ گیا تھا ۔ کازا میں لوگوں کی بھیڑ جمع ہونے لگی تھی۔اسپیتی میں دو ہی مواقع ایسے ہوتے ہیں جسے سارے اسپیتی والے ایک ساتھ مل کر مناتے ہیں ۔ ایک ’لدار چا فیئر ‘اور دوسرا ’کال چکر‘ لدارچا کو اسٹیٹ فیئر کا درجہ حاصل ہے ۔ ہر سال منائے جانے والے اس سہ روزہ میلے میں صرف ہماچلی ہی نہیں ملک کے کونے کونے سے آئے کلاکار گیت سنگیت اور ڈانس کا خوبصورت مظاہرہ کرتے ہیں ..... کال چکر پانچ الگ الگ گومپاؤں ، کی ، ڈنکھر ، کنگری ، تابو، اور حِکّم میں ہر دو سال کے بعد منایا جاتا ہے ۔ حِکّم کے اندر ہی کازا گومپا آتا ہے ۔ 

طے شدہ پروگرام کے مطابق یہ بات طے پا ئی کے ’کال چکر‘ کے پہلے ہی دن سارے لوگ خفیہ طریقے سے ندی کے کنارے والے میدان میں جمع ہوں گے میدان کے انٹرنس پر دو چار لوگوں کوبڑے خاندان کی چوکسی کے لئے رکھا گیا تھا ۔ جب اطمینان ہو گیا کہ سب چھوٹے خاندان والے ہیں تب لوبزانگ گیاچونے بات شروع کی ۔
’’کال چکر میں شامل ہونا ہم بدھشٹوں کے لئے بہت ہی سوبھاگیہ کی بات ہے ۔ جو ایک بار سچے من سے شریک ہو گیا ؛ سمجھو اُس کے سارے پاپ دُھل گئے ۔ اِس لئے یاد رکھو کہ جب ہم میں سے کچھ لوگ روداد سونپنے کے لئے دلائی لاما جی کے پاس جائیں گے تو ہر حال میں دو باتیں ہوں گی؛ یا تو دلائی لاماجی ہماری حمایت میں جائداد کی تقسیم کا فرمان جاری کر دیں گے ۔یا صدیوں سے چلی آرہی غیر منقسم جائداد کی پاسداری کرتے ہوئے کوئی دھارمک کتھا سنا دیں گے ...... دونوں صورتوں میں کسی ایک کو تکلیف ضرور ہوگی ۔ اگر معاملہ ہمارے خلاف گیا تو اس بات کا خیال رکھیں گے کہ کسی کے چہرے پر شکن تک نہ آئے ۔ اور اگر ہمارے حق میں ہوا تو بھی خوشی کا اظہار کھلے عام نہیں کریں گے ۔ ورنہ جس کے وراثتی خزانے میں سیندھ لگے گی وہ تو غصّے میں پلٹ وار کرے گا ہی ۔ اس لئے سارے لوگ وہاں ایک ساتھ بیٹھیں گے ۔ہم اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیچھے سے آئیں گے ۔‘‘
کہتے ہیں نا کہ دیوارو ں کے بھی کان ہوتے ہیں ۔ ایک سے دو ۔ دو سے تین۔ سٹیلائٹ کے دور میں یہ خبر منٹوں میں بڑے خاندان کے اہم لوگوں تک پہنچ گئی ..... پھر منصوبہ بند طریقے سے یہ طے ہوا کہ جس طرح سے بھی ہو سکے سیکورٹی گارڈ کو گمراہ کیا جائے کہ گذشتہ رات چینی گورنمنٹ کے اشارے پر ایک چینی دہشت گرد دلائی لاما کو ختم کرنے کے لئے تبّتی راستوں سے اسپیتی میں داخل ہوا ہے ۔ 
