شعر و سخن

الجمعة, 08 أيار 2015 23:37

غزل : نورؔ جمشید پوری

غزل نورؔ جمشید پوری ہےسیا ست میں کثافت کی حکومت کیا کروں رائیگاں اب جارہی ہے ہر شہادت کیا کروں دیکھ حالت ملک کی اب خون کے آنسو بہے مل گئی ہے بے ضمیروں کی قیادت کیاکروں راستہ تھا کون سا ؟ کس راہ پر یہ چل پڑی؟ بڑھ رہی اب قوم میں اپنی ضلا لت کیا کروں حادثے کچھ دیکھ عبرت سے بھرے، آنکھیں کھلیں ہاتھ کا یہ میل لگتی ہے بضاعت کیا کروں لغزشوں سے دور ہوتے، جو…
الجمعة, 06 شباط/فبراير 2015 19:19

غزل : نورؔ جمشید پوری

غزل نورؔ جمشید پوری ادا پہ ایسے بندے کی خدا بھی مسکراتا ہے انا کو چھوڑ پیچھے جو کہ روٹھوں کو مناتاہے چمک ہوتی ہے جس کی مختلف کچھ اور تاروں سے اسے پھر آسماں بھی جھک کے بانہوں میں اٹھاتا ہے لکیروں میں مقدر ڈھونڈنے کا وہ نہیں قائل جو اپنے بازوؤں کے دم پہ قسمت کو بناتا ہے تو پھرہر موڑ پر ملتی ہیں بس ہموار راہیں ہی اگر کوئی کسی کی راہوں کے پتھر ہٹاتا ہے برستی…
الخميس, 18 كانون1/ديسمبر 2014 23:27

سانحہ پشاور : نورؔ جمشید پوری |

سانحہ پشاور : نورؔ جمشید پوری ان آنکھو ں سے یہ اشکوں کا سمندر کیوں بہا ڈالا جو منظر دید کے قابل نہ تھا تو نے دکھا ڈالا ارے ظالم بتا کیا دشمنی تھی تیری بچوں سے ابھی تو ٹھیک سے کھولی نہ تھیں آنکھیں سلا ڈالا تو ترسے گا شفاعت کو نبی کی روزِ محشر میں شرم سے انکی امت کا جو تونے سر جھکا ڈالا تو انساں ہو نہیں سکتا، یہ حیواں کر نہیں سکتا عمل نے تیرے…
غزل دلشاد نظمی ہوا کو باندھ کے طوفان کر دیا گیا ہے چلیں گی آندھیاں اعلان کر دیا گیا ہے پتہ نہیں میں کبھی فائدہ بھی لکھ پاؤں کچھ اس قدر مرا نقصان کر دیا گیا ہے یہاں سے امن کے حامی گزرنے والے ہیں یہ رستہ اس لئے سنسان کر دیا گیا ہے بھگت رہا ہوں میں وعدوں کی تلخ سچائی تجھے بھی ماءلِ امکان کر دیا گیا ہے قصاص مانگ رہا تھا امیرِشہر سے جو دِیَت میں اس…
نظم احمد نثارؔ بے پردہ سرو تم پہ ردا کیوں نہیں آتی ٭٭٭٭ اس دور جہالت کو قضا کیوں نہیں آتیہر سمت محبت کی فضا کیوں نہیں آتی ٹھوکر سے سنبھلتے ہیں سبھی، تو نہیں سنبھلاآخر تجھے جینے کی ادا کیوں نہیں آتی کیوں بوجھ سمجھتے ہیں سروں پر یہ دپٹےبے پردہ سرو تم پہ ردا کیوں نہیں آتی کیا ہوگیا تقویٰ کی نظر تیری نظر کوآوارہ نگاہوں کو حیا کیوں نہیں آتی تا عمر جہنم کے خزینے کو کما…
الخميس, 10 تموز/يوليو 2014 22:03

غزل : دلشاد نظمی

غزل دلشاد نظمی یہ الگ ہے کہ مرے ہاتھ نہ آئی دنیا پر فقیری نے بہت سیر کرائی دنیا جوڑ، تقسیم ، ضرب سے نہیں رکها مطلب کهو دیا اس سے زیادہ جو کمائی دنیا مجھ کو دیوانہ سمجهتے رہے دنیا والے ساری دنیا سے الگ میں نے بنائی دنیا اپنی دنیا سے نبهانا ہی بہت مشکل ہے اس پہ اپنانے کو آئی ہے پرائی دنیا. خواب میں میرے کوئی اور جہاں روشن تها صبح دم میں نے وہی سامنے…
الثلاثاء, 31 كانون1/ديسمبر 2013 22:17

