شعر و سخن

الأحد, 25 آب/أغسطس 2013 12:49

غزلیں : سہیل ثاقب

غزلیں سہیل ثاقب Dammam, Saudi Arabia مانا مکیں بُرے ہیں مگر گھر برا نہیں ثاقب ہمارے شہر کا منظر برا نہیں جو اپنے ساتھ لے کے گیا تھا ہر ایک شخص اُس کا دلوں میں خوف تھا محشر برا نہیں اس دورِ بے حسی میں یہ حیرت کی بات ہے آئینہ کہہ رہا تھا کہ پتھر برا نہیں الزام خود کو دو جو نہیں بن سکا ہے کام نیت کا ہے قصور مقدر برا نہیں دن بھر تو سم رسیدہ…
الثلاثاء, 30 تموز/يوليو 2013 11:32

حمد باری تعالیٰ : ناصر ملک

 حمد باری تعالیٰ * ناصر ملک * دُنیا کی ہر زبان کا حسنِ ادا وہیاپنا خدا جو آپ ہے ، میرا خُدا وہیاپنا خیال آپ تو اپنا بدن بھی آپپوچھا گیا ’وہ کون ہے‘ دل نے کہا ’وہی‘دستِ عطا سے منظروں کو بھی ملی زباںصحنِ خیال میں نظر آتا رہا وہیکوئی بھی سوچ اُس کا اِحاطہ نہ کرسکیدے کر شعور و آگہی سب پر کھلا وہییوں تو سبھی جہان میں ہیں معترف مگرجو اُس کے عشق میں ہے یقیناًجُدا وہینظمِ…
الأربعاء, 17 تموز/يوليو 2013 10:24

غزل : مشتاق راز

غزل مشتاق راز زباں فروش غضب کا کمال رکھتے ہیں ہوس کا حرص کا لہجے میں جال رکھتے ہیں اُنھیں کو دیتی ہے دنیا سند شرافت کی جو اپنے ساتھ کئی بد خصال رکھتے ہیں کبھی کسی پہ نہیں کرتے طنز کی بارشجو ظرف والے ہیں اتنا خیال رکھتے ہیں غلط کمائی سے ہم پیٹ بھر نہیں سکتے دعا میں حاجتِ رزقِ حلال رکھتے ہیں خدا نے بخشی ہے دولت ہمیں قناعت کی مصیبتوں میں بھی چہرے بحال رکھتے ہیں …
الثلاثاء, 16 تموز/يوليو 2013 15:01

حمد : اجملؔ نقشبندی

 حمد اجملؔ نقشبندی یہ جسم اس کی عطا ہے یہ روح اس کی دینوہ مجھ کو سود و زیاں تولنے نہیں دیتاحفاظتیں وہی کرتا ہے میرے لہجے کیزباں پہ زہر کبھی گھولنے نہیں دیتااسی کے دم سے ہے قائم مری امّید وبیمسزا کے خوف سے وہ ہَولنے نہیں دیتاوہی سمیٹ کے رکھتا ہے مجھ کو اے اجملؔ وہ مجھ سے راز مرا کھولنے نہیں دیتا
 بہار،بادل اور بجلی (تِرے آنے سے پہلے تک کا دورِبے فکر) ناصر ملک ڈائریکٹر: آرٹ لینڈ، گرلز کالج روڈ چوک اعظم چوک اعظم 0302-7844094تِرے آنے سے پہلے زندگی میں غم نہیں تھا، سُناُترتی رات کا بستر سجا کے خواب بنتا تھامِری راتوں کے دامن میں کئی جگنو چمکتے تھےمجھے نامضطرب سوچیں سدا خوش حال رکھتی تھیںمِرے نخلِ فلک پہ سینکڑوں تارے دمکتے تھےفراغت کے مِرے لب پر مچلتے تھے کئی نغمےکہیں بجلی چمکتی تھی، کہیں بادل برستے تھےتِرے آنے سے…
الأحد, 16 حزيران/يونيو 2013 12:24