یہ معلوم ہوتے ہی سیکورٹی پوری طرح سے ہائی الرٹ ہوگئی ۔جگہ جگہ گاڑیوں کو روک کر تلاشی لی جانے لگی ۔ ہوائی پٹرولنگ بھی شروع ہو گئی ۔
’کال چکر ‘ شروع ہونے سے پہلے ہزاروں لوگ دلائی لاما کے پروچن سننے کے لئے وہاں جمع ہوئے تھے ۔ لوبزانگ گیاچو بھی اپنے دو ساتھیوں کے ساتھ اس طرف بڑھ رہا تھا ۔ کال چکر کے پورے احاطے کو سیکورٹی والوں نے چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا ۔ مین گیٹ پر سیکورٹی کے جوان مشین گن اور رائفلیں لئے مستعدی سے حالات کا جائزہ لے رہے تھے اور ہر آنے جانے والے پر نظر رکھ رہے تھے ۔ وہ شخص بھی جس نے اس چینیدہشت گرد کو تبّت کے پہاڑی راستوں سے اسپیتی میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا تھا وہ بھی اس وقت سیکورٹی کے اعلی افسروں کے ساتھ مین گیٹ پر کھڑا تھا ۔ اس کی نظر جیسے ہی سامنے سے آتے ہوئے لوبزانگ گیاچو پر پڑی اس نے اشارہ کر دیا ۔ سیکورٹی کے جوانوں نے چلّا کر اسے وہیں رکنے کی تاکید کی ۔ اس میں سے ایک جوان اس کی طرف تیزی سے لپکا ۔ لیکن لوبزانگ گیاچو کو اس وقت دلائی لاماسے ملنے کی جلدی تھی ۔ وہ سیکورٹی کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اندر گھسنے کی کوشش کرنے لگا ۔ اس کوشش میں اس نے جوان سے ہاتھا پائی کر لی ۔ 
تین گولیاں سیدھے ا سکے سینے میں اُتر گئیں ۔ دونوں ساتھی بھی وہیں ڈھیر ہو گئے ۔ 
چاروں طرف افراتفری مچ گئی ۔ کسی کو باہر نکلنے کی اجازت نہیں تھی ۔ آسمان میں ہیلی کاپٹروں کا گشت اور تیز ہو گیا تھا ۔گھڑسواروں کا دل بھی وہاں پہنچ گیا ۔ سیکورٹی کا گھیرا اور مضبوط ہو گیا ۔ 
لوبزانگ گیاچو کی لاش کی تلاشی لی گئی ۔ جیب سے بھوٹی میں لکھا دلائی لاما کے نام ایک خط ملا ۔جانچ کے بعد سیکورٹی کے اعلی افسروں نے اسے دلائی لاما کے پاس پہنچایا،یا نہیں ، یہ تو پتہ نہیں ...... لیکن سورج ڈوبنے کے بعد ، پہاڑوں پر جمی صدیوں کی برف کو اتنا ضرور معلوم ہو گیا کہ چینی دہشت گرد کی شناخت کرنے والا شخص کوئی اور نہیں لوبزانگ گیاچو کا بڑا بھائی تھا،جسے اُس کے دوسرے بھائی نے لوبزانگ گیاچو کی موت کی سازش رچنے کے جُرم میں موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا۔ 
نئے ’کال چکر‘ کی اس گرمی سے صدیوں کے’ گلیشیئر ‘ کو تو پگھلنا ہی تھا ۔


DR. AKHTAR AZAD 
JNV, DEPARTMENT OF URDU. 