گیت : نیاز اختر

نیاز اختر (گیت)ایس۔ڈی۔او ۔آفس جمشیدپور سجن کیوں بھول گئے ہو گاؤں کھیتوں کی وہ بھیگی مٹی ہردم سوندھی سوندھی مٹی ماں کی گودی جیسی مٹی وہی دھوپ اور چھاؤں سجن کیوں بھول گئے ہو گاؤں اب بھی چلتا رو ز ر ہٹ ہے اب بھی ویسا ہی پنگھٹ ہے بہتی ندیاں گیلا تٹ ہے جہاں پڑے تھے پاؤں سجن کیوں بھول گئے ہو گاؤںلگتے ہیں ویسے ہی میلے ناٹک کھیل تماشے جھولے سکھیوں سے سن کر من ڈولے ساتھ میں…
الثلاثاء, 31 كانون1/ديسمبر 2013 21:52

غزل : رجنیؔ ملہوترا

 غزل رجنیؔ ملہوترا DVC Bokaro thermal Distt - Bokaro- Jharkhan آئے گا انقلاب رہنے دےسچ کے منہ پر نقاب رہنے دے اپنا دامن بچا کے تو رکھناہے زمانہ خراب رہنے دے یہ ضروری نہیں کہ جھوٹے ہوںاپنے پلکوں پہ خواب رہنے دے اپنی سانسوں میں لمس کی خوشبومثلِ بوئے گلاب رہنے دے شرم زیور ہے پھر بھی عورت کاکچھ تو باقی حجاب رہنے دے میں نے آنکھوں سے پڑھ لیا سب کچھزندگی کی کتاب رہنے دے ناز کس شئے پہ…
الثلاثاء, 31 كانون1/ديسمبر 2013 20:20

غزل محمدقسیم اختر

 غزل محمدقسیم اختر، مدیر( اعزازی) At. Bahadarpur P.o. Amour, Distt. Purnea Pin 854315 (Bihar) Mob. 9470120116 بڑھنے لگی ہے گرمئ بازار کیا کریںحیرت زدہ ہیں آج خریدار کیا کریںفصل بہار آئی سماں کیف کا لئےبجنے لگے ہیں جسم کے ہر تار کیا کریںکالی گھٹا نے جب ڈھکا ماہِ تمام کوباد نسیم تھم گئی دیدار کیا کریںعشقِ بتاں ہو عشقِ خدا ہو کہ آپ ہوں خونِ جگر کے سب ہیں طلبگار کیا کریںچشمِ خموش کانپتے لب دیکھے آپ نےاب تشنگی کے…
الأحد, 01 كانون1/ديسمبر 2013 16:20

غزل : فیروزؔ اقبال

 غزل فیروزؔ اقبال متاعِ حیات محبت کی راہ میںسب کچھ لٹایا ہے اُنکی چاہ میںپھول سے چہرے ہزار ہیں راہ میںکھڑے ہیں مگر ہم ایک کی چاہ میں بادِ صبا مل کے خاروں کے ساتھچاک کرے ہے دامن اُن کی راہ میںبیاں بھی نہ ہو درد سہا بھی نہ جائےعجیب لذّت ہے عشق کی آہ میںبھول کر تلخیاں چلے آؤ فیروزؔ شباب گم نہ جائے تمہاری چاہ میں *** contact No. 09423254346فیروزؔ اقبال ناگپور ہندوستان
السبت, 16 تشرين2/نوفمبر 2013 19:38

غزل : ڈاکٹر افسر کاظمی

 غزل ڈاکٹر افسر کاظمی مجھے پھر قتل کرنے کا تو کوئی فیصلہ لے لےخزاں آنے کو ہے پھر خوں کا مرے ذائقہ لے لےمیریے چہرے پہ تو جتنا بھی چاہے طنز کر لینامگر ہے شرط پہلے ہاتھ میں اک آئینہ لے لے تری تاریک راہوں میں بھی کرنیں جگمگا ئیں گی اگر اپنے بزرگوں کی دعائے گمشدہ لے لےکسی دن دیکھنا منزل ترے قدموں تلے ہو گی تو اپنے رہنما کے نقش پا کا سلسلہ لے لےاگر تاریخ کا بھولا…
السبت, 16 تشرين2/نوفمبر 2013 11:17