غزلیں : مظفرؔ حنفی

 غزلیں مظفرؔ حنفی نشاں دیں گے ، نقوشِ پا نہ چھوڑوکچل دے گی ہَوا ، رستا نہ چھوڑوبسائے جارہے ہو شہر پر شہرکہیں جنگل کہیں ویرانہ چھوڑوبھری بستی میں وحشت ناچتی ہےیہاں لاکر کوئی دیوانہ چھوڑواندھیرا تھا تو اتنا بچ رہا ہوںاُجالے میں مجھے تنہا نہ چھوڑوکنارے سے َ چھٹی ِ حس چیختی ہےکہ خطرہ ہے ابھی دریا نہ چھوڑوسبق لو حاشیہ آرائیوں سے بیاضوں کے ورق سادا نہ چھوڑوجدھر دیکھو بگولے اُٹھ رہے ہیںخیالِ طرّۂ لیلیٰ نہ چھوڑوصداقت کی…
السبت, 01 حزيران/يونيو 2013 17:39

غزلیں : فاروق بخشی

 غزلیں فاروق بخشی میں جانتا ہوں مجھے کیسے کیسے پرکھے گاوہ خود اصول بنائے گا خود ہی توڑے گامری انا کی حفاظت اسے نہیں منظور وہ مجھ سے کہہ کے گیا ہے کبھی نہ لوٹے گاابھی سے کیوں ہے چراغاں تمھاری پلکوں پرڈھلے گی رات تو وہ شہر دل سے گزرے گاوہاں وہ بستیاں تاراج کرنے والاپھراکڑ کے کہتا ہے یہ تخت و تاج لے لے گامجھے درختوں کی صحبت نصیب ہے فاروقکسی نے مجھ کو دیا بھی تو کوئی…
السبت, 01 حزيران/يونيو 2013 16:59

غزلیں : نوشاد مومن، کلکتہ

 نوشاد مومن، کلکتہ غزلیںیہ دستور محبت ہے، سنو ایسا نہیں کرتےسرِ محفل محبت کا کبھی چرچا نہیں کرتےجنہیں معلوم ہے شہرت یہاں یکساں نہیں رہتیذرا سی کامیابی پر وہ اترایا نہیں کرتےرہے پیش نظر منزل ، تمنا گر ہے منزل کیسفر ہے شرط تو تھک کر کہیں بیٹھا نہیں کرتےکہیں ایسا نہ ہو زد میں تمہارا سر ہی آجائےبلندی کی طرف پتھر کبھی پھینکا نہیں کرتےجو ممکن ہو نہیں سکتا وہ مومنؔ کردکھاتے ہیںزمانے کے حوادث کی وہ کچھ پروا…
الأربعاء, 15 أيار 2013 11:00

غزلیں : خواجہ جاوید اختر

غزلیں خواجہ جاوید اختر ہے کہاں اب ایسا قد آور کوئیہم سے پہلے تھا شجاعؔ خاور کوئیاِس تناور شاعری کے سامنے ہو نہیں پائے گا بار آور کوئیغور سے دیکھو ذرا اُس شخص کومجھ کو لگتا ہے وہ دیدہ ور کوئیحق و باطل کا کرے گا فیصلہچُھپ کے بیٹھا ہے کہیں داور کوئیکچھ نہ کچھ تو ہے سبب جو آجکلمجھ کو کرتا ہی نہیں باور کوئیمیرے فن کی دیکھنا باریکیاںمیں نہیں ہوں جب کہ پیشہ ور کوئیغزل ہر وقت یہ…
الثلاثاء, 30 نيسان/أبريل 2013 15:08

غزلیں : فرحین اقبال

 فرحینؔ اقبال غزل کرتے ہوئے سجدہ سحر و شام چلے ہیںجب اہل جنون لے کے تیرا نام چلے ہیںشاید کہ میسر ہو طواف در جاناںخوشبوئوں کا ہم باندھ کے احرام چلے ہیںزخموں سے بھرا دل ہے جگر درد سے معمورمحفل سے تیری لے کے یہ انعام چلے ہیںدستور جنون رسم زمانہ سے جدا ہیںارباب خرد ایک روش عام چلے ہیںہے پاس گرفتار یہ خاطر کا یہ فرحینہاتھوں میں ہوائوں کا لئے دام چلے ہیںغزلاب زخم زخم دل کا مداوا کرے…
السبت, 20 نيسان/أبريل 2013 12:54