MINISTORY OF HRD , INDIA GOVT(EDUCATION DEPARTMENT) E.MAIL- عنوان البريد الإلكتروني هذا محمي من روبوتات السبام. يجب عليك تفعيل الجافاسكربت لرؤيته. , MOBILE NO-9572683122 


 اختر آزاد کا افسانہ’’ برف پگھلے گی‘‘ ایک تجزّیہ
 DR.AKHTAR AZAD KA AFSANA " BARF PIGHLE GI " EK TAJZIYA 

ایم۔ مُبین
M.MUBIN
۳۰۳۔کلاسک پلازا، تین بتّی
بھیونڈی۔۴۲۱۳۰۲۔تھانے۔ (مہاراشٹر)


                   ناول اور افسانے میں نمایاں فرق یہ ہے کہ ناول ایک پورے عہد اور ایک تہذیب کی مکمّل عکّاسی کرتا ہے تو افسانہ ایک واقعہ یا ایک چھوٹے سے واقعے پر مبنی ہوتا ہے ۔
لیکن نوجوان افسانہ نگار اختر آزاد کا افسانہ’ برف پگھلے گی‘کا مطالعہ کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ناول اور افسانے کی یہ مروّجہ تعریف کتابی ہے ۔ 
اگر افسانہ نگار چاہے تو کسی ناول کے پلاٹ کو بھی کسی افسانے میں سمو سکتا ہے یا افسانہ میں اتنی وسعت پیدا کر دیتا ہے کہ وہ ناول کے تمام جزیات کو بھی اپنے اندر سمیٹ سکتا ہے ۔ یہ افسانہ نگار کی مہارت ، مشّاقی اور اس کی صلاحیتوں پر منحصر ہے ۔ 
اختر آزاد کا تعلّق اس نسل سے ہے جو ۹۰ ء کے بعد اُبھری ہے ۔ ان کے تین افسانوی مجموعے’بابل کا مینار‘، ایک سمپورن انسان کی گاتھا ‘، اور’ سونامی کو آنے دو ‘منظرِعام پر آ چکے ہیں ۔ان کے افسانے تمام اہم رسائل میں شائع ہو چکے ہیں اور شائع ہوتے رہتے ہیں ......... اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اردو کے ساتھ ساتھ ہندی میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ ان کے افسانے ہندی کے معروف جرائد’ہنس‘، آج کل، وسودھااور سمکالین بھارتیہ ساہِتیہ‘ کی زینت بنتے رہتے ہیں ۔ ایک افسانوی مجموعہ ہندی میں ’’ ہم کہاں جائیں....؟‘ شائع ہو چکا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہندی کا عصری افسانہ بھی ان کے زیرِ مطالعہ رہتا ہے اور ہندی افسانہ میں جو تبدیلیاں آ رہی ہیں ، وہاں افسانہ کس طرح سے لکھا جا رہا ہے اور کن کن موضوعات کو افسانے میں پیش کیا جارہا ہے ، کس نئے اسلوب کو افسانہ کے اسلوب کے طور پر قبول کیا جا رہا ہے؟ اس پر اُن کی گہری نظر ہونے کی وجہ سے وہ اُن تجربات کو اپنے افسانوں میں کرتے رہتے ہیں ۔اس وجہ سے اُن کے افسانے افسانوی بھیڑ میں نمایاں ہوکر اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں کامیاب رہتے ہیں ۔
اختر آزاد کا یہ افسانہ ایک ایسے علاقہ کی منظر کشی کرتا ہے اور ایک ایسے ماحول کا تذکرہ قارئین اس افسانے میں پاتے ہیں جو اردو افسانے کے قارئین کے لئے بالکل نیا ہے ۔ اگر وہ اس بات کا دعویٰ کریں کہ اس پسِ منظر میں اردو زبان میں اب تک کوئی افسانہ نہیں لکھا گیا ہے تو غلط نہیں ہو گا ۔ 