غزل : محمد شفیع الرحمن شفیعؔ

 غزل محمد شفیع الرحمن شفیعؔ نزاکتوں کا خیال رکھیےیہ آبگینہ سنبھال رکھیےجبیں پہ جاہ و جلال رکھیےمگر بخاطر جمال رکھیےمتاعِ مال و منال رکھیےخود اپنی جاں کا وبال رکھیےجواب جس کا کہیں نہیں ہوکبھی نہ ایسا سوال رکھیےجہانِ انجم تو اجنبی ہےزمیں سے رشتہ بحال رکھیےابو لہب اسم با مسمیٰسوادِ حبشی بلال رکھیےسفر ظفر کا بنے وسیلہمگر خیالِ مآل رکھیےہے دوستی کا یہی تقاضاسلوک میں اعتدال رکھیےہے شرق اپنا ، ہے غرب اپناجنوب ہو یا شمال ، رکھیےشفیعؔ معقول بات…
نذرِ سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام احمد علی برقیؔ اعظمی حسین ابن علی کی زندگی اک درسِ عبرت ہےحسین ابن علی کی آج بھی سب کو ضرورت ہےجہادِ زندگانی میں یہ روحِ آدمیت ہےاسی سے خونِ دل میں اہلِ ایماں کے حرارت ہےبچالی موجِ خوں میں ڈوب کر اسلام کی کشتیشہامت اِس کو کہتے ہیں،یہی شانِ شجاعت ہےعلی مرتضی کی راہ پر تھے گامزن وہ بھیکرو تم پیروی اُن کی اگر ذوقِ عبادت ہےہے عملی زندگی رُشد و…
 غزل فرحت حسین خوشدؔ ل - ہزاری باغ،جھارکھنڈ،انڈیا موبائل 9798562194 ہماری غزلوں کو سُن کے تُم بھی ،غزل سُناؤ تو ہم بھی جانیں۔۔۔۔جو دِل کے اندر مچل رہی ہے وہ لب پہ لاؤ تو ہم بھی جانیںغزل کی شیریں زباں کا جادُو،جو تُم جگاؤ تو ہم بھی جانیں۔۔۔۔طلسمِ حسنِ غزل کا پہلوئے خاص لاؤ تو ہم بھی جانیںغزل کا ہر شعر اپنے اندر،چُھپائے رکھتا ہے خاص گوہر۔۔۔۔دبی زباں سے جو حالِ دِل تُم،ہمیں سُناؤ تو ہم بھی جانیںجنابِ ناوکؔ کا…
الجمعة, 18 تشرين1/أكتوير 2013 11:06

غزلیں : اسلم بدر

شکریہ مہتاب " عالمی پرواز " کے تمام شہپروں کو میری طرف سے بھی عید الالضحیٰ کی مبارکباد......... آپ کے سائیٹ کے لئے دس بالکل تازہ غزلیں بھیج رہا ہوں ۔ اسلم بد ر غزلیں اسلم بدر (مشرق وسطیٰ کے نام دو غزلیں) شام کے سائے گھنیرے، وقت ہے ٹھہرا ہوا سا فاختہ سہمی ہوئی سی، اژدہا بڑھتا ہوا سا سوئے ہیں محراب و منبر ریشمی چادر لپیٹے اک پرانا بوریہ مینار سے لپٹا ہوا سا برف ہونٹوں سے پھسلتی…
الإثنين, 18 حزيران/يونيو 2018 20:13

ایک نظم: اپنے بیٹے کے نام! ڈاکٹر زین رامشؔ

ایک نظم: اپنے بیٹے کے نام! ڈاکٹر زین رامشؔ مرے بیٹے! تمہارا چہرہ پر نور میرے دل میں بستا ہے تمہاری مسکراہٹ ذہن کی تاریکیوں میں نور بنتی ہے مری راتیں تمہاری خواب کی تعبیر چنتی ہیں محبت کی لطافت کی صباحت کی عجب تصویر بنتی ہے میں اس تصویر کو آنکھوں میں پھر محفوظ کرتا ہوں تصور کی نگاہوں سے اسی تصویر میں پھر رنگ بھرتا ہوں حسیں رنگوں کی آمیزش نئے منظر سجاتی ہے وہی منظر دل و…
الإثنين, 30 أيلول/سبتمبر 2013 19:58