امید کی کرن....... از : ثمرین پروین

امید کی کرن از :ثمرین پروین یہ دنیا اور مری تقدیر کہتی ہے ۔۔۔۔ وہ میرا ہو نہیں سکتامگر میری انا کہتی ہے، وہ میرے سواشایدکسی بھی اور کا ہو ہی نہیں سکتازمانے میں کسی کی کون سنتا ہے؟یہ دنیا کے نظارے کتنے روشن ہیں!نظاروں کے پسِ منظرکوئی چہرہمگر روشن نہیں ہوتاتجھے ثمرین، ہے خواہش زمانے سے رہائی کیرہائی خودکشی سیہو، کبھی ایسا نہیں ہوتاخود اپنی اس تباہی کے ہیں ذمہ دار ہم سب خودنہیں ہوتا ہے کوئی کامیاب ایمان…
الثلاثاء, 02 نيسان/أبريل 2013 13:55

دُعا.... از: رضواںؔ واسطی، جمشیدپور

دُعا از:رضواںؔ واسطی، جمشیدپور جذبۂ ایماں شوقِ عبادت دے اللہ آمینپھر وہی عزّت پھر وہی عظمت دے اللہ آمیندھوپ بہت ہے تیز گناہوں کی، اورہم نادانجھلس رہے ہیں، سایۂ رحمت دے اللہ آمینصلوٰۃوصوم وحجّ و زکوٰۃاب بھی ہیں ہمارے پاسبے جاں جسم میں روحِ عبادت دے اللہ آمینپتہ نہیں ہم آج کہاں ہیں ،ہوگاکیا انجام؟شافعِ محشر کی تو شفاعت دے اللہ آمینمانگ رہے ہیں پھر وہی نورِایماں، جلوۂ طورہم پروانۂ شمعِ رسالت دے اللہ آمینکیوں تیرے محبوب کی اُمّت بنی…
الأحد, 31 آذار/مارس 2013 15:57

غزل : تاباں واسطی

غزل تاباں واسطی مری زندگی کے ورق ورق پہ ہے تیرا نام لکھا ہوامرے ہر نفس میں اے جانِ جاں ہے ترا نفس بھی گھُلا ہواہے تُجھی سے رونقِ انجمن، تو ہی میری جاں تو ہی میرا منمری آرزو کے چمن میں ہے تو ہی ایک پھول کھِلا ہوامری سادگی کی ہر اک ڈگر پہ ہے حسنِ ناز و نیاز توتری دوستی کا بھرم ہے یہ کہ چراغ ہوں میں جلا ہواترے لمس کی وہ لطافتیں ہیں مرے دِماغ کی…
غزلیں محمد قسیم اخترؔ ، پورنیہ (بہار) ہم زمیں پر آسماں کے نور ہیں سر بلندی ہے مگر مجبور ہیں کروٹیں لیتے ہیں بستر پر اَمیر چین سے سوتے ہیں جو مزدور ہیں دل میں جذباتِ کلیمی چاہیےریت کے ذرّات کو ہِ طور ہیں آسمانوں سے اُتر کر دیکھیے فرش والے کس قدر رنجور ہیں ہم وفا اور وہ جفا کرتے رہےحسن والوں کے یہی دستور ہیں ہے تباہی بھی انہیں کے ساتھ ساتھاس جہاں میں جو بہت مشہور ہیں …
غزلیں اشرف علی اشرفؔ ، جمشید پور (جھارکھنڈ) زخم جب جب بھی مرا تم کو دکھائی دے گا پشت پہ کس نے کیا وار گو اہی دے گا بے وفا دیکھ ذرا دل میں اتر کر میرےہر طرف درد بھرا نغمہ سنائی دے گا حسن والے کا تو انصاف جدا ہوتا ہے قید مانگو گے اگر تم تو رہائی دے گا نیک کردار ، عمل اور وفا کا پودا کوئی موسم ہو مگر سبز دکھائی دے گاکوئی دے یا نہ…
الجمعة, 15 آذار/مارس 2013 22:23

لوری : ناصر ملک

لوریایک زلزلہ زدہ لڑکی کے منظوم الفاظ ۔۔۔ ناصر ملکڈائریکٹر: آرٹ لینڈ ۔ گرلز کالج روڈ چوک اعظم۔ ضلع لیہفون: 0606-372557 چلو اِک بار پھر سے ہماجل کے سرخ پنجوں سے نکل کے زندگی اَوڑھیںیہ مٹی اپنے پیاروں نے لہو سے گوندھ رکھی ہےاِسی مٹی میں پتھروں کو پَرو کر ہم نئے گھر کی بنا ڈالیںچلو ماضی کی یادوں میں نیا سپنا سجا ڈالیںانہی سنگلاخ پتھروں نے مرے ’’بابا‘‘ کو نگلا ہےاِسی ملبے نے میری ’’ماں ‘‘ کو مجھ سے…
الجمعة, 15 آذار/مارس 2013 16:33