یہ افسانہ ہندوستان کے سطحِ سمندر سے سب سے بلند مقام ہماچل پردیش کے’ لاہول اسپیتی ‘کے پسِ منظر میں لکھا گیا ہے، جو سمندری سطح سے ۱۴۰۰۰سے ۱۶۰۰۰ فٹ بلند ہے ۔ جہاں سالوں بھر برف گرتی ہے اور زندگی بے حد سخت ہے۔ اس سخت جان زندگی گذارنے کے عادی اسی علاقہ کے لوگ ہیں جو بدھ مت کے پیروہیں اور دلائی لاما کو اپنا دھرم گرو مانتے ہیں ۔ 
اُن کی تہذیب، کلچر، عادت و اطوار، طرز معاشرت نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے دیگر خطوں کے لوگوں سے بھی قطعی مختلف اور منفرد ہے ۔
پورے افسانے میں اختر آزاد نے اسی ماحول کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے اور اس تہذیب ، اس کلچر کی باریک بینی سے عکاسی کرنے کی سعی کی ہے۔جس میں وہ کامیاب رہے ہیں ۔ جب کہ اس کوشش میں دو دھاری تلوار پر چلنے کا خطرناک کرتب دکھا رہے تھے ۔ اس طرح سے افسانہ ’رپوتاژ‘ یا پھر’رپورٹ‘ کی شکل اختیار کر کے اپنی اہمیّت کھو سکتا تھا۔لیکن اختر آزاد نے بڑی چابکدستی سے افسانے پر اپنی گرفت قائم رکھی ۔ افسانے کے تمام جزیات کی اہمیّت و افادیت کو سمجھتے ہوئے ان کا افسانے میں اچھّی طرح استعمال کیاہے اور جہاں پر انہیں افسانے میں ’رپوتاژ‘ اور’ رپورٹ ‘کے رنگ کی ضرورت محسوس ہوئی ، اسے افسانے میں اسی رنگ کا استعمال کر کے تصویر کو دلکش بنانے کی کوشش کی ہے ۔اور دونوں کے اسلوب کو اتنے سلیقے سے برتا ہے کہ کسی کو بھی ایک دوسرے پر حاوی نہیں ہونے دیا ہے کہ کہیں پر کسی چیز کی کمی کا احساس قارئین کو محسوس نہ ہو ۔ 
جس طرح افسانے کا سب سے اہم جُز اس کا پسِ منظر ہے۔ اسی طرح افسانے کا ایک سب سے اہم جُز اس کی کردار نگاری بھی ہے۔ اس افسانے میں اختر آزاد نے کردار نگاری کا فنکارانہ استعمال کیا ہے۔ افسانے کو پڑھتے ہوئے قارئین کو محسوس ہوتا ہے جیسے یہ افسانہ، افسانے کے مرکزی کردار’ لوبزانگ گیاچو‘ کا افسانہ ہے ۔ 
افسانہ نگار نے اس مرکزی کردار کو افسانے میں پوری طرح نہ صرف اُبھارا ہے بلکہ اس افسانے کے کردار کو اتنی خوبصورتی سے پیش کیاہے کہ قارئین کو افسانے کا مرکزی کردار ’لوبزانگ گیاچو ‘ ایک زندہ جاوید کردار محسوس ہوتا ہے۔ اور کردار انہیں اپنے اطراف میں چلتا پھرتا ، حرکت کرتا ، مسکراتا ، آہیں بھرتا ، خوش وخرم ، جوش میں ، سنجیدہ ، رنجیدہ گھومتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔ 
یہ اختر آزاد کے کرار نگاری کا سب سے بڑا کمال اور کامیابی ہے ۔ افسانہ ختم کرنے کے بعد قارئین کے ذہن میں نہ صرف افسانے کے واقعات چکراتے رہتے ہیں بلکہ اس کے ذہن پر ’لوبزانگ گیاچو ‘ کا کردار نقش ہوکر رہ جاتا ہے ۔ اور وہ بار بار کبھی افسانے میں بیان کردار و واقعات اور پسِ منظر کے بارے میں سوچتا ہے تو کبھی گیاچو کے کردار اس کی زندگی سے وابستہ واقعات اس کے احساسات اور جذبات کے بارے میں ...... گیاچو کا تعلّق بھی اسی علاقہ ’لاہول اسپیتی‘ سے ہے ۔ وہ اس قوم کا ایک فرد ہے جو اس علاقہ میں آباد ہے اور اس علاقہ کی تہذیب ، رہن سہن گیاچو کی روح میں شامل ہے ۔ لیکن گیاچو کی سوچ، اس کے خیالات ، اس کے احساسات ان لوگوں سے قدرِ مختلف ہیں، جس سماج میں وہ رہتا ہے ۔کیوں کہ اس نے تعلیم چنڈی گڑھ اور دیگر دوسرے شہروں میں حاصل کی ہے ۔ وہ جدید تعلیم سے نہ صرف فیض یاب ہوا ہے بلکہ اس نے شہروں اور دیگر خطّوں ، علاقوں کی تہذیب ، کلچر، رہن سہن، افکار، احساسات و خیالات کو بھی کافی قریب سے دیکھا ہے ۔
اس لئے اس کی سوچ اس سوچ سے قدر مختلف ہے جس سماج میں وہ رہتا ہے ۔ وہ اپنے سماج کی صدیوں پرانی ، دقیانوسی سوچ سے نہیں جُڑا ہوا ہے ۔جہاں پر پرانی پرمپراؤں اور گومپاؤں کے مطابق زندگی گذارنی طرز معاشرت ہے ۔ 
اس سماج کا حصّہ ہونے کی وجہ سے گیاچو بھی اس طرز معاشرت کا پابند ہے لیکن اس کے پاس ایک تعلیم یافتہ ، وسیع ذہن ہونے کی وجہ سے معاشرے کے ہر اصول ، حکم کو قبول کر لینا اس کے لئے اتنا آسان نہیں ہے جتنا اس کے معاشرے کے دیگر افراد کے لئے ہے۔ 
یہ اصول حکم کو وہ اپنے ضمیر کی کسوٹی پر پرکھتا ہے اور جہاں اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ غلط ہے اُس کا دل اس کے خلاف بغاوت کرنے کے لئے تیّار ہو جاتا ہے۔ اس کے لئے وہ صدیوں کی روایتوں کی بھی پرواہ نہیں کرتا اورروایتوں کی ان پرانی زنجیروں کو بھی توڑنے کے لئے تیّار رہتا ہے ۔ 
اس وجہ سے اس کی زندگی ایک کشمکش کا شکار ہو جاتی ہے ۔ اس کی سوچ اور صدیوں پرانے اصولوں کا ٹکراؤ ، اس کے لئے بار بار امتحان کے مرحلے پیدا کرتے رہتے ہیں ۔ 
گیاچو افسانہ کے راوی کے اسکول میں ملازم ہے (راوی بذاتِ خود افسانہ نگار بھی ہو سکتا ہے ۔ اختر آزاد نے چار سال لاہول اسپیتی میں کاٹاہے، جہاں وہ سنٹرل اسکول ’نواودیہ ودیالیہ‘ میں انچارج پرنسپل کے فرائض نبھا چکے ہیں )۔ اس لئے اس کی کوئی بھی بات راوی سے چھُپی نہیں ہے اس کے اور راوی کے خیالات ملتے ہیں۔اس کے خیالات اس علاقہ کے کسی فرد سے نہیں مل سکتے ۔ اس لئے وہ راوی کے سامنے ہی اپنے دل کی بات پیش کرتا ہے اور اپنی زندگی کے مدّوجزر اور اپنی معاشرت کے مسائل اور پابندیوں کے بارے میں کھلے دل سے بیان کرتا رہتا ہے۔ 
گیاچو کی شادی کی عمر ہو چکی ہے۔ اس کی عمر کے لوگوں کے بچّے ہائی اسکول میں پڑھ رہے ہیں ۔لیکن گیاچو کی شادی اس لئے نہیں ہو سکی ہے کیوں کہ وہ گھر میں چھوٹا ہے۔ 
اس علاقہ کا دستور ہے کہ کھیت ، زمین، جائداد تقسیم نہ ہو ۔ اس لئے صدیوں سے صرف اور صرف گھر کا بڑا لڑکا ہی ان کا وارث ہو تا ہے ۔ چھوٹوں کے حصّے میں کچھ نہیں آتا ہے ۔ خاندان کے بڑے لڑکے کے پاس ، دولت، زمین جائداد سب کچھ ہوتا ہے اس لئے اس کی شادی ہو جاتی ہے۔ اور چھوٹوں کے پاس کچھ نہ ہونے کی وجہ سے ان کی شادی جلدی نہیں ہو پاتی ہے۔ لڑکیاں اور لڑکے کے ماں باپ بھی بڑے لڑکوں کو پسند کرتے ہیں ۔ انہیں کی ساتھ اپنی لڑکیوں کی شادیاں کرتے ہیں اور چھوٹوں کی طرف کوئی توجّہ نہیں دیتا۔اور ان کی شادیاں نہیں ہو پاتی ہیں یا پھر بڑی مشکل سے اِدھر اُدھر ہو پاتی ہیں۔