غزل : ظفر اقبال رحمانی

 غزل ظفر اقبال رحمانی ہما ری عمر سے صد یو ں بڑ ی ہے جو اک مد ت سے آو یز اں گھڑ ی ہے کسی کے جسم کا بسترہو جیسے ز میں ز یرِ فلک ایسی پڑ ی ہے کسی سے بے سبب ر بطِ مسلسل عجب قر بت کی یہ لمبی کڑ ی ہے میں خضرِراہ سب کی ہو ں نظر میں چلی جا مو ت پیچھے کیو ں پڑ ی ہےز میں کے ہو نٹ تو پیا…
الأحد, 29 أيلول/سبتمبر 2013 21:59

غزل : نغمہ ناز مکتومیؔ GHAZAL - NAGHMA NAAZ MAKTOOMI

 غزل نغمہ ناز مکتومیؔ دُنیا کی بے نیازی کا چرچا ہی کیوں کریںاپنی انا کو شہر میں رُسوا ہی کیوں کریںتیرے غموں کو ہم نے جو دل سے لگا لیاخوشیوں کو تیرے غم کا مدا وا ہی کیوں کریںہم مطمئن ہیں اپنی وفاؤں سے ہر طرحتجھ سے تری جفاؤں کا شکوہ ہی کیوں کریںکرتا ہے فر ق دونوں میں اک جلوۂ نگاہاہلِ خرد کا ہم بھلا سجدہ ہی کیوں کریںبد نامیوں کا تیری ہمیں خوف ہے فقطتو ہی بتا کہ…
الجمعة, 27 أيلول/سبتمبر 2013 21:24

غزلیں : یوسف دانشؔ

 غزلیں یوسف دانشؔ ہم پہ احساس کا غالب ہے اثر جانتے ہیں ورنہ جینے کے کئی اور ہنر جانتے ہیں ہم کو معلوم ہے دنیا کے مصائب کی روشیہ فقط مفلس و نادار کا گھر جانتے ہیںکیوں اندھیروں سے ڈراتے ہو ہمیں تم یاروپردۂ شب سے ابھرتی ہے سحر جانتے ہیںخود کو اوروں کی نگاہوں سے کبھی دیکھ ذراتو بھلا چیز ہے کیا اہلِ نظر جانتے ہیںگمرہی سے ہی ملا ہے ہمیں منزل کا پتہہم نہ رہبر نہ کوئی راہ…
الإثنين, 02 أيلول/سبتمبر 2013 18:23

شانِ حسینؓ : ناصر ملک

شانِ حسینؓ شاعر: ناصر ملک۔ چوک اعظم (ضلع لیہ) فون: 0302-7844094 اُس جیسا کوئی ایک سخی ہو۔۔۔دُنیا نے اِک سورج مانگاکرنیں چاہیں، رستا مانگاخیموں کی دہلیز پکڑ کرکوئی درس انوکھا چاہاایک زمانہ لرزیدہ سا، شرمندہ سا، ساتھ کھڑا تھامانگ رہا تھادُنیا کا ہر ایک زمانہ ایک تمدن مانگ رہا تھاوہ تہذیب کا بانی لیکن، خیمے کی دہلیز کے اندراپنے رب کو دیکھ رہا تھا، سوچ رہا تھانخلِ جاں سے خون کے قطرے مانگ رہا تھااُس تہذیب کی بنیادوں کو خون…

Latest Article

Contact Us

RAJ MAHAL, H. No. 11
CROSS ROAD No. 6/B
AZAD NAGAR, MANGO
JAMSHEDPUR- 832110
JHARKHAND, EAST SINGHBHUM, INDIA
E-mail : mahtabalampervez@gmail.com

Aalamiparwaz.com

Aalamiparwaz.com is the first urdu web magazine launched from Jamshedpur, Jharkhand. Users can submit their articles, mazameen, afsane by sending the Inpage file to this email id mahtabalampervez@gmail.com, aslamjamshedpuri@gmail.com