الثلاثاء, 25 حزيران/يونيو 2013 21:35

تابُوت کا اُونٹ ......... اور مہتاب عالم پرویزؔ کے افسانے : ابرار مجیب TABOOT KA ONTH AUR MAHTAB ALAM PERVEZ KE AFSANE Featured

Rate this item
(0 votes)

 تابُوت کا اُونٹ ......... اور مہتاب عالم پرویزؔ کے افسانے


                                                                                     ابرار مجیب

 



             اردو افسانے پر بھی عجب وقت آن پڑا ہے۔ اذہان عجب گومگو کی کیفیت میں مبتلاہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس فن کے تعلق سے گُلاب اور ببول کی صف بندی میں کوئی عار نہیں۔ اس کی وجہ ہے ترقی پسندی ، جدیدیت اور اب مابعد جدیدیت جیسی اصطلاحات نے لوگوں کے ذہن کو پراگندہ کر دیا ۔ معدودے چند باعلم لوگوں کے علاوہ بیشتر ہی لوگوں نے شاید ہی غور کیا ہو کہ ان اصطلاحات کا اِطلاق افسانے کے فن پر کیسے اور کیوں کر ہوا......... ترقی پسندیدیت کو پرے رکھتے ہوئے، جدیدیت اور ما بعد جدیدیت پر اک ذرا ٹھہر کر غور کریں۔ عام خیال یہ ہے کہ جدیدیت نے افسانوں میں علامت ، استعارہ ، تمثیل ، یہاں تک کہ داستانوں کی کج ادائی کا کافرانہ رجحان پیدا کیا اور بیانیہ کی موت واقع ہوگئی۔ اب مابعد جدیدیت کے طفیل افسانہ بیانیہ کی دلبری سے ازسر نو بہرہ مند ہورہا ہے۔ کیا واقعی ایسا کچھ ہے۔؟ ایک تو اس غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے کہ بیانیہ ،فن افسانہ نگاری کے قلم رو سے کبھی بھی بے دخل نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ہوا ہے۔ کچے اذہان بیانیہ اور کہانی پن کو یک چشمی نظر سے دیکھتے ہیں حالانکہ دونوں میں بعدالقطبین ہے۔ کہانی پن چیزے دیگر است ، کسی نثری ٹکڑے میں کہانی پن کی موجودگی دلیل نہیں ہے، اس کے افسانہ ہونے کی، اسی طرح بیان کو منہا کردیں تو افسانے کا وجود نا ممکن ہے، خواہ وہ علامتی افسانہ ہو کہ استعاراتی، تجریدی ہو کہ تمثیلی یا داستانی........
             مندرجہ بالا تمہید کی ضرورت یوں پیش آئی کہ مہتاب عالم پرویزؔ کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے بعض حضرات نے لفظ بیانیہ پر اپنی سادہ لوحی کے سبب بڑا زور صرف کیا ہے۔ میرے نزدیک مہتاب عالم پرویزؔ کے تمام تر افسانے بیانیہ سے گہرا انسلاک رکھتے ہیں۔ اور کہانی پن بھی اپنی پوری شدّت کے ساتھ ان افسانوں میں نمایاں ہے، ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے افسانوں میں کہانی سیدھی لکیر میں نہیں چلتی بلکہ اپنے اندر ایک ابہام ، ایک اسرار لئے ہوئے آگے بڑھتی ہے۔ ادب میں فکشن کے عظیم مصنف سیدھی سادی کہانیاں کبھی نہیں لکھتے۔ میں وکٹورین عہد کے ناول اور افسانوں کی مثال کو طاق پر رکھ کر گفتگو کر رہا ہوں۔ آپ گیبرل گارسیا مارکز کے فکشن پر ایک نظر ڈالیں۔ کیا سو سال کی تنہائی میں حبسیوں کے ٹوٹکوں کا بیان یا اس کی مختلف کہانیوں میں جادوئی فضا بندی آپ کو ایک مبہم دُنیا کی سیر نہیں کراتی۔ فکشن میں موجود معنی قاری سے ذہانت کا مطالبہ کرتا ہے۔ مہتاب عالم پرویز ؔ کے افسانے بھی ذہنی ورزش کے بغیر حواس کی گرفت میں نہیں آتے۔
             افسانہ ’’ کارواں ‘‘ اس درد کی ترجمانی ہے جسے ہزاروں لاکھوں لوگ گلف میں جہدِمسلسل سے گُذرتے ہوئے محسوس کرتے ہیں لیکن اسے کوئی زُبان نہیں دے سکتے۔ صحرا کے سُراب کے خوفناک فریب کو انتہائی چابک دستی سے قید کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس موضوع پر بہت کم لکھا گیا ہے۔ ’’ کارواں ‘‘جیسا پُراثر افسانہ فی الحال میری نظر سے نہیں گُذرا، بعض لوگوں کی نظر میں یہ سپاٹ بیانیہ ہے لیکن انسان کی کایاکلپ ’’ تابُوت ‘‘ میں موجود ’’ اُونٹ ‘‘ کی متمنی ’’ بیٹی ‘‘ افسانے کو علامتی رنگ دے دیتی ہے۔ علامت اور کسے کہتے ہیں۔؟ میرے خیال میں اس افسانے کا عنوان ’’ اُونٹ ‘‘ ہونا چاہئے۔
            افسانہ ’’ کُتیا ‘‘ کے پہلے پیرا گراف نے مجھے چیخوف کا افسانہ ’’ ڈارلنگ ‘‘ یاد دلا دیا۔ بہترین جزئیات نگاری اور مدھم بیان نے افسانے کے حُسن میں اضافہ کردیاہے۔
            اردو میں ANIMAL SEX کے موضوع پر شاید یہ اپنی نوعیت کا پہلا افسانہ ہے جسے مہتاب عالم پرویزؔ فنی چابک دستی سے یوں لکھ گئے کہ کہہ سکتے ہیں کاجل کی کوٹھری میں گھسے بھی اور ان کا منھ بھی کالا نہ ہوا۔ افسانے میں فنی سطح پر ایک آنچ کی کسر رہ گئی یہ کسر پوری ہو جاتی اگر وہ کردار کی نفسیاتی گرہ کو کھولتے انہوں نے مکالموں اور افعال پر زیادہ توجہ صرف کی۔ میں چاہوں گا کہ وہ یہ افسانہ ازسر نولکھیں۔
            ’’ کارواں ‘‘ میں شامل دوسرے قابلِ ذکر افسانوں میں ’’ کبوترباز ‘‘ ’’ سانپ اور پرندے ‘‘ اور ’’ بازگشت ‘‘ خاص اہمیت کے حامل ہیں خاص طور سے ’’ سانپ اور پرندے ‘‘ اپنی نوعیت کا ایک ہی احتجاجی افسانہ ہے۔ میں مہتاب عالم پرویزؔ کو اُن کے اس مجموعہ کی اشاعت پر مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

ابرار مجیب

Read 2526 times

Leave a comment

Make sure you enter all the required information, indicated by an asterisk (*). HTML code is not allowed.

Latest Article

Contact Us

RAJ MAHAL, H. No. 11
CROSS ROAD No. 6/B
AZAD NAGAR, MANGO
JAMSHEDPUR- 832110
JHARKHAND, EAST SINGHBHUM, INDIA
E-mail : mahtabalampervez@gmail.com

Aalamiparwaz.com

Aalamiparwaz.com is the first urdu web magazine launched from Jamshedpur, Jharkhand. Users can submit their articles, mazameen, afsane by sending the Inpage file to this email id mahtabalampervez@gmail.com, aslamjamshedpuri@gmail.com