گیاچو کی بھی شادی اسی وجہ سے نہیں ہو سکی ہے۔ ایک لڑکی نے اسے پسند بھی کیا تھا ۔ اس کے ساتھ شادی کرنے کے لئے تیّار بھی ہوئی تھی (وہ لاہول اسپیتی کی نہیں تھی ۔ دھرم شالہ کی رہنے والی تھی ۔اسے گیاچو سے محبّت ہو گئی تھی اور شادی کے لئے ہی وہ اسپیتی آئی تھی) لیکن شادی کی رات وہ گیاچو کے پڑوسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی اور اس سے شادی کر لی۔ کیوں کہ وہ خاندان کا بڑا لڑکا تھا ۔ زمین، جائداد ، پیسوں کا مالک اور وارث تھا۔
کہتے ہیں کہ یہ اصول مقدّس کتب میں درج ہیں۔جو گومپاؤں(بُدھ مت ، لاماؤں کی عبادت گاہیں )میں رکھی ہوئی ہیں ۔اس لئے ان کو ماننا ہر کسی کا فرض ہے ۔ 
لیکن گیاچو یہ مانتا ہے کہ اس نے جتنی بھی مقدّس کتابیں پڑھی ہیں اُن میں کہیں بھی ایسا کچھ نہیں لکھا ہے ۔ یہ لوگوں نے گھر، زمین، کھیت، جائداد تقسیم نہ ہو اس کے لئے اپنے دل سے اصول بنایا ہے اور اسے نبھا رہے ہیں ۔ لیکن اس وجہ سے لاکھوں لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔ جو گھر کے چھوٹے ہیں ۔
وہ اس کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے ۔
آج تک دھرم کے ان اصولوں کے خلاف آواز اُٹھائی نہیں گئی تھی ، کیوں کہ انہیں دھرم کے اصول سمجھا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے کسی نے آواز اُٹھائی تھی ، لیکن اس بغاوت کے پاداش میں اسے موت کی میٹھی نیند سلادیا گیا تھا۔ 
گیاچو کوبھی ڈر ہے کہ اسے بھی یہی سزا ملے گی ۔ لیکن وہ اس سزا سے نہیں ڈرتا ہے۔ وہ اس کے خلاف آواز اُٹھاتا ہے ۔اسے اپنی زندگی کی پرواہ نہیں ہے ۔ وہ چاہتا ہے کہ چاہے اس کی جان چلی جائے۔ لیکن یہ اصول بدلے اور ان لاکھوں لوگوں کو انصاف ملے جو اب تک انصاف سے محروم ہیں اور معاشرت کی ایک ظالم روایت اور اصول کا شکار ہیں ۔
وہ ایک تعلیم یافتہ نوجوان ہے۔ اس لئے قانون کے مطابق قانون کا سہارا لے کر قانون کا احترام کرتے ہوئے وہ یہ آواز اُٹھاتاہے۔ اس کی وجہ سے سماج کے ٹھیکہ دار ناراض بھی ہوتے ہیں ۔ نالے کے پانی کے رُخ کو موڑنے کے جُرم میں وہ اپنے کئی ساتھیوں کے ساتھ جیل کی ہوا بھی کھاتا ہے ۔لیکن وہ جھکتا نہیں ہے ۔حالاں کہ وہ سماج کو جھکانے کی کوشش نہیں کرتا ہے ۔ بلکہ وہ تو صر ف اتنا چاہتا ہے کہ سب کو برابری کا درجہ حاصل ہو ۔اور اس کے لئے وہ اس بار دھرم سمّیلن’کال چکر‘ میں دلائی لاما کے سامنے یہ مسئلہ پُر امن طریقے سے رکھاجائے گا یہ سوچ کر کہ دلائی لاما جی اس سلسلے میں کوئی اہم حکم صادر کریں گے جس سے اس کو اور اس کے جیسے لاکھوں لوگوں کو انصاف مل سکے گا ۔لیکن یہ سب کچھ وہ بڑے گھر والوں سے چھُپ کر کرنا چاہتا ہے ۔ لیکن بات بڑے گھر تک پہنچ ہی جاتی ہے۔