غزلیں : ڈاکٹر سرور ساجد

غزلیں ڈاکٹر سرور ساجد جو اب تک ہو نہیں پایا وہی اک کام ہونا چاہیے تھادیارِ و دشت میں اک ربط باہم عام ہونا چاہیے تھاعجب فرضی سی اک پختہ خیالی کی اذیت میں گھرا ہےاگر دل ہے تو اس میں کچھ خیال خام ہونا چاہیے تھاقدم کی کامیابی سرحد پستی کو روشن کر رہی ہےبلندی کی ہوس تھی تو مجھے ناکام ہونا چاہیے تھاتعجب ہے کہ دل کی بے کلی کچھ اور بڑھتی جا رہی ہےملن کے بعد اس…
الخميس, 28 شباط/فبراير 2013 21:43

غزلیں : احمد بدرؔ

مہتاب صاحبعالمی پرواز کی بلند پروازی اور سر بلندی کی نیک خواہشات کے ساتھ دو غزلیں پیش خدمت ہیں۔شامل کر لیجیے تاکہ میں بھی اڑان بھر سکوں۔احمد بدرؔ شعبۂ اردو کریم سٹی کالج غزلچہرہ بھی پتھر لگتا ہے آئینے سے ڈر لگتا ہےگھر گھر میں ویرانی ا یسی صحرا صحرا گھر لگتا ہےشاخوں پر غنچے دیکھوں تو ہاتھوں میں خنجر لگتا ہےمردہ سانسوں کی صحبت میں جی پانا دوبھر لگتا ہےدل کی بے چینی میں مخمل کانٹوں کا بستر لگتا…
الأربعاء, 13 شباط/فبراير 2013 15:48

غزلیں : یوسف دانش

غزلیں۔۔۔ یوسف دانشزمیں کو آسماں سے با خبر ہونے نہیں دیتایہ شیطاں آدمی کو معتبر ہونے نہیں دیتاملاقاتوں سے طئے کرتے رہے ہم فاصلہ لیکنیہ کیسی بے بسی وہ دل میں گھر ہونے نہیں دیتایہ نفرت جو دلوں میں غم کی بارش روز کرتی ہےوہ صحرا ہے جو الفت کا شجر ہونے نہیں دیتاوہ اب ناکامیوں سے خوف کھاتا ہے اسی خاطرمری اچھائیوں کو مشتہر ہونے نہیں دیتاتماشے بد نصیبی کے توقدرت ہی دکھاتی ہےہر اک موسم درختوں میں ثمر…
الإثنين, 11 شباط/فبراير 2013 11:43

غزلیں : مشتاق احزنؔ

غزلیں مشتاق احزنؔ انا ہی جس نے زمانے میں بیچ دی ہوگی اسی کی گود میں دنیا کی ہر خوشی ہوگی بچا کے رکھنا اجالوں کو اپنے دامن میں تمھارے گھر میں کسی روز تیرگی ہوگی کوئی تو شب کے سفر میں رہے گا ساتھ مرے کسی کی شمعِ محبت تو جل رہی ہوگیوہی تو ہوگا سبب انتشارِ ملّت کا وہ جس نے ہاتھ سے رسّی ہی چھوڑ دی ہوگی جسے زمانہ بڑا پارسا سمجھتا تھا اسی کی ذات سے…

Latest Article

Contact Us

RAJ MAHAL, H. No. 11
CROSS ROAD No. 6/B
AZAD NAGAR, MANGO
JAMSHEDPUR- 832110
JHARKHAND, EAST SINGHBHUM, INDIA
E-mail : mahtabalampervez@gmail.com

Aalamiparwaz.com

Aalamiparwaz.com is the first urdu web magazine launched from Jamshedpur, Jharkhand. Users can submit their articles, mazameen, afsane by sending the Inpage file to this email id mahtabalampervez@gmail.com, aslamjamshedpuri@gmail.com