پھر وہی ہوا جو اکثرایسے میں عزّت، وقار، اور دولت کی جنگ میں ہوتا آیا ہے ۔
بڑا بھائی گیاچو کو قتل کروا دیتا ہے۔ 
اس پر چینی دہشت گرد ہونے کا الزام لگایا جاتا ہے اور اس کی جان لے لی جاتی ہے ۔ 
اس کی تحریک ختم ہو جاتی ہے۔ 
صدیوں کا جبر، ظلم اور روایت کا نظام قائم رہتا ہے ۔ اس کا بڑا بھائی اس روایت کے نہ ٹوٹنے سے اپنی جائداد سے محروم نہیں ہو پاتا ہے ۔ اس طرح اختر آزاد نے اس افسانے میں ایک مکمّل پلاٹ بھی پیش کیا ہے ۔ 
اس افسانے کا پسِ منظر بھی اپنے آپ میں بہت کچھ کہتا ہے۔ اچھّی منظر نگاری ہے ۔ اچھّی کردار نگاری ہے ۔ انہوں نے اس افسانے میں گیاچو جیسا کردار پیش کیا ہے ، جو اردو افسانے کے لئے نیا ہے ۔
اس افسانے میں افسانے کے دیگر تمام جزیات ہیں ۔آغاز ، درمیان اور اختتام۔اور آخر میں انجام وہی ہے جو افسانہ کا خاصہ ہے ۔ یعنی افسانہ کے انجام پر قارئین کے ذہن کو ایک جھٹکا لگتا ہے گیاچو کی موت سے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ کافی دیر قارئین اس افسانے ، اس افسانے کے واقعات اور کردار کے بارے میں سوچنے کے لئے مجبور ہو جاتا ہے ۔ یہ افسانہ اور افسانہ نگار کی بہُت بڑی کامیابی ہے۔ 
اس بات سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ یہ ایک منفرد موضوع اور کردار پر لکھا گیا افسانہ ہے۔اس لئے عام افسانوں سے قدرِ مختلف ہے ۔ اس کے اسلوب اور پیش کش میں وہ کشش ہے کہ قارئین جب اِسے پڑھنا شروع کرتا ہے تو آخری سطر تک پڑھے بنا اسے نہیں چھوڑتا ۔ اس طرح افسانہ نگار نے قارئین پر اپنی گرفت آخر تک قائم رکھی ہے ۔ یہ افسانہ نگار کی بہت بڑی کامیابی ہے ۔ 
اگر اس افسانے کو اردو زبان کا بہُت بڑا افسانہ نہ بھی قرار دیا جائے تو اردو کے اچھّے افسانوں میں اسے شامل کیا جا سکتا ہے اور اختر آزاد سے مستقبل میں اس طرح کے اچھّے افسانوں کی امّید لگائی جاسکتی ہے ۔ 
***
ADD:-
M.MUBIN
303-CLASSIC PLAZA, TEEN BATTI,
BHIWANDI-421302
DIST:- THANE (MAHARASHTRA)
MOBILE:-09322338918 

Read 3465 times

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.

Latest Article

Contact Us

RAJ MAHAL, H. No. 11
CROSS ROAD No. 6/B
AZAD NAGAR, MANGO
JAMSHEDPUR- 832110
JHARKHAND, EAST SINGHBHUM, INDIA
E-mail : mahtabalampervez@gmail.com

Aalamiparwaz.com

Aalamiparwaz.com is the first urdu web magazine launched from Jamshedpur, Jharkhand. Users can submit their articles, mazameen, afsane by sending the Inpage file to this email id mahtabalampervez@gmail.com, aslamjamshedpuri@gmail